videos.rehan.com

Why Rehan Allahwala Wears Same Dress Everyday? ریحان اللہ والا روز ایک ہی جیسا لباس کیوں پہنتے ہیں؟

videos.rehan.com/why-rehan-allahwala-wears-same-dress-everyday-2984:54Urdu4 views↗ Watch on YouTube

Rehan Allahwala is seen wearing the same dress, Shalwar and Kameez. In this video, Rehan Allahwala explains why he does so. How abandoning the norm of choosing clothes every morning has helped him save a lot of his time and energy, and allowed him to make more space in his mind t…

Transcription

Urdu

جی اسلام علیکم میرے نام ریحان اللہ والا ہے آج کی نصر نے سوال بھیجا ہے کہ آپ روز ایک جیسے کپڑے کیوں پہنتے ہیں ہم لوگ زیادہ تر ایسی چیزیں کرتے ہیں جس سے لوگ ہمیں تعریف کریں لوگ خوش ہوں لوگ دیکھیں لوگوں کے چکر میں ہم نے اپنی زندگی گزار دیئے اگر آپ ایک جیسے روز کپڑے پہنیں گے تو اسے یہ ہوگا کہ لوگوں کی ایکسپیکٹیشن آپ سے ختم ہو جائے گی کہ آج کون سے کپڑے پہنے ہیں تو میرے لئے بھی آسانی ہو جاتی ہے کہ میں روز اگر ایک ہی جیسے کپڑے پہن لیتا ہوں میرے پاس ایک جیسے یہ جو میں کمیش چلوار پہنا ہوں اسی جیسے پانچ جوڑے ہیں میں نے ایک دفعہ یہ لیا مجھے اچھا لگا میں نے پانچ اور مانگا لیا اور یہ اس برینڈ کے ہیں کہ میرے پورے پاکستان میں کہیں بھی میں جاتا ہوں کم بھی بڑھ جاتے تو میں جاتا ہوں میں ان سے دکان جاتا ہوں ان سے دو اور خرید لیتا ہوں اسی طرح کے exactly same تو مجھے یہ بھی پریشانی نہیں ہوتی کہ میں آج کونسا کپڑے پہنوں یا یہ کہاں سے ملے گا تو میں بہت خوش ہوں جب سے میں نے یہ finally فیصلہ کیا ہے کہ میں نے ایک ہی جیسے کپڑے پہننے اور وہی چوڑا روز پہن لیتا ہوں پاکستان کے جو national dress ہے کمیش علوار ہے تو وہاں پہ کمیشل وار لوں گا سمجھ میں نہیں آتا اس لیے ہم پھر پتلون پہنتا ہوں یا سوٹ پہنتا ہوں پرسنلی سپیکن اگر مجھ سے کوئی پوچھا جائے کہ آپ کو کیا پہننا پسند ہے تو میرے گھر میں میرے کاؤٹن کے پجامے ہوتے ہیں وہ اور ٹی شرٹ یا کرتہ that's my favorite کپڑے کیونکہ میں بلکل اس میں relax ہوتا ہوں comfortable ہوتا ہوں لیکن باہر ویڈیو پہ سامنے آتے ہوئے بزار جاتے ہوئے مجبوری ہے کہ کپڑے مناسب ہونے چاہیں تو اس لئے میں روزانہ ایک ہی پہنتا ہوں اس سے مجھے صبح اٹھ کے یہ نہیں سوچنا ہوتا کہ آج میں نے کیا پہننا ہے وہ دو منٹ چار منٹ پانچ منٹ میری زندگی کے بچ جاتے ہیں اب اگر آپ اس کو اکیومیلیٹ کریں آپ اگر صرف پچاس سال زندہ رہیں گے پانچ سال کی عمر سے آپ نے یہ فیصلہ کر لیا تو پیتالیس سال میں کتنے پانچ منٹ آپ بچائیں گے بہت سارے بچ جاتے ہیں تو جیسے