videos.rehan.com

Tour of Rehan School Islamabad Campus to Maulana Zia Sahib

videos.rehan.com/tour-rehan-school-islamabad-campus-maulana-zia-sahib-420:53Urdu6 views↗ Watch on YouTube

Tour of Rehan School Islamabad Campus to Maulana Zia Sahib What happens when traditional scholarship meets future technology? In this special visit, Maulana Zia Sahib tours the Islamabad campus of Rehan School to see how education is being reimagined. This is not a typical sch…

Transcription

Urdu

اس کے بعد ان کو آرٹیفیشن انٹیلیجنس، اے آئی چیٹ جی پی ٹی وہ سکھانا شروع کر دیں گے جس کے ذریعے اس سے باتیں کریں گے، روز کہانیاں بنائیں گے اور اس کے بعد اس نے اس سال میں پانچ ہزار روپے مہینہ کمانا ہوتا ہے اور اپنی فیس خود دے کرنے ہوتی ہے آٹھویں میں اس نے ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچنا ہوتا ہے یقیناً یہ جیسے آپ نے ابتدا بتایا، ابتداان بات کی کہ یہ بے روزگاری انسان کو بہت سارے غلط کاموں کی طرف یہاں تک کے کفر تک بھی لے جاتی ہے سکول کی دھولائی صفائی جیسے مدرسہ میں ہوتی ہماری ہمی کی ٹوائلٹ تک دونہ ہے اور اس کی ویڈیو بنا کے فیس بک پہ لگانی ہے لیکن بیزتی کا ڈر ختم ہو جائے صرف اللہ کی پشنودی کے لیے وہ کام کریں آپ کا بول یہ ہے کہ آپ نے ایک کروڑ لوگوں کی خدمت کرنی ہے باروی سے پہلے تو اس نیت کے اوپر اس نے پڑھنا کیا ہوگا اگلے آٹھ سال صرف پانی کا مسئلہ کیسے ٹھیک کرنا ہے لوگوں کو سمجھ نہیں آتا ہے پیسے کیسے آئیں گے پیسے ویسے ہی آئیں گے جیسے ابھی آتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ کسٹمر چینج کرنا ہے اسلام علیکم آج ہم میں بہت خوش ہوں آہ اللہ تعالیٰ سے میں دعا کر کے مسجد کی طرف گیا تھا کہ آج کوئی سے لوگوں سے ملاقات تو امام مسجد سے ملاقات ہو گئی بہت ہی علمی آپ کو تینک کریں اور یہ ہمارے سکول کے برابر میں مسجد ہیں اور یہ وہاں کے امام ہیں اور یہاں مدرسہ بھی چلاتے ہیں ملانا زیہ صاحب آئے میں آپ کو سکول کی تھوڑا سا شیئر کراتا ہوں آپ نے سکول بہت دیکھی ہوں گے جی ہے آہ وہ چیز کو بھی دیکھیں آئی تو میں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا ہے کہ ہم نے مجھے جو کچھ چاہتا ہے میں سکھا دوں اور میں کیونکہ کاروباری خاندان سے ہوں تو مجھے پیسے بنانا تھوڑے بہت بچپن سے سیکھے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ دوسرے لوگ بھی سیکھیں تو ہم نے ایک ایسا سکول بنایا جہاں پھر میٹھ سائنس انگلیش کرائیٹیریا نہیں ہے بلکہ آمدن کرائیٹیریا اگر ہم سوچیں کہ لوگ اچھے سکولوں میں کیوں بھیجتے ہیں جا کے اچھے کالج چلے جائیں اچھے کالج بھی بھی جائیں اچھے انرسٹی بھی چلے جائیں اچھے انرسٹی بھی بھی جائیں جا کے تھوڑے پیسے اچھے بن جائیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بچے