videos.rehan.com

From Student to Millionaire | How Rehan School Is Changing the System | EP - 164

videos.rehan.com/student-millionaire-how-rehan-school-changing-system-ep-164-31:08:25Urdu14 views↗ Watch on YouTube

From Student to Millionaire | How Rehan School Is Changing the System ⭐ What if school didn’t prepare children for jobs… but prepared them for ownership? In this powerful podcast conversation, the vision behind Rehan School is explained clearly: The traditional system is desig…

Transcription

Urdu

سکولوں میں موبائل لے جانا منع ہے ہماری ہیں بغیر سکول کے ہیں موبائل اندر لانے کے آج کی زندگی بغیر موبائل لیپٹوک کے تو نہیں چلتی ہے آپ ہر چیز خود دیکھ رہے ہوتے ہیں نارمل سکول میں پیرنٹس کو اندر بھی نہیں آنے دیتے ہیں ہم تو پیرنٹس کو ساتھ بٹھا دیتے ہیں اٹھائیس کروڑ کا مالک بنے دس سال تو ٹرسٹ نہیں ہے ٹرسٹ نہیں ہے بھروسہ نہیں ہے تو کیوں بھیجیں گے کہ نہیں بھائی یہ مجھے نہیں پتا کون لوگ ہیں پتا ہے فیس بک کیا کہ دن نہیں میں نے کہا تو بین کیوں کروا رہے ہو بس مجھے کرانا ہے والدین کے حقوق پر بات ہوتی ہیں مولاد کے حقوق پر بات نہیں ہو پانچ سو ڈالر نہیں ہے یعنی دیر لاکھ میں ملتے کی جانا ہے اس کے لیے ایک آدمی چاہیے پہلی طرف ہاتھ پکڑ کے ہیچے اتارنے والا جس کو کیونکہ اتر رہنا یہ تو ذہن میں ڈال دیا گیا ہے کہ پچاس زار کمانا ہے لیکن کیسے کمانا ہے یہ نہیں بتایا گیا ہم پیسے کا پریشن پہلے دیتے ہیں اور جس ٹریک بھی چل کے اس نے وہ پیسہ کمانا ہے وہ ٹریک نہیں بتاتے آپ پورا ازرائیل ختم کر سکتے ہیں اور فیس بک پہ جائیں ازرائیل لکھیں انٹر دوائیں سارے روگا جائیں سات ملین میں سے چار پانچ ملین تھڑاکا دیں باقی بھی سے مزہرمان رہ گئے تو حکومت آپ کی ہوگی بسم اللہ علیہ المانی پہلے تو ہے آپ کا بیٹا شکریہ میں آپ کے ساتھ بھی ایک ٹور کروں گا آپ نے دیکھا تو نہیں ہے نا نہیں میں آپ کو بھی دکھانا چاہوں گا اور اس اسکول کی اس کیپیسٹیز اکریبن دو سو سے چار سو بچوں کی ہے ہم ون فورت پہ چل رہے ہیں وہاں بس ستر بچے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ یہاں پہ لوگ آئیں اس کو استعمال کریں ہر ایک کو سمجھ نہیں آئے گا کیونکہ بلکل فرق سسٹم ہے اسکولوں میں موبائل لے جانا بغیر سکول کے موبائل اندر لانے کے اجازت نہیں ہے سکولوں میں لیپ ٹاپ نہیں ہوتے اگر یہ ریل سیٹ کا کام کرتے ہیں اور بغیر واتس ایپ کو تو نہیں کر سکتے تو وہ واتس ایپ ہم سکول کے اندر ہی کیوں نہ دال لیں دوسرا ہے کہ سکول دالتے ہیں آج کل کے زمانے میں معاش کے لیے اور تو پرپس تو اور کوئی نہیں ہوتا اچھا انسان بننا تو پرپرس نہیں ہوتا پیسے کمانا مقصد ہوتا ہے تو کیوں نہ بچپن سے جیسے چینیوٹی برادری ہوتی ہے میمن برادری ہوتی ہے دلیوالا برادری ہوتی ہے آپ کراچی میں رہے ہیں تو یہ تینوں برادری اس ملک کے 50% بزنس کرتے ہیں وہ کیوں اس لیے کہ بچپن سے بچے کو کاروبار میں دال دی جاتے ہیں تو پیسے سے نفرت کرا دی ہم نے پیسے والوں سے بھی نفرت کرا دی پیسہ تو حضرت عمر کے باز بھی تھا پیسہ تو خراب چیز نہیں ہے پیسے کا استعمال استعمال خراب چیز چھوری خراب چیز نہیں چھوری کا استعمال خراب چیز اب غلب بٹنے کے لیے تو ٹریننگ نہیں دے رہے ہیں ہم تو مروت کٹانا سکھا رہے ہیں سو ہماری کوشش یہاں پر یہ ہے کہ اس کو پہلے اچھا انسان منا جائے اور پیسے کی صفت یہ ہوتی ہے کہ پیسہ ایک تو اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے دیتے ہیں ہماری مرضی سے تو نہیں آتا لیکن ہمارے پاس اگر ہم وہ کام نہ کریں جس سے پیسہ آ سکتا ہے تو پھر تو نہیں آئے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بھی حدیث ہے کہ دس حصے معاش کے نوم میں تجارت میں ہیں اور ایک جو ہے وہ دوسری جگہ ہو تو ہم معاش کے لیے تجارت نہیں کرتے بلکہ ہم نوکریوں کے لیے بنایا گئی پورا سکول سسٹم نوکری اچھی نوکری کے لیے بنایا گیا تو وہ اچھے نوکر تو مجھے نہیں بنانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اردو میں گولامی ہے۔ اس کو حرام کر دیا ہے۔ ہم گولامی 2.0 میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ لو پیسے جو میں بولوں چھپ کر کے کرو۔ تو وہ گولامی ہے میرے ساتھ سے تو ایک طرح۔ اور اس کا آپ ہر چیز خود دیکھ رہے ہوتے ہیں نارمل سکول میں پیرنٹس کو اندر بھی نہیں آنے دیتے ہیں ہم تو پیرنٹس کو ساتھ بٹھا دیتے ہیں آپ بیٹھیں اور آپ نے بھی دو گھنٹہ ہفتے میں سیکھنا ہے اگر آپ نہیں سیکھیں گے ہم بچہ بھی لے جائیں اس کی کیا وجہ ہے کہ جو ہم سکھا رہے ہیں بچے کو آپ بھی سیکھیں جا کہ آپ ہم پہ نظر رکھ سکیں کیونکہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ایک نیا ہے میں ہی چاہتا ہوں کہ آخر قیامت والے مجھے نہ پکڑیں کہ تم نے یہ گربر کر دی آپ کے اجازت سے کریں تو آپ جب رشتہ کرا رہے ہیں جیسے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا رشتہ قرآن کے آیت کی اوپر نکاح کر دیا کہ اس کے پاس معاش نہیں تھا تو ایسی طرح سے اجازت تھی نا اس لڑکی کی بھی اجازت ہوئی ہوگی تو میں آپ کو اجازت سے بچے لینا چاہتا ہوں میں زبدستی نہیں کرنا چاہتا اور میں چاہتا ہوں کہ ہم پہ نظر رکھیں ہم کوئی غلطی کرے تو ہمیں ٹوک دیں یہ بھی فادر ہے پیچھے بھی جو کھڑے ہیں وہ بھی فادر ہے بہت سارے مادر فادر ہی کر رہے ہیں ہم پہ ہر وقت نظر رکھتے ہیں اور ہم چاہتے بھی ہیں کہ وہ ہوں تو میرا نہیں خیال کہ وہ دور جائے گا فرض کہ ہم اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتے ہیں تو وہ کیوں نہ مولانا طارق جمیر کی طرح مشہور بھی ہوگا کیوں نہ وہ زاکر نائک کی طرح زیادہ لوگوں تک پہنچ بھی سکے میں زاکر نائک کی ساتھ دو تین دفعہ مجھے اتفاق ہوئے ٹرائیول کرنے کا تو وہ ہم لوگ ایک دفعہ ویڈیو کانفرنس میں گئے تھے جہاں پہ کیمرے ملتے تھے تو وہ بتا رہے تھے کہ دیکھو میں یہ والا کیمرہ لیتا ہوں جو اسی ہزار ڈالر گاہت ہے میں یہ ہزار دوزار والے کیمرے سے کام بھی نہیں کرنا چاہتا مجھے یہ والا نہیں چاہتا مجھے بیسٹ کالیٹی چاہیے کیوں نہ ہم بچے کو بیسٹ آف بیسٹ آف بیسٹ بنائیں احسن ترین انسان بنائیں اس میں بہترین انسان ہیں اس کا ایدھی اس کا جناہ اس کا بل گیٹ بنانا چاہتے ہیں اس کام کا جو آپ چاہتے ہیں اگر یہ ریل سٹیٹ میں ہیں تو میری دعا خواہش ہوگی کہ دنیا کے امار بنیں دنیا کے دوبائی والی کمپنیوں جیسے سائز کے بنیں چھوٹے چھوٹے ریل سٹیٹ والے تو پورا ملنے میں بھر ہیں کیوں اور پھر لوگ ملک ریاض کو بھرا کہتے تو اچھے والی کوالٹی کا ملک ریاض بن جائے وہ کام تو اچھا کر رہے ہیں طریقہ غلط ہے تو ہم وہی اچھا کام صحیح طریقے سے کر لیتے ہیں حلال طریقے سے کر لیتے ہیں یہ مارا مقصد ہے مارا مقصد کسی کو خراب کرنا یا اس میں اندر ڈال دینا یا کوئی فیلڈ چینج کرنا نہیں ہے یہ مسکونسپشن ہے کہ ہم فیلڈ چینج کرتے ہیں ہم فیلڈ نہیں چینج کر رہے ہیں آپ نے یہاں سے ہچ پہ جانے گھوڑے پہ جانے تانگے پہ جانے یا جہاز پہ جانے راکٹ پہ جانے ہیلیکاپٹر پہ جانے یہ آپ کی چوئس ہے جانا سب نے جنت میں ہے اس کا طریقہ تھوڑا سا فرق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے فر ایکزیمپل میں نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے ایک ایسا سسٹم بنایا جائے کہ بچہ اندر آئے تو اٹھائیس کروڑ کا مالک بنے دس سال ہے جیسے بچہ دالتے ہیں ڈاکٹر سکول میں تو ڈاکٹر بن کے ہی نکلتا ہے اٹی پرسن بچے ڈاکٹر بن جاتے ہیں کیونکہ سسٹم بنا ہوئے دو سو سال پہلے کوئی ڈاکٹر بنانے کا سسٹم نہیں تھا ہمیری کوشش یہ جیسے پرویز بھائی نے اپنے پچھلے پندرہ سال اسی کام پہ لگایا ہے میں آٹھ سے دس سال کے لیے لے رہا ہوں میری خواہش اور کوشش ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اٹی ٹو نائنٹی پرسنٹ ریزلٹ آجائے ٹین پرسنٹ فیریر ہوگا سب میں ہوتا ہے وہ تو سب میں ہوتا ہے ہمارے مولانا کے سوچ بھی تقریباً یہی ہوتی ہے یہ بھی انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا میں چاہتا ہوں کچھ عرصے بعد میرے پاس اتنا پیسہ ہو اور وہ تقریباً ہو گیا ہے اس سے آگے نکل گئی ہے ان کے پاس تو پرویج صاحب جیسے لوگ ہیں نا ہاں سب کے پاس تو نہیں ہیں لیکن یہ اپنے زور پہ ہی زیادہ میں نے دیکھا ہے کہ زور تو سب کو ہر سٹیلڈ کو اپنے زور لگانے لیکن جو دائی ہے جو پیچر ہے جو اس کا منٹور ہے مہربانی بلکہ بلکہ بلکہ چلیں اب انشاء اللہ ہم اس علاقے میں ہیں اور اچھا ہوا تعریف ہو گیا اسکول کا اس کے اندر آکے ہم نے دیکھ لیا باہر سے تو بہت دیکھا تو میں نے جیسے کل بھی کہا تھا کہ بہت پہلے پرویز صاحب کی اس سے سنا کہ انہوں نے یہاں جگہ لی ہے تو پھر معلوم بھی کیا تھا انہوں نے آپ سے تو اب انشاء اللہ ہم بھی اس کے لیے کوشش آپ کے بیٹھے کو ضرور بھیجیں چاہے یہاں بھیجیں کیونکہ آپ تو قریب رہتے ہیں ایک گھنٹہ دو گھنٹہ روز بھیجیں چھے مہینے تک آپ کو اور آپ کی بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کو اٹھا کے آپ نے جاپانی کلاس میں بھیج دیا تو آپ کو تو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا وہ کہیں گا بھائی تم چھینک مانگ مانگ کیا کر رہے ہوں میں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا چھ مہینے کے بعد آہستہ آہستہ اگر آپ بھی آنا شروع ہو گئے پھر آپ کو آہستہ آہستہ سمجھ آئے گا کیونکہ آپ جیسے آپ کا فیس