موبائل میں فالتو ویبز ہیں ان کو ڈیلیٹ کر دیں تو موبائل تیز ہو جاتا ہے اسی طرح دماغ کے اندر فالتو کام نکال دیں کہ یہ بھی نہیں کرنا ہے یہ بھی نہیں کرنا ہے سوچنا ہی نہیں ہے exactly same balanced nutrition جس سے آپ صحت مد رہے ہیں تو کیا ہوگا کہ آپ صرف اتنا کھائیں گے جتی بھوک ہوگی ابھی ہم کیا کہتے ہیں چسکے لینے کے لیے کھانا کھاتے ہیں کھانا کھانے کے لیے کھانا نہیں کھاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے تون نکل آتی ہے ہم بیمار ہو جاتے ہیں ڈائیبیٹیز ہو جاتا ہے ٹانگوں کی بیماری ہو جاتی ہیں حالی میں میں ایک صاحب سے ملا ان کی عمر 85 سال تھی دیکھنے میں مجھ سے ینگ لگ رہے تھے 85 سال دیکھنے میں مجھ سے ینگ لگ رہے تھے تو مجھ سے پوچھا کہ آپ کیسے ہیں ایسے کہتے ہیں کہ میں دن میں صرف ایک دفعہ کھانا کھاتا ہوں اور ایک روٹی اور دوپہر کو میں کچھ کچھی سبجیاں کھا لیتا ہوں صبح کو صرف پانی پیتا ہوں اور یہ میرا روٹین ہے میں نے کہا بیمار کتنی دفعہ ہیں کہتے کبھی بیمار نہیں ہوا تو یہ ایکسیپشنل کیس نہیں ہے یہ جس سے بھی میں ملتا ہوں جو کچھا کھانا کھاتا ہے یا کم کھانا کھاتا ہے وہ صحت کا راز ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی ہے کہ جتی بھوک ہو اس سے تھوڑا سا کم کھانا کھانا چاہیے تو اگر ہم اپنے اندر سادگی اختیار کر لیں تو ہمارے بہت سارے مسئلے کم ہو جاتے ہیں تو یہ ایک مسئلہ ہے کپڑوں کا جو میں نے اپنے زندگی سے کم کر لیا ہے exactly same genes exactly ہر روز پہنتے ہیں ملٹی بلینئرز تھے ایک چلے گئے ایک ہیں سو بلین ڈالر سے زیادہ کے مالک ہیں جو چاہے خرید سکتے ہیں لیکن سادگی اختیار کرتے ہیں کہ جینز اور ٹی شرٹ ایک ہمارے بہت زبردست مسلمان ہمارے پیارے بھائی تھے بنگلہ دیش کی جنہوں نے براک بنایا تھا بی آر اے سی دنیا کی سب سے لارجس والنٹی آر ایجنیشن ہے تو انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ مجھے سٹیو جاپ نے گھر پر کھانے بھی بلایا تو میں گیا تو وہاں کوئی فرنیچر نہیں تھا گھر میں کوئی فرنیچر نہیں تھا سمپل سیٹ ٹیبل تھی اس پہ ہم نے بس بیٹھ کے کھانا کھایا حالانکہ اگین وہ پھر ملٹی بلینئر تھا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا یہ جو کلاتر ہے دماغ کے اندر جو ہمیں اپنے اصل خوابوں سے تک جانے نہیں دیتا وہ ہمیں روک دیتا ہے میں یہ کر لوں میں یہ کر لوں چھوٹے چھوٹے وائرسز نکل آتے ہیں کھٹمل کی طرح ہمیں کٹتے جاتے ہیں اور ہم اصل دیسٹینیشن تک نہیں پہنچ پاتے ہیں تو اگر آپ اپنی زندگی سے فالتو چیزیں ڈیلیٹ کر دیں جیسے کہ آج کیا پہننا ہے سبوٹ کے تو یہ بہت ساری چیزیں آپ کی زندگی کی آسان ہو جائیں گی شکریہ اسلام علیکم