کو بچپند سے کیوں نہ اس کی ترغیب جلائی جائے کہ وہ پیسے کمانا بھی ساتھ ساتھ علم کے حاصل کرے تو اس اسکول کے اندر ہم چوتھی میں بچے وہ لیتے اس میں اس کے کمپیوٹر لیپٹاپ دیتے ہر بچے کو اس کے بعد اس نے جیسے آپ کا بیٹا اس کی عمر ہے کیا ہے سات سال ہے آٹھ سال دس سال تو یہ اگر یہاں آئیں گے تو ان کو لیپٹاپ ملے گا اس پہ پہلے گیم کھلیں گے جاکہ ان کو کی بورڈ چلانا چلانا لیکن سب کے سامنے کھیلیں گے اور ایسے گیم نہیں کھیلیں گے جس کے ذات شر ہو کوئی بھی بندوق والا گیم نہیں الاوہ تو رو بلوکس ایک گیم ہے جس میں بچوں کو چیزیں بنانی ہوتی وہ کھیلیں گے لوڈو کھیلیں گے چیس کھیلیں گے شطرنج کھیلیں گے جس سے زمانتیز ہوتا ہے اس کے بعد ان کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اے آئی چیٹ جی پی ٹی وہ سکھانا شروع کر دیں گے جس کے ذریعے اسے باتیں کریں گے روز کہانیاں بنائیں گے آہ عربی پڑھیں گے روزانہ یہ انگریزی سیکھیں گے ایک سال جب گزر جائے گا اس کے بعد پھر مزید ایڈوانس کلاسے ہوں گی اور اس کے اندر ان کو وہی چیزیں اب اچھی کالٹی کی کرنی ہوں گی پہلے سال جو نرسری ہوتی ہے اس میں ہم زیادہ ٹوک ٹاک نہیں کرتے Excellence اسی طرح سے اس نے اگلی جماعت میں جانے ساتھوی جماعت میں جانے تو پچاس ہزار کمانا سکھاتے ہیں پچاس ہزار سکول کے پچاس ہزار بچے کے تو بچہ پچیس ہزار مہینہ اگر لینے آنا شروع ہو جائے ساتھویں کا تو اس ملکہ مدرسوں کا حال کیا ہوگا ہاتھویں میں اس نے ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچنا ہوتا ہے آدھے سکول کے آدھے مدرس ہیں اس کا فائدہ کیا ہوگا کہ اگر آپ کے پاس صرف سو بچے ہیں اور آپ ان کو اس تین چار سال کے پروسس سے گزار لیں تو ایک مہینے کے سات کروڑ سات کروڑ اوپر آپ کو مہینہ بچے سے آنا شروع ہوگا صرف سو بچوں سے اور ہم ان بچوں کو تین گھنٹے ایکسٹرا رکھتے ہیں اس تین گھنٹے میں انہوں نے جہد اور کوشش کرنی ہوتی ہے اپنی اس آمنی حاصل کرنی ہے یہ نہیں کہ سارا دن لیبر میں پڑھے باقی ٹائم اس نے ٹیکٹس ریائی اور چیزیں سیکھنی ہے اس نے کوڈنگ سیکھنی ہے کمپیوٹنگ کی سافٹر بنانا سیکھنا ہے اس نے ویڈیو ایڈنگ سیکھنی ہے اس نے روزانہ آنے کے بعد صبح آدھا گھنٹے مرافقہ کرنا ہے جاکر دماغ صدرس رہے پھر یہاں پر یوگا کرنا ہے جاکر جسم توانا رہے پھر سکول کی دھولائی صفائی جیسے مدرسوں میں ہوتی ہماری ہوتی ٹوائلٹ تک دھولایا اور اس کی ویڈیو بنا کے فیس بک پہ لگانی ہے جاکر بیزدی کا ڈر ختم ہو جائے صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے وہ کام کریں یہ نہ ہو کہ جی میری کوئی بیزدی ہو گئی تو یہ اس سکول کی کوشش ہے پانچویں جماعت میں ہم اس کو ایک والا والی کا کانسپٹ ہمارا ہے کہ اس ملک میں سو ایسے مسئلے ہیں جو کہ دس کروڑ لوگوں کا ہیں تو آپ کا گول یہ ہے کہ آپ نے ایک کروڑ لوگوں کی خدمت کرنی ہے بارویں سے پہلے اور اپنے لئے اٹھائیس کروڑ روپے کمانے ہیں بارویں تک کہ ثواب ملے گا تو کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا نام محمد ہے تو محمد وعدہ کر لیں کہ میں پرامس کرتا ہوں عزیزیہ صاحب کی اجازت سے کہ میں اپنی زندگی پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے وفق کرتا ہوں اس بلک کے تو اللہ تعالیٰ تو نیت پر ثواب دیتے ہیں تو اس نیت کے اوپر اس نے پڑھنا کیا ہوگا اگلے آٹھ سال صرف پانی کا مسئلہ کیسے ٹھیک کرنا ہے وہ کیسے حل گیا مجھے تو نہیں آتا ٹھیک کرنا میں نے ٹھیک کر چکا ہوتا میں کیا کرتا ہوں سال میں دو سال اس کو پاڈکاس کرنی ہوتی ہے میں آپ کو دکھاتا ہوں کیسے اس سکول میں اس طرح کے تین سٹوڈیو ہیں تو شروع سال میں محمد کیسا رہے بیٹھ کے دیکھو مزا آرہے ہیں ایک سو دفعہ اس نے بچوں کے ساتھ آپس میں آدھا گھنٹا انٹرویو کرنے آدھا گھنٹا دینے آدھا گھنٹا لینے جائے کہ زبان ٹھیک ہو جائے اس کے بعد اس نے آہ انگریز ڈونڈ کے دیتے ہیں اس کو پچاس انگریزوں کے ساتھ اس نے انٹرویو کرنے تو اس کے اندر کانفیڈنس آتا ہے میں تو کسی سے بات کر سکتا ہوں میں تو سرالہ کر رہا ہوں اور اس کے بعد اگلے سال سے اس نے صرف پانی کے لوگوں کا انٹرویو پڑھنا ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو وف کر دیا پانی کے لئے تو اس نے ایکسپرٹس پانی کے ڈھوننا ہم سکاتے ہیں کہ آپ ان کو پکڑو ان سے علم لو اگلے سال پھر یہ دو سو لوگ پھر اگلے سال پھر یہ دو سو لوگ تو اس کے جو نیٹورک کے دوست ہیں احباب ہیں وہ سارے پانی والے ہوتے ہیں تو اب جہاں وہ فستا ہے وہ بولتا ہے کہ حضیح صاحب درہا بتا دیں آسمہ صاحب آپ بتا دیں فرکان صاحب آپ بتا دیں کہ اس کو حل کیسے کرنا ہے تو وہ گائیڈ کرتے ہیں کہ اس کو حل کیسے کرنا ہے پھر اسی سے ریلیٹڈ اس نے کاروبار بنانا ہے نائنٹ میں جیسے پرویس صاحب سکھاتے تھے اور اسی کاروبار کو پھر بیچ دینا ہے کم سے کم سو کروڑ میں یا پچاس کروڑ میں پھر اس نے آدھا سکول کو دینا ہے آدھا خود رکھنا ہے اور جس طرح ہم بچی نہیں بھی آتے اگر رشتہ اچھا نہ ہو تو جب تک اس بچے کی ٹارگٹ پورا نہیں ہوتا ہم اس کو اپنے پاس رکھتے ہیں کہ تم ابھی رہو ابھی تم کچھے ہو چینج کرتے ہیں بزنس کو ٹھیک ہو جائے گا تو ایسا نہیں ہے کہ نکال کے باہر گیا جاؤ کام جنڈو نہیں ہم اس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں آئیے میں آپ اچھیے دکھاؤں محمد آجاؤں بٹیاں کھول دی گا زیادہ بھائی یہ روب لفز کا روم ہے گیم روم ہے یہ گیم ہے جس کو بچے روزانہ ایک گھنٹہ کھیلتے ہیں جاکے ان کی کمپیوٹر چلانا کی ایکسپٹیز جو وہ اچھا ان کو مزہ آئے گا نا اگر تو ہی کہیں گے مجھے اس پاپا سکول جاہاں ہے اگر مزہ نہیں آئے گئے ہیں یار کاف ساتھی ہیں. یہ مری کی ہیں اور یہ کہاں کی ہیں یہ یہ بھی مری والی ہیں یہاں پر ففٹی پرسنٹ بچے باہر سے آئے ہیں. جی. کوئی لہیہ سے آیا ہے کوئی ڈی جی خان سے آیا ہے کوئی ڈی آئی خان سے آیا ہے کوئی اپٹا بات سے آیا ہے. یہ بھئی معلومات ہوئی تھی وہ لوگ کرائیوں پہ مکان لے رہے تھے نا جب. ہاں ہاں. کسی سکول کی وجہ سے. جی جی بہت سارے لوگ. پھر یہ اگین سکول کا وہی گیم روم ہے گیم کھلنے کا گوئی یہ جو ہے یونائٹڈ نیشنز کے اسیمبلی ہے ان کے اندر جیسے جیسے بچے بڑے ہوں گے ہم ان کی فوٹو ہمارے بچوں کی لگائیں گے کہ آپ نے یونائٹڈ نیشنز میں جا کے دنیا کو آپ نے آہ سرخو کرے اقبال کا تو اس اسکول میں ہم وہ ساری چیزیں بھی پڑھاتے ہیں ایک گھنٹہ آدھا گھنٹہ کہ تم نے بطیاں خود ٹھیک کرنی ہے بٹن خود ٹھیک کرنی ہے پلمن خود ٹھیک کرنی ہے تھوڑا تھوڑا سا ایک کام آنے چاہتے ہیں اور کھانا پگانا بھی ہفتے میں ایک دفعہ سیکھنا ہوتا ہے یہ نہیں کہ جی اممہ کو سارا کام دے دیا جاکہ اس کے اندر جب وہ ملک سے باہر جاتے ہیں تو اکثر بچوں کو بشکل آتی ہے کہ وہ کھانا پگانا نہیں آتا چائے بنانا تک نہیں آرہی تھی میں نے بھی نہیں آ دی تو آہستہ آہستہ وہ ساری چیزیں میں نے دل سکتے ہیں موسیقی سلام علیکم کیسے ہیں آپ یہ جو کمرہ ہے اس کی تھیم جو ہے وہ سپیس شپ کی معنی ہے کہ اقبال کا پھر شیر ہے کہ ستاروں سے آگے جہان اور بھی ہیں تو یہ پرنسپل کا کمرہ ہے یہیں سر ہمارا دماغ کی ہم ٹوننگ کرنے کوشش کرتے ہیں کہ آپ نے ستاروں سے آگے جانا بھائی یہ دنیا تو اب تنگ کرنے بھی جگہ ہے آگے نکلیں آگے کی طرف سلام علیکم تو نارمل کمرے سے رکھیں کہ جو ماحول ہے اس سے ریفنیٹلی اثر آتا ہے تو یہ جگہ ہے اور میں آپ سے دعاوں کی درخواست بھی کروں گا بچوں کی درخواست کروں گا کیونکہ اس کو میں ساڑھے تین سال سے فیزیکلی بنا رہا ہوں دماغ میں تقریباً پچیس سال سے بنا رہا تھا تو اب یہ زمین پر آگیا ہے لینڈنگ ہو گئی ہے ساڑھے دین سو بچے ہیں میں پاس گیارہ کیمپس ہیں لیکن ہمارے پاس مزید بچوں کی بہت گنجائش ہے اس کے علاوہ ہم نے ٹیچر اساتذہ کی ٹریننگ کا پروگرام بنایا ہے کہ یہ سسٹم آپ کے مدرسے میں فورٹی فائیو میرنٹس اے ڈے کے ساب سے آپ لگا سکتے ہیں اگر آپ کتاب مجھے کوئی لادے اسمہ ایسی سی ایل کی اور ٹیچر ٹریننگ کی تو اس کتاب کو صرف 35 منٹ لگانے سے آپ کے بچوں کے awareness بڑھنا شروع جاتی ہے چاہیے LGBT کی ویڈیو ایڈٹنگ کی کانفیڈنس کی بہت بڑھ جاتی ہے جیسے آسما آپ کے باس کوئی بچہ ہے اس سائز کا چھوٹی ان کے بچے ہیں کوئی اور جو ان سے ہی گفتگو کر سکے ہشام کون ہے بیٹا یہ کتاب ہے جو آپ مدرسے میں سکولوں میں لگا سکتے ہیں اور یہ 35 منٹ سے دیکھ کے لیے بنائی گئی ہے جس کے اندر یہ جتی بھی چیزیں میں نے بتائیں اس کی awareness basic ہے یہ بلکل literacy nursery کی کداوے اس کے بعد تقریباً 8 سال کا ہمارا اپنا curriculum ہے جو ہم بنا رہے ہیں تم بیٹا کہاں سے مو ہوئے ہو میں چکوال سے یہ چکوال سے ادھر آ کے رہ رہے ہیں یہ ایپٹاباد سے آ کے رہ رہے ہیں یہ مولانا تارک جمیل کے علاقے سے مو ہوئے ہیں تو مدرسے کے حالات بہت چینج ہوتے ہیں ابھی ہم خامخاہی کے اندر پریشان رہتے ہیں اور عمر کیا چاہیے اس سال سے کا عمر چاہیے تو ان کے بچے آٹھ سال کے ہیں میں گزارش کروں گا حضرت سے کہ آپ کے پاس لے کر آئیں نہیں آتا لیکن وہ آٹھ مہینے سے یہاں ہیں اب ان کی جو زبان کی لکنت ہے وہ سب ماشاءاللہ چلی گئی ہے تو مجھے بہت خواہش ہوگی کہ یہ ٹیکنالوجیز سے اگر ہم فائدہ نہ اٹھائیں اور آج بھی عمرہ حج کرنے گھوڑے پہ جائیں تو بہت دیر سے مہنچیں گے چلے ماشاءاللہ کیسا لگا آپ کو حاضری ہوئی اللہ تعالیٰ کیا سمجھا میں چاہوں گا کہ آپ بتائیں کہ سمجھ کے آئے کیونکہ بہت زیادہ فرق ہے تو پہلی بات تو یہ میں آپ سے عرض کروں گا کہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے خیر الناس من ینفع الناس بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کے نفع کے لئے سوچے یقینا یہ جیسے آپ نے ابتدا بتایا ابتدا بات کی کہ یہ بے روزگاری انسان کو بہت سارے غلط کاموں کی طرف یہاں تک کے کفر تک بھی لے جاتی ہے تو اس کو سوچنا لوگوں کے فائدے کے لئے سوچنا یہ بڑا کار خیر ہے ہم نے جو مفتی رفی عثمانی صاحب رحمت اللہ علیہ مفتی تقی عثمانی صاحب سے پہلی حدیث پڑھی وہ یہ کہ الرحمن یرحمہم الرحمن کہ رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے ارحم من فی اللہ یرحم کم من فی السما تم زمین والوں پر مہربانی کرو آسفان والا تم پر مہربانی کرے تو یقینا آپ سے ملاقات سے یا بعض آپ کی کچھ ویڈیو وغیرہ دیکھنے سے ایک تو یہ پہلو کہ لوگوں کے بارے میں اچھی خواہش ہے باقی چونکہ اے آئی سے متعلق بنیادی طور پر تو اتنی معلومات میری نہیں ہے لیکن کچھ کچھ آج آپ سے ملاقات کے بعد اندازہ ہوا کہ اس کے ذریعے سے اس کو بہت اچھا استعمال کر کے آدمی آج کے زمانے میں اپنی ضرورتیں پوری کر سکتا ہے تو آپ سے مل کر خوشی ہوئی اور آپ کے اس جذبے نظریے اور سوچ کو اللہ تبارک و تعالی مبارک فرمائے یقیناً کہ زمانے کے احوال کو جاننا اور زمانے کے ٹولز کو زمانے کے جو ہتھیار ہیں ان کو جاننا یہ بڑی ضروری چیز ہے جو آدمی ان چیزوں کو نہیں جانے گا تو ہم پیچھے رہ جائیں گے تو ہر زمانے کی ضرورتوں کو مسلمانوں ہی نے جو بہت ساری آج دنیا استعمال کر رہی ہے پہلے بھی مسلمان ان فیلڈ میں آگے ہوتے تھے بلکہ بنانے والے ہوتے تھے اب ہم نے چھوڑ دی دوسرے بنا رہے ہیں تو یقینا آپ اب جیسے آپ اس لائن میں آگے بڑھ رہے ہیں تو جو آپ کی سوچ ہے کہ لوگوں کو اس سے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں یقیناً میں اس سے آج خوش ہوا ہوں آخر اور بہت بلکہ آج سے کئی سال پہلے جب آپ نے یہ بلڈنگ خریدی تھی تو پرویس صاحب نے اس کا تذکرہ کیا تھا میں اس ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا آپ کو انہوں نے فون بھی کیا تھا کہ آپ نے سنا تو لیکن میں نے میں آپ کی وجہ سے ہی خریدی یہ میں نے بالکل صرف اس لیے کہ وہ بیرے پڑوسی میں ان کے ساتھ تھا اس وقت سے تھا کہ اندر جا کر دیکھیں تو سی بار بورڈ لگاوا ہر پاکستانی ایک لاکھ کمائے تو کیسے کمائے گا میں آپ اس کا طریقہ بتاتا ہوں ہوتا ہے یہ ہے کہ آج کل آپ نے دیکھا ہے بہت سارے لوگ قرآن شریف انٹرنیٹ پر پڑھا رہے ہیں اور رات کو یہ روزانہ ابھی بھی قرآن پڑھاتے ہیں سعید بھائی آپ کی انکم کیا ہے قرآن پڑھا کے ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب بنا لیتے ہیں فرق صرف یہ ہوگا کہ یہاں پیسے کم ہیں تو وہاں پیسے زیادہ ہیں تو وہاں کا کسٹمر آپ نے ڈھونڈنا ہے ہم کیا کرتے ہیں کہ ہم ان بچوں کو تیار کرتے ہیں کہ آپ نے شاگردی کرنی ہے جیسے مثال کے طور پر میرا بچہ بڑا ہو رہا ہے میں کہوں گا یا سامنے دکان پر جا کے دو گھنٹے بیٹھا کرو اور انکل سے کہوں گا انکل اس پر ایک کھانا جو کھا رہے ہونا ایک پلیٹ تم بریانی کی کھلا دیا گو بلکل ہی کام ہم انکل ٹوم انکل ڈک انکل ہیری جو امریکہ میں رہتے ہیں ان کو کہتے ہیں انکل تین گھنٹا بچہ آپ کے ساتھ بیٹھے گا آپ جو بولیں گے وہ کام کرے گا وہ اس کو چھو بھی نہیں سکتے کیونکہ انٹرنیٹ پر ہے دوسرا تو کوئی فیزیکل انٹیمیسی والا معاملہ ہے دوسرا اس کو کہتے ہیں ایک کلٹ بریانی کی آپ درست دوسرے لادی گا وہاں بریانی دوسرے روپے کی نہیں آتی وہاں دس ڈالر کی آتی جو کہ وہ جاتے ہیں تین ہزار روپے تو اب وہ دس بریانی کھلاتا ہے تھی ایک مہینے تک تو بن گئے نوے ہزار روپے مہینہ ایک چھوٹے بچہ بریانی کے پیسے لے رہا ہے اور وہ کام کر رہا ہے جب وہ ایک سال گزار لیتا ہے تو انکل ٹوم کے بہت سارے کام کرنا شروع ہوتا ہے تو انکل ٹوم کو اس کی زیادہ پیسوں میں ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہ انکل ٹوم سے کہتا ہے سر اب دو پلیٹیں بریانی کی کر رہے تھے تو صرف دو پلیٹیں ہوتی ہے تو اس کے پیسے ڈبل ہوجاتے ہیں. ہمم. تو اس طرح سے ہم کیا کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ موجود ہے اس کا استعمال نہیں کر رہے تھے کہ آپ نے علم لہا لیں پیسے وہاں کام یہاں نہیں کرنا ہے. ادھر کام کریں گے تو پیسے دے گئے ہی نہیں بندہ. ہمم. اب پانچ ڈالر روپے آپ لیتے ہیں ایک پانڈ بنتا ہے. اب ایک پانڈ تو فریس کوئی نہیں دے گئی جو کہ اس کا تو پانڈ کا تو کافی بھی نہیں لوگوں کو سمجھ نہیں آتا ہے پیسے کیسے آئیں گے پیسے ویسے ہی آئیں گے جیسے ابھی آتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ کسٹمر چینج کر رہے ہیں اور اس کسٹمر تک پہنچنے کے لیے اس کی زبان آنا ضروری ہے اب اگر میں انگریز کو پڑھا رہا ہوں یا کام کر رہا ہوں اس کے زبان نہیں آتی تو میں کیسے کام کروں دوسرا کمپیوٹر پر ایکسپرٹیز چاہیے انٹرنیٹ پر ایکسپرٹیز چاہیے اور ڈھوننا آنا چاہیے ان کا معاشرہ کیسے کام کرتا ہے کیا ان کی عداب ہیں وہ ہمیں جانا ضروری ہے اب اگر آپ باہرہ کو اسے نکل کے ساؤت وزیرستان چلے جائیں تو وہاں کے کچھ آداب سیکھنے پڑے گی تو یہی چیزیں ہم پہلے سال میں سکھاتے ہیں وہ ایک سال اسی میں نکل جاتا ہے اس سیکھنے سیکھنے میں اس کی زبان بہت کھل جاتی ہے کانفیڈنس بچے میں بہت زیادہ آجاتا ہے یہ آج کی بنیادی ضرورت ہے کانفیڈنس بچے میں بہت زیادہ آجاتا ہے اس میں بچوں کے آپ نگرانی بھی رکھتے ہیں ان کو اس ادارے میں تیچر کوئی نہیں ہے اس میں صرف نگران یعنی انگریزی فیسیلیٹیٹر ہیں وہ کیوں اس لیے کہ اس میں طریقہ بتایا ہے اور ایک بچے کا کام ہے دوسرے بچے کو بتایا ہے چیٹنگ کریں اور جس کو منع کرتے ہیں نورمل کیونکہ یاد داست کا یہاں کوئی کام نہیں ہے جیسے میں اگر مثال کے طور پر آپ کو گاڑی چلانا آتی ہے مجھے نہیں آتی ہے میں آپ سے کہوں گا مجھے تھوڑا بتائیں گے گیئر کیسے کام کریں لیکن جو ہمارا تیچر یا جس کو فیسلیٹیٹر کہتے ہیں اس کا کام یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف اس کمرے میں رکھے اس کو باہر نہ جانے دیں پڑھانے کی اجازت ہم نہیں دیتے کیونکہ علم جو ہمارے پاس ہے وہ ناقص ہے کہ تیچر سے نہ پوچھو کہیں فس رہے ہو تو یا تو دوست سے پوچھو یا انٹرنیٹ سے پوچھو تیچر کا کام یا فسیلیٹیٹر کا کام صرف اتنا ہے کہ آپ نے اس کو مارنا نہیں ایک بچے کو ایک دوسرے کو پیار سے سمجھانا ہے پٹائی شدائی نہیں کرنی ہے اور وہ آئے اور اس کا دل لگے یہاں پہ اس کو مزہ آئے یہاں پہ آنے ورنہ وہ آئے گئے نہیں چھڑا چھڑا چھڑا جائے اور نقصان ہمیں یہ ہو رہے ہیں کہ کیوں کہیں کہ ایک لاکھ روپے کمانا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں پہلے دن سے ہی آجائے اس میں چار سال کی جہد ہے پہلے دن سے تو کچھ بھی نہیں آئے گا لیکن اٹھارہ مہینے میں ایک سال سے اٹھارہ مہینے میں وہ اپنی فیس کم سے کم پانچ ہزار وہ نکال لیتے ہیں اور ہماری کوشش یہ ہے کہ یہ بڑھ جائے لیکن ابھی ہم وہاں تک پہنچیں کیونکہ ہمیں چھوٹے چھوٹے کام یہ جو اکیلے چوزا بیٹھا وا کر رہا ہے اس کو کنانے میں ڈیڑھ سال لگا تھا پہلے دن کیونکہ کوئی کرتے ہی نہیں تھا ہم تھک گئے بتا بہتر کرو کرنی خراب ہو جائے گا کمپیٹر خراب ہو جائے گا یہ خراب ہو جائے گا وہ خراب ہو جائے گا کوشش نہیں کرتے تو کوشش چلیں کوشش سے ہی آگے بڑھیں گے آپ نے ایک نیتی سے ایک کام شروع کیا میری بڑی خواہش ہوگی کہ آپ کی مدرسے کہ کچھ لوگوں کو ہم ٹیچر ٹریننگ دیں اس کو آپ دیکھیں اور افزرف کریں ان میں فرق آئے ضرور اس سے فائدہ اٹھائیں گے یہ انچارز ہیں یہاں پہ اسما آپ ان سے ملاقات کریں قاسم بھائی ان کے ہزبند بھی داری ہیں آپ آپ آپ please in touch رکھیں ان سے یہ یہاں کے جو آپ کا سامنے مدرسہ ہے اس کے اس کے ہیڈ ہیں آپ کے جو مسجد ہے اس کے ہیڈ ہیں پرویز بھائی کے دوست ہیں تو family member ہی ہیں یہ بھی عباسی ہوں گے عباسی تو نہیں ہیں اب تو آ رہے ہیں عباسی میں رہتے ہیں سربوزے کو رہ رہتے ہیں تو رنگ پکڑ لی جاتا ہے جی بہت شکریہ بہت شکریہ