بک کل بنا ہے ہم تو پہلے دن چھوٹے بچے کا بناتے ہیں آپ دھور کے دیکھیں گے ڈراز ہوں گے یہ کیا کر رہے ہو بچہ تو خراب ہو جائے گا لیکن مہباب کو ایکسس دیتے ہیں کہ آپ کا ہے یہ آپ نے نظر رکھنی ہے جو دکھتا نہیں ہے وہ بکتا بھی نہیں ہے تو اگر حضرت یہاں کے اگر آپ اس زگہ کو پہلے جانتے ہو تو آپ خود ہی بیجتے ہیں آپ جانتے ہی نہیں ہیں تو کہ آپ خود بھی آئے کریں آپ کو ہم مولانا تاریخ جمین کی ٹکر کا مولانا بنائیں گے علم تو آپ کے پاس بھی وہی ہے لیکن اگر آپ جیسے مولانا رفیع عثمانی تکری عثمانی انٹرنیٹ امران بھائی کی وجہ سے بہت استعمال کرتے ہیں تو اب امران بھائی نے میں امران بھائی کو میں دس پندرہ سال بیس سال سے کہہ رہا تھا خدا کے واسطے ٹیکنالوجی سوشل میڈیا تک وہ کہتے ہیں نہیں حرام ہے نہیں کرو اب وہ خود ہی استعمال کرنے لگے سب سمجھ آ گیا تو استعمال کرنے لگے میرا ان سب سے نا تعلق بہت زارہ ہے اس لیے ہے کیونکہ جیسے آہ وہ تھے مفتی نائن تھے بنوریہ بادی میں ان کے ساتھ حج کا ساتھی میرے ساتھ وہ نے رمضان کیا ہے نیویارٹ میں میری وہاں ان سے دوست لی تھی پھر ان کے اببہ میں ان کے اپارٹمنٹ میں رہا ہوں ہچ کرنے کے پھر ان کے اببہ کے ساتھ بیٹھ کے موٹر سائیکل میں کنکریاں ماننے گیا ہوں جنہوں نے بنوریا کی بنیاد ڈالی تھی میری فیملی ٹرمز کی طرح میری سب بھائی دوست ہیں اس طرح کے ہیں وہ پچیس تیس سال سے آ یہ سلسلہ جڑا ہوئے تو وہ اب جب فیس بک بین ہوا یوٹیوب تو میں سب سے پہلے پہنچتا تھا بھائی یہ استعمال کرو نہیں ان کی باتوں میں نہیں ہوئے غلط بتا رہے ہیں تو میں نہیں ریحان مروا ہوگے تو میں نے کہا نہیں بھائی نہیں مروا ہوں گا میں آپ کو صحیح رستہ بتا رہا ہوں جو جو صحیح ہے اب لوگوں کو پتہ نہیں ہے تو اس کو کنفیوز ہوتے ہیں کہ ڈاکیمنٹری بھی ہیں بھی نہیں مولا مفتی نہیں میں اور میں ان سے کہا انہوں نے اس وقت نا فیس بک بین ہو گیا تھا تو میں نے ان سے جا کے لڑا میرے بھائی کیتنا تھے میں بھائی آپ کو جب پتہ ہے فیس بک کیا کہتے ہیں نہیں میں نے کہا تو بین کیوں کروا رہے ہو تو بس مجھے کرانا ہے یار یہ تو کوئی طریقہ ہے انٹرنیٹ کیا ہوتا ہے فیس بک کیا ہوتا ہے وہ آج بھی پڑھا بھی ہے ویڈیو انٹرنیٹ پر سترہ اٹھالہ سال پر آئیں کہ دیکھو میں سمجھا رہا ہوں پھر میں جامبیت و رشید میں وہاں پر بھی انٹرنیٹ انہوں نے کہا وہ بلکل فوٹو نہیں کھچواتے تھے بلکل سامنے نہیں آتے تھے بلکل سوچل میڈیا نہیں آتے تھا پھر میں نے وہاں بھی جا کے خرافات پھیلائیں میں تو خرافات ہی پھیلانا کہہ سکتا ہوں اور اس کے بعد میں نے اپنی کتابیں تقریباً دو تین ہزار باتیں انٹرنیٹ کے اوپر کہ کیا ہوتا ہے اب ماشاءاللہ نمبر ون مدرسہ میرے خیال میں یہ ہے اور اب نان کھاکا خیل کا جو ہے تو میری کوشش ہمیشہ یہ تھوڑی سی گربڑ ہو جاتی ہے کہ میں تھوڑی سی جلدی شروع کر دیتا ہوں تو لوگ ڈانٹتے بہت ہیں لوگ بعد میں آتے ہیں چلے اچھا ہوا کل سے وہ فیس بک کے بعد جو لوگوں کی طرف سے ریپلائی آئے جواب آئے اچھا لگ رہا ہے ابھی تک یا ڈر لگ رہا ہے ابھی تک ابھی تک تو تھوڑا تھا کل سے چوبیس گھنٹی ہوئے ہیں آہستہ آہستہ مجھے ایک ہفتے تک کومنٹ نہ پڑھیں صحیح ہے ورنہ آپ کو تکلیف ہوگی کیونکہ دس اچھے ہوں گے ایک خراب جو ایک خراب تکلیف دے دیتا ہے جیسے ہم نے دس لوگ آئے آپ کی میٹھی میٹھی باتیں کریں ایک آخر میں کڑواد بادام نکل آیا تو آپ کہیں گے یار بادام گرپڑا تھا وہ تو اس لیے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے اتنی نعمتیں ہیں اور ایک گرپڑ پہ ہم لوگ رونے بیٹھ جاتے ہیں چلے تھوڑا سا بھی میں یہ کل میرا سچی بات ہے کیمرے کے سامنے پہلی دن جا رہا ہوں اچھا نا اچھا آپ سیلفی کھچا تھے بھی گبرا رہتے ہیں میں کل کیمرے کے سامنے آئے پہلی دن ہوں اوہ ویسے تو چلے آن دوسرا دن ہو گیا پرسو ملیمہ کر لیں گے انشاء اللہ میں نماز پڑھنے آتا ہوں وہاں پہ لیکن ملکات کم بھی آپ زیادہ ہو جائے کریں گے انشاءاللہ انشاءاللہ وہ پھر کیمرے کے مطابق تیاری بھی کریں گے نام ایسی ویب گریفت ہوتی ہے بہت سخت نہیں اوپر والی گریفت سٹرونگ ہے یا یہاں والی سٹرونگ اوپر والی میں تو آدمی معافی مانگ کے نکل جاتا ہے یہ نہیں معاف کرتے ہیں لیکن جس کے لیے کر رہے ہیں اسی سے معافی مانتے ہیں نا یہاں والے تو نہیں کسی کو بھی نہیں بخشتے انشاء اللہ نبیوں کو نہیں بخشا پیغمبر نہیں بخشا آدمی کو کام تو کرنا چاہیے یہ آسمان کے حزب ہیں یہ بھی یہی ہوتے ہیں مولانا کوئی بات آپ ہری حان بھائی سے تو میری ملاقات ہے فیس بک تھرو تو میں نے تو سٹڈی کیا آپ کی شخصیت کو آپ جو کام کر رہے ہیں کافی یعنی دو تین سال سے میں جانتا ہوں آپ کو. آپ کی عمر کیا ہے? میری تیٹی ٹو ہے. اچھا مانی. اتنی سال ہوں گا دا میری. آپ یہاں construction کرتے ہیں یا آپ صرف trading کرتے ہیں? جی میں بس اپنی لینڈ لیتا ہوں اور اس کو. plotting کرتے ہیں. جی plotting بنائے plot بنا کے آگے sale کرتے ہیں. بلکہ یہاں اس دفعہ میں نے installment پر plot دی ہیں. first time experience تھا اور بڑا چھا رہا. danube کو follow کرتے ہیں کبھی نہیں نام پتہ ہے لینیو کا آپ لکھ لو مزان صاحب ہیں انڈین مسلمان ہیں وہ چلاتے ہیں اس کو اور ان کا جو مشہور ہیں وہ یہ کہ ون پرسنٹ پیمنٹ لیتے ہیں اور اپارٹمنٹ دے دیتے ہیں اچھا اور وہ اس سے انہوں نے بہت پیسہ بنایا ہے اور اس کا موڈل پورا یوٹیوب پہ بھرا ہوئے کہ وہ کیسے کرتے ہیں اگر آپ اس موڈل کو یہاں پہ لے آئے تو بہت لاکھوں کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہوگا اس کے اندر جو چیز مسنگ ہے نا وہ آپ میزان بینک سے عمران سے کنیکٹڈ ہوگرہ مفتی عمران سے ان کے ساتھ پارٹنر کر کے آپ یہاں لوگوں کے یہ رہنے کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں کیونکہ پچیس پرسن پاکستانی کے میں نے تو نہیں گنے لیکن حکومت کے ساتھ سے گھر نہیں ہے کیا نام بتایا آپ نے رزوان صاحب نام ہے دین دین جیسے انڈس ریور ہے نا ہمارا اس طرح یورپ کا جو انڈس ہے اس کا نام ہے دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین دین ہے دوبائی میں third largest ان کی کمپنی ہے اور یہ مشہور اس لیے ہیں کہ یہ one percent کے اوپر گھر دیتے ہیں میرے فیس بک پہ فرینڈ ہیں آپ ان کو ان باکس بھی کر سکتے ہیں انہوں نے ٹائم نہیں دیتے لیکن یوٹیوب بھرا ہوئے ان کی گفتگو سے اور طریقے سے کیسے کرتے ہیں کس طرح کرتے ہیں وہ اس کو آپ موڈل یہاں کاپی کرنا چاہیے لوگوں کو اور جو اس میں جو کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں دوبائی کیونکہ سخت ہے کوپریٹیو ہے تو چیزیں بہت ساری ہو جاتی ہیں کوئی پیسے نہیں دے رہا تو وہ خود ڈنڈا لے کے پہنچ جاتے ہیں یہاں پر بھی اگر آپ کے بس ڈنڈا ہے تو آپ یہاں بھی کر سکتے ہیں لیکن لوگوں کی آسانی کرو دین تو حکم کرتا ہے نا لوگوں کے لیے آسانی کرو یہ آسانی آپ وہاں پہ جا کے ایپ کھولیں تو وہ آپ کو ایک زیادہ بتا دے گا مالک کون ہے ابھی تو فراڈ ہوتا ہے نا وہ آپ کو فراڈ نہیں ہونے لے گا تو وہ بتاے گا کہ یہ مالک اس کا تھا پھر اس نے اس کو بیچا پھر اس نے اس کو بیچا پورا کٹھا چھٹا وہ آپ کو پلوٹ کا دے دیں پلوٹ کا گھر کا اپارٹمنٹ کا آپ ایڈرس ڈالیں وہ نکال دیں پھر آپ کی جو فائلیں ہیں ان کو مینج کرنا ایک کام ہے تو اس کے اندر پورا سسٹم ہے جس میں آپ ساری فائلیں اپلوٹ کر دیں وہ سمال کے رکھے گا آپ کے لیے مینٹین کرے گا چیک کرے گا گر بر تو نہیں ہے کانٹریکٹ صحیح ہے کہ نہیں ہے اے آئی دلی ہے اس میں ہر چیز بتاتی جاتی ہے یہ ایک بچہ ہے سولہ سال کا اس نے بنایا آپ بہت بڑا کام کر رہے ہیں ہمارے تعلیمی نظم کیونکہ ہم دینی مدارس سے پڑھے ہوئے بند ہیں تو ہم کیونکہ اپنی بات کریں گے ہمارے ہاں معاشی طور پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی اور بہت زیادہ مسائل ہیں سوری آپ کی غتہ کلامی دو ہمارے مفتی اکرام ہیں تین ہیں اچھلی اور اب تو چوتھے بھی آگئے ہیں جن کا فل فقام ایک ہے کہ علماء کا عام رنی کم سے کم ڈیڑھ لاکھ مہینہ ہونی چاہیے تو وہ کل آئے ہوئے بھی تھے آپ سے اتفاق سے ملاقات نہیں ہوئی ابھی وہ واپس جا رہے ہیں ڈسکا میں رہتے ہیں ایک کراچی میں ایک کوئٹا میں ہیں اور ایک پنڈی میں ہیں یہ چار ہو گئے ہیں ان سب کا ٹارگٹ یہ ہے کہ آپ نے سمام علماء کی آمدنی کو پانچ سو ڈالر مہینہ یعنی ڈیڑھ لاکھ روحہ مہینہ بھی لے کے جانے اس کے لئے انہوں نے بہت سارے چیزیں وہ میرے پاس ڈیڑھ سال آتے رہے ہیں بقاعدہ میرے سکول میں بھی رہے ہیں ایک ہمارے پاس دوسر چار سال رہ کے گئے ہیں ہمارے سینئرز میں جا کے وہ ہم سے سیکھیں on board connect کیونکہ سارے جو مسائل آپ بتا رہے ہیں ہمیں پتہ ہے مسائل سننے کے کیا فائدہ تھا حل سنتے ہیں نا تو حل یہ ہے کہ آپ ان کو تشی کریں ان سے لوگوں کو جوڑیں اگر آپ کے دوست امیر نہیں ہوتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ امیر ہو جائیں زیادہ تر جتنے علماء کے بچے ہیں یعنی ہمارے معاندارس میں جو بچے ہیں وہ سب کمزور گھروں سے ہیں ان کے سارے دوست غریب ہیں تو ان کا جو دماغ ہے نا وہ پچاس ہزار سے اوپر سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے کہ انہوں نے کبھی خواب و خیال میں بھی یہ سوچا نہیں کہ ہمیں کورنہ شیوہ تشکر میں لگے رہے ہیں اللہ کا شکر ہے اور بیٹھ گئے آپ نے تشکر نہیں کیا آپ نے کہا تشکر کے ساتھ ساتھ جہد بھی کرنی ہے ان کا جو خاندان ہے وہ امیر ہے اس لیے یہ امیر ہے چونکہ ہم غریب تھے نہیں تو آپ کے پاس رول موڈل تھا میں اس کو کاپی کر سکتا ہوں میں نے ایسا بننا ہے جب تک آپ کے دماغ میں یہ خواہش نہیں ہوگی تو آپ کوشش کیسے کریں میری جب علیہ اللہ فراغت ہوئی تو میں نے فراغت کے متصل یہاں ادارے میں تدریج شروع کر دی تو حضرت صاحب کیونکہ شروع سے میری اس حوالے سے تھا کہ یار کرنا چاہیے میں ان کو اکثر کہا کرتا تھا یہ مجھے کہتے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے تو ابو تو تمہارے کہہ رہے ہیں جی یہ بس پڑھائے میں اس کا میں نے کو کہتا تھا کہ بھئی کوئی نہیں کرتا خود ہی کرنا پڑتا ہے یہ کل تھوڑا سا کل میں شادی ہو جائے گی بچے ہو جائیں گے تو خیر میں نے اسی وقت سے بلکہ دو سال تو میں صرف یہ سوچتا رہوں کہ میں نے کیا کرنے اب یہ پڑھاتے ہیں کہ کارڈیٹ آپ آکے ویڈیوز ریکارڈ کریں کہ ایک عالم دین کے ورٹیکل کو میرے پاس چار تھے نا بھی تک پانچوے آپ بن جائیں کہ جی آپ نے صرف لوگوں کو گائیڈ کرنا ہے نائنٹی نائن پرسنس دریاں میں تیرنا بندے کو خود ہی ہے لیکن ایک آدمی چاہیے پہلی طرف ہاتھ پکڑ کے نیچے اتارنے والا ہے جس کو کیونکہ وہ ڈر رہے نا کر کیوں نہیں رہا اس لیے کہ علم ہے اس کو پتہ یہ ہو سکتا ہے یہ ہو سکتا ہے لیکن یا خدا نخواستہ کچھ ہو گیا نہ تو بڑا مسئلہ ہو جائے اس لیے ایک آدمی چاہیے جو ہاتھ پکڑ کے اس کو نیچے لے جائے بس پھر اوپر لے جائے پھر نیچے لے جائے پھر اوپر نیچے لے جائے پھر اوپر لے جائے چوتھی دفعہ کہے گا بھائی جان ہاتھ چھوڑیں آپ میں خود ہی تھی گیا ہوں مواشی استقام بہت زیادہ ضروری ہے ہمارے مدارس میں حضرت بھی اس چیز کے گواہ ہیں کہ سکھایا جاتا ہے کہ جو ہے اسی پہ اپنے اقناعات کرنی ہے استقناع کا اصحاب کرنا ہے یہ باتیں اپنی جگہ درست ہیں اور ہونی بھی چاہیئے لیکن اس کا پریکٹیکل لائف میں اس کا زیادہ کوئی تنہ سامنا کر نہیں پاتا فطری طور پر میری جب فراغت ہوئی تو میں نے فراغت کو فرن بعدی اس پہ ورک شروع کر دیا تھا پہلے دو سال جو کہ میں جو کہ جس فیملی سے ہوں میں ایک ہوں فیملی میں جس فیملی میں بہت زیادہ حفاظ ہوں یا علماء ہوں ان کو پھر بھی گائیڈ لائن مل جاتی ہے ایک عالیم دوسرے کو دے گا تو جو کہ میں جس سسٹم میں تھا اس سسٹم کے اندر میری ذہن کا یا میری فیلڈ کا بندہ ہی کوئی نہیں تھا جو مجھے بتایا کہ عثمان تم یوں کرو یوں کرو تو اس سکر میں میرے تین چار سال ویس زائے ہو گئے کہ یار کیا کرنا سمجھ ہی نہ آئے پرویس آپ کے پاس بیٹھوں وہ کوئی اور بات کریں میں کچھ اور چاہوں اچھا اب آپ کے پاس میں آتوں یہ آتے ہیں اور یہ عالم دین ہیں اور ان کی آمدنی 35000 روپے تین کام بتائیں سب سے پہلے کون کون سی پینڈال کھانی ہے ڈسپرین لینی ہے کیا کیا کرنا ہوگا سب سے پہلے تو جو جتنے بسائل آپ کے پاس ہیں ان پہ آپ شروع ہو جائیں کیا کریں ان کو جو در لگتا ہے نا وہ کرنا کچھ نہیں چاہتے بس لوگوں کی پرواہ نہ کریں وہ کیسے ہو سکتے سب سے بڑا حیروگ کیا کہیں گے لوگ پس یہ تو نکالنا پڑے گا کیسے نکالتے ہیں دوائی بتائیں اس کے لئے سب سے پہلے کام کرنے کے لئے ضروری تو یہ ہے کہ آپ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں وہ کیسے کرتے ہیں خود اعتمادی یہ ہے کہ جو وسائل آپ کے پاس ہیں ان کو بروکار لاتے ہوئے آپ کام کرنا شروع کر دیں تو اس روپر انحصار ختم کر دیں خود انحصاری انسان کے مستقبل کی زمانہ دوتی ہے ساری زندگی سنا ہے کہ اببہ کی ہلپ چاہیے تائو کے ہلپ چاہیے گورنمنٹ کے ہلپ چاہیے تو وہ دماغ سے نکالنے کیسے اس کو دماغ سے نکالنے کیلئے اس کو عملی طور پر دماغ سے نکالنا ہی پڑتا ہے مجھے پھینٹی لگایا ہے اس کو کیا کریں ہیں کاسن کیسے آپ میں اعتمادی داریں دو سال ہو گئے ہم ٹرائی کر رہے ہیں نہیں ناتی اس میں دیکھیں میں آپ کو ذاتی تجربہ بتا رہا ہوں میں تو یہ ہی ان کو بتا رہا ہوں صبح ہمارا ذاتی تجربہ میرا یہ ہے کہ مجھے کسی نے سپورٹ نہیں کیا کوئی کسی کو نہیں کرتا بلکہ میں بہت زیادہ کرائیسز میں بھی گیا ہوں اتنے کرائیسز میں گیا ہوں کہ شاید کمزور حواظ والا بندہ ہوتا تو وہ کریش کر جاتا لیکن میں نے سروائیف کیا ہے 95% کمزور حواظ والے ہیں وہ کیا کریں وہ تو پھر آپ بتائیں لیکن اببا ہاتھی نہیں آ رہا تیس سال سے ٹرائم ہار رہا ہوں تو میں نے کیا کیا کہ بچے پگڑتا ہوں میں چل بھئی تو آ جا اس کو بھی پڑھاتا ہوں اور وہ اس سے اببا کو پڑھواتا ہوں میں ایک چیز حضرت سے کہا کرتا ہوں کہ بچوں کی تربیت پر بہت زور ہوتا ہے ممبر سے بھی بات ہوتی ہے سکول سے بھی بات ہوتی ہے لیکن والدین کی تربیت پر بات نہیں ہوتی والدین کے حقوق پر بات ہوتی ہے اولاد کے حقوق پر بات نہیں ہوتی اس بحر میں کئی دفعہ حضرت سے کہا ہے میں نے کہا ہے کہ حضرت اولاد کے حقوق پر بات کیا کریں اب آپ کرنا شروع کر رہے ہیں میں نے کہا وہ والدین کے حقوق تب پورے ہوتے ہیں اور اگر نہیں بھی ہوتے تو ان پر تان تشنیب ہوتی ہے کہ تم کیوں نہیں کرتے والدین لیکن اولاد کے حقوق پر بات نہیں ہوتی آج آپ اولاد کے حقوق پر تھوڑا کچھ بیان کریں جو جہاد ہے پلاننگ کرنے کی ضرورت نہیں ایسی بتا رہا ہوں اولاد کے حقوق میں سے سب سے بنیادی چیز تو ریحان بھائی میں سمجھتا ہوں میں چونکہ کم علم والا بندہ ہوں تجربہ میں میرا کم مشاہدہ بھی کم ہے تو سب سے پہلا حق تو ایک باپ کے لیے بچے کا یہ ہے کہ وہ اس کی فکری تعمیر اور شخصی تعمیر کرے میں سمجھتا ہوں شاید اس کو آپ کس انگل سے دیکھتے ہیں جب بچے کی فکری اور شخصی تعمیر ہوگی تو وہ اس کے ایفیٹس بہت زیادہ ہیں تین تین اگزامپل دے دیں فکری کی بھی اور دوسری کونسی جائے باتی شخصی تعمیر دونوں کے تین تین اگزامپل ہیں مثل कहा करते थे बस तो तुम्हारी फिरागत जब हो जाएगी इसको रिकार्ड नहीं करना या नहीं बहुत ऐसी कोई बात ना करें निकालें तो रिकॉर्ड हो रहे हैं तो अब आप रिकॉर्ड तो आप इसको फॉरवर्ड करने आप अगर नहीं सुनाओ तो चले तो आप मुझे अक्सर कहा करते थे कि अनुमी तौप मजलिस में कि बस यह इफरागत इसकी हो जाएगी तो यह बस किसी उकाफ की मस्चिल में लग जाएगा तो बस 58,000 इसकी तरह होगी यह नहीं वह 50,000 का जो वह था मेरे कानों में तक है यह वह प्रेशर यू बनता रहा बनता रहा लेकिन वह 15,000 मघबर विकाफ़ में लगना कैसे है उसके वाले से मेरी तामीर नहीं हुई तो यह तो जैन में डाल दिया गया कि 50,000 कमाना है लेकिन कैसे कमाना है यह नहीं बताया यह बताया गया तो इसका नुकसान क्या होता है कि बच्चा प्रेशर कुकर बन जाता है कि भूमिक ओल्डर पुकता देख सका भजद यह कुछ करनी है पेश के खबर आ लेते हैं अब आप बच्चे को विव deieg शुभावनह ठांप अब करा我們的 मा Charge ढॉक्टर बनाने के अय की योग जाते है या ठांप आने इसे बेहतर दूसरा लेकर सबीद हैं تو معاشرے میں ایسے ہوتا ہے اب بچہ ایک سکول ہمارے مدارس کے بچے تو جن مسائل سے گزرتے ہیں وہ میں ذاتی طور پر جن مسائل سے گزروں ہمیں تو بخوبی اندازہ ہے لیکن ایک علمیہ یہ ہے کہ جو ہمارے اصلی ادارے ہیں وہاں بھی یہی حال ہے اسکری والے نہیں نہیں سکولز وہاں بھی یہی حال ہے آپ کا تو سو میں سے شاید ایک سکول ایسا ہے نہیں بلین میں سے ایک تو اس کے علاوہ آپ جتنے بھی سکولز اٹھا کے دیکھ لیں بچوں کو پریشر کوکر بنایا جاتا ہے ان کی شخصی تعمیر نہیں کی جاتی تو آپ اس ادارے میں بھیجیں بھئی سپر فٹا فٹا جو بھی پریشر کوکر والے بچے اندر لے ہیں بچے کے اندر وہ جذبات ہی نہیں پیدا ہوتے کہ میں کچھ ہوں وہ میٹرک کرے گا وہ انٹر سے نکلے گا ڈگری کرے گا میرا اپنا بھائی ہے بہت ذہین بہت ٹیلنٹڈ لیکن آج یوکے بیٹھا ہوئے مزدوری کر رہے وہ سارے بھائی ہمارے آدم کے جتیو الادیں ہیں تو سب یہ کہہ رہے ہیں حالانکہ بہت لائق تھا چلیں انشاءاللہ ہمارا بس یہ جو پرویس صاحب کے ساتھ ہماری جس ملاقات میں اس کا تذکر آیا تھا تو اس میں ہم اس فکر میں بیٹھے تھے علماء کا مواش کا مسئلہ کیسے ہوتا ہے؟ میں ابھی آپ کو ان کے گروپ میں ڈال دوں گا اور میں ابھی تعریف کرا دوں گا آپ کا مواش کا مسئلہ حلانہ شروع ہو چکا ہے میرا آج جو اسی زمن میں اس جگہ کی بات آئی کہ ہم وہ یہ علماء کے لیے کوئی اے آئی کوئی اس کا ٹیکنالوجی کا کچھ کورس شروع کرائیں کہاں کرائیں انہوں نے کہا یہاں ہمارے ایک دوست ہے انہوں نے بھی جگہ لی ہے ان سے بات کرتے ہیں آپ ہمارا آفیس استعمال کریں انہوں نے اپنے کچھ لوگ جمع کیے ہوئے تھے بہرحال وہ تقدیر آج اس نے ہونا تھا تو انشاءاللہ اللہ ہمارے یہاں جو نئی نسل ہے یا جو علماء ہیں ہم اب اس سسٹم میں انہیں جوڑیں گے انشاءاللہ خود بھی جوڑیں گے تو آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں میں آہ رہا ہوں بھی میری فراہم اکبر پرویس صاحب سے میری اس حوالے سے بہت زیادہ میٹنگز ہوئی ہیں کہ مدارس میں جا کے اس پہ کام کرنا چاہیے ہمم تو دیرہ دو سال بعد میں نے سوچا کہ میں جس موضوع پر بات کر رہا ہوں میں وہاں کہاں کھڑا ہوں پھر میں نے اس موضوع کو وہیں چھوڑا بزنس کیا اپنا ٹھیک کریجا تو میں آج جو آپ کے پاس میں حاضر ہوں حضرت کو لے کے وہ اسی کا ایک شخصانہ ہے کہ ہمیں مدارس میں کیسے کام کرنا چاہیے مدارس میں ریحان بھائی آپ کے جو تخلیقی سوچ ہے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے بہت زیادہ ضرورت ہے اچھا یہ بتائیں کہ انگریزی میں چتاب ہے کیا میں اس کا اردو ورن چھپا ہوں مدارس کے لیے ضروری ہے انگریزی نہیں چلے گی چل جائے گی مدارس میں میٹرک کے بعد لوگ آ رہے ہیں کر بھی لیتے ہیں کیونکہ اگر اس کو انگریزی میں چلائیں تو دو فائدہ ہوگی انکم زیادہ ہوگی اور انگریزی نہیں آتی تو آ جائے گی کیونکہ اس میں انگریزی بھی سکھاتے ہیں یہ ایک کتاب تو ہے ایک سال کی لیکن اس میں بہت ساری چیزیں ہیں ہم نہیں کرتے ہم صرف ویٹس ایپ کا استعمال ٹک ٹاک کا استعمال تھوڑا تھوڑا یوٹیوب کا استعمال دوسرا اپنے اوپر بھروسے کا استعمال نہیں کرتے اپنے اپنی برانڈنگ اپنا پرسنل کانفیڈنس یہ ہمارے پاس کچھ نہیں وہ اس میں شامل ہے تیسرا اے آئی ہے چوتھا دنیا کے ساتھ جننا ہے یعنی کہ اگر آپ محسنی ہیں تو شیعہوں کے ساتھ بھی جننا ہے اس نے بیس سال لگا ہے ہم نے چودہ سو سال میں وہ کام نہیں کر سکے تو ہم نے اسی تکنولوجی کا استعمال کر کے اپنے پیغام کو دور تک لے کے جانے لیکن اگر ہم جڑیں گے ان سے اپنا اخلاق نہیں دکھائیں گے تو وہ ہم کو بد اخلاقی سمجھیں گے وحشی سمجھیں گے پسٹول والے سمجھیں گے میں اکثر ہی بولتا ہوں کہ ازرائیل سے بہت لوگ گھبراتے ہیں میں آپ کو ایک سولیشن دیتا ہوں آپ پورا ازرائیل ختم کر سکتے ہیں دو دیتے ہیں استعمال کریں گے حملہ کریں گے اس پر کیوں نہیں کیوں؟ توٹل عبادی یہودیوں کی دنیا میں پچیس دھائی ملین ہے تحریر پچیس ملین ہے دھائی کروڑ توٹل مسلمان دو عرب ہیں فیس بک انہوں نے بنایا یہودی ہے مارکز کر پر اور آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ جو توٹل ازرائیل ہے اس میں سات ملین لوگ رہتے ہیں توٹل سات ملین جو ہے وہ لاہور کی عبادی سے بھی کم ہے تو آپ جس طرح سے تبلیغی جماعت والے میسج بھیجتے ہیں آؤ نکٹکٹک سلام علیکم کیسے ہو بھائی چلو ہم یہ ہیں ہم اللہ کا پیغام لے کے آئیں آپ فیس بک اس کام کے لئے استعمال کریں اور فیس بک پہ جائیں ازرائیل لکھیں انٹر دمائیں سارے روگ آ جائیں ان تک پیغام دیں وحشیانہ دماغ میسج نہیں تم قاتل ہو تم فلانا ہو جس سے دوستی کرنی ہے اس کو اس سے تھوڑی بولتے ہیں اس سے محبت کا پیغام دینا ہے کہ تم بھی حلق کتاب ہو تمہارے ساتھ تو نکاح بھی جائز ہے تو آپ نے ان کو دعوت دیں میسج کریں دوستی کریں جنگ بھی نہیں کر سکتے تو امن سے پہنچا سکتے نا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امن کے ذریعے زیادہ دین ہمارے لوگوں نے تو امن سے زیادہ پہنچا پورا انڈونیشیا ملیشیا اس سائٹ کے جتنے لوگ وہاں تو جنگ نہیں ہوئی وہاں تو لوگ وہ ہوئے جو دائی بن کے گئے اس علاقے میں سوفیز آئے تو اسی پیغام کو ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے اگر وہاں پہنچاتے ہیں تو ان کے گھروں کے اندر گزر سکتے ہیں انہوں نے اپنے دروازے کھول کے رکھے ہم اندر ہی نہیں جا رہے ہم اس دروازے کو نوک ہی نہیں کر رہے اور اس کو جیسی میں کوشش کرتا رہا ہوں اس کام کو دس پندرہ سال سے کوشش کر رہا ہوں سمجھانے کی لوگوں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ آپ اگر میں آپ کا دل بدل دوں تو پھر آپ مجھ پہ حملہ کیوں کریں گے میں تو آپ کے ساتھ رشتہ جوڑ لیتا ہوں ختم ہوئی کہانی تو حملہ ہی ختم تو دو طریقے اسی طرح ہندوستان ہے ہم خامخاہے میں اس کو ہر وقت لڑنے کیلئے ہم آٹھ ارب ڈالر سال کا خرچ کرتے ہیں ادھر سے چالیس بلین ڈالر خرچ کرتے ہیں سال کا اور پوری ایڈیوکیشن پہ کتنا خرچ ہوتا ہے پاکستان میں دو بلین ڈالر اور جنگ پہ کتنا خرچ ہوتا ہے آٹھ بلین ڈالر امن پہ کتنا خرچ ہوتا ہے زیرو تو کیوں نہ ہم اپنے ریسورسز کو اپنے بچوں کو ان سے بات کرنے کی صورت میں آپ کو زبان بھی آئے گی کلچر بھی آئے گا کام بھی آئے گا رشتے بھی آئیں گے ہر چیز آئے گی جڑے گی لیکن ہم جڑ نہیں رہے ہیں اس کو گلو کے لیے استعمال نہیں کر رہے ہیں تو اس کو استعمال اگر آپ اس طرح کر دیں اور یہی چیز رسک کے لیے بھی میں نے آپ کو کل بھی بتایا کہ ہم رسک کیسے لیتے ہمارا بچہ ایک لاکھ روپے کیسے کماتا ہے अगर आप एक्जैक्ट वह काम 12 कहूं की जगह सैन फ्रांसिसको में करें और इंटरनेट पर बैठकर करें तो आपकी हमने नहीं 10 गुना बढ़ जाएगी क्योंकि अभी यहां पर आप अगर ट्रेड करते हैं और 2 करोड़ का प्लॉट है तो वहां तो भाई बीच 50 करोड़ से शुरू होती तो पचास करोड़ पर वन परसेंट टू परसेंट बनेगा ज्यादा बनेगा और दीज दो करोड़ पर दो परसेंट वन परसेंट कम बनेगा तो आपको किस हकीम साहब ने कहा है कि आप यहां बैठकर उतना आठ दस लटे काम करना है ना इस मार्किडंड क्यों कर रहा है अपिच मार्किड करनें अगर हम खिद हम अगर फिसान है टमाटर रगार है और इसी माहला में बेच जा रहे हैं जहां पर 3069 अगले माहला में चलिए छाली तो स्वदु हो जाता चले जाए तो चार्ट सुर्वे वेला और टी चले जाए तो 18,000 हो जाता है तो कितना बेचना चाहिए जहां महंगा बिकता हुआ माल मां बिकता तो टाइम भी तो इसी तरह बेचना है ना किसी को बिल्कुल अच्छा अगर हम इस टाइम को महंगे वाली पार्टी में भेज दें तो हमारी आमदनी ज्यादा है अब परवेश भाई जो भी काम करते हैं यहां की टार्किट की जगह वह खुद इंग्रीटिश सेटिजन है अगर इंग्लिंड की मार्केट में वहीं सर्विस बेचते तो हमारी आमदनी बैठे-बैठे 10 से 50 गुना बढ़ जाती कुछ भी नहीं करना और सिर्फ मार्केट चेंज करनी है और उसके लिए जबान अंग्रीजी जबान जरूरी है क्योंकि जिस मार्केट में बेचने अगर मैं जाकर पठानों के लाखे में काम करूंगा आती तो मुझसे काम कितने लोग करें तो जिस इलाके में मुझे काम करना उनकी जबान का कल्चर उनका और हैंसें दिखना पड़ता है आपको ढालने को नहीं कह रहे बहुत सारे मेरे दोस्त इसी हुलिया में आपके हुलिया में अमरीका में रहते کوئی روک ٹوک نہیں ہے تو ہم نے اپنے آپ کو نہیں بدلنے اپنے آپ کو سخت کرنا ہے اور ان کی مارکٹس میں جا کے ان سے پیسہ لے کر آنا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو زیادہ دیا ہے اقبال کا کیا کہنا ہے کہ وہ جب ویسٹ میں جاتے ہیں تو اسلام نظر آتا ہے مسلمان نظر نہیں آتے اور پھر ادھر واپس آ جاتے ہیں تو مسلمان نظر آتے ہیں اسلام نظر نہیں آتا تو جہاں اسلام ہے رائج ہے وہاں پر جا کے کوشش کریں کہ وہاں سے پیسہ کھو رہے ہیں اور یہ سارے بچوں کو ہم اسی لیے تیار کر رہے ہیں کہ یہ بیس بنا رہے ہیں ابھی تو ابھی میرے پاس اسکول میں کوئی بھی ایک سال سے اوپر کا بچہ نہیں ہے جو آتا ہے ایک سال ہوتا ہے نا تھوڑے سے پیسہ آنے لگتے ہیں جیسی تھوڑے سے پیسہ آنے لگتے ہیں تو بھاگ جاتا ہے اور وہ ہمیں برا بھلا کہہ کے بھاگتا ہے اور وہ اٹھارہ سال سے پندرہ سال سے اببہ نے پچیس سال سے جو پڑھا ہے اس پر کوئی پرابلہ نہیں کہتا ہمیں ایک سال میں کہتے ہیں کہ ایک لاکھ نہیں آرہا بھائی ایک سال میں ایک لاکھ نہیں آتا چار سال میں آتا ہے لیکن ایک جیسے یہ بیٹھا ابوزر تمہاری کتنی انکام ہوگئی پچاس سال پچاس سال آٹھے مہینے تک کمات چکا ہے اور وہ کدھر ہے دوسرا حیشام کتنی کر چکے ہیں وہ اس کو ایک سال ہو گیا تو اگر یہ چوزے بیٹھ کے یہاں کمات سکتے ہیں تو یہ بھی چار سال اور گزریں گے تو یہ کہاں پہنچیں گے پہنچ جائیں گے جہاں ہم نے ان کو پہنچانا ہے لیکن اگر بھاگ جائے بھی ہے تو پھر یہ پچاس ہزار سے اسی بھی جائے گا رک جائے گا کیونکہ ٹیچر نہیں ہوگا پھر اس کے پاس ایکو سسٹم نہیں ہوگا اس کے پاس اور اس طرح کے بہت سارے بچے ہمارے پاس آتے ہیں والدین کیونکہ گریڈ میں ہوتے ہیں جلد واضحی میں ہوتے ہیں تو وہ چھوڑ کے چلے جاتے ہیں ہمارا جو ایک اور چیلنج ہے ہمارے اس ادارے کا کیونکہ نیا ہے تو بھی جانتا نہیں تو لوگ آتے تھوڑا سا سیکھتے چاہیے ریحان بھائی ہم مدارس میں کوئی ایسا سیٹ اپ بنا سکتے ہیں جیسے ہمارے ہاں تخصصات ہوتے ہیں فراغت کے بعد تخصص فرفق ہو گیا مختلف قسم کی تخصصات ہوتے ہیں اس میں اگر ہم ایک سال کا یا دو سال کا ایسا کوئی موڈل بنا دیں کہ جو علماء ہیں جو آٹھ سال کی درس نظامیں مکمل کرتے ہیں ان کے لئے ہم دو سال جگہ تمہارے پاس ہے ان کے لئے ایک سپیشل سی بلڈنگ بندہ بنا لے اور اس میں اگر دو سال کے لیے ان کو رکھ لیا جائے تخصص کے نام پہ تو possible ہے آپ کو کون کون سی زبانیں آتی ہیں ہمیں پیسے تو ہمارے ہاں دو ہی چلتی ہیں عربی ہوتی ہے اور آپ کو کون کون سے آتی ہے عربی جی جی اردو جی انگریزی انگریزی بس چوٹی پوٹی جی جی تو میں آپ کو کتنی بھی انگریزی سکا دوں گا وہ ٹوٹی پوٹی رہے گی رہے گی نا جی جی اور اردو بھی ما شاء اللہ پنجابی کی جھلک دے رہی ہے اگر آپ کی جب آپ دو تین سال کے تھے اور آپ کے گھر میں پانچ زبانیں بولی جاری ہوتی ہیں تو کسی میں بھی ٹوٹی پوٹی ہوتی سب میں آپ ایکسپرٹ ہوتے ہیں تو میرا مشورہ یہ ہوگا کہ ہمارے سکول میں پانچویں کلاس سے جیسے انگریزی کی کلاس ہوتی ہے میس کی کلاس ہوتی ہے جو بھی آپ کے سبجیکسی ایک ٹیچر ہوتا ہے نا تو ہماری ایک نیا ٹیچر ایڈ ہو گیا earning teacher add नहीं है नहीं और चाचू से लिखे चाचू भी आ गए इसे ज्यादा मांगना इनके पास यह बड़े अमीर हैं गाड़ी नहीं लिया हैं सब करते हैं तो अगर हम स्कूलों में इसी तरह से अपना इल्म बेचना सिखा दें जो यह किताब हम कह रहे हैं पांच से लागे तो क्या होगा कि इनको शुरू से ही मुंह को खून लग जाएगा और फिर कभी जिंदगी में यह भूके नहीं रहेंगे आपको किसी के हाथ आगे फिलाने की जरूरत खत्म होगी क्योंकि इनको पैसा कमाना आता है बेचना आता है बेचना कमाना हम लोग जा अपने लिए तो सवाली पैदा नहीं होता कि अपनी फीस मांग लें, लिफाफाई दिहूंड रहते रहते हैं, वाई जरा कुछ लिफाफाई कभी करा देना, ज्याती है न, अपने उपर भरोसा नहीं है कि अपने टाइम को बेच सकें, आपका टाइम बहुत मेंगा है, लेकि अगर आप बच्चपन से आठ नौ साल की उमर से उसको यह फीस लेना सिखा दें कि मैं आपको सिखा रहा हूं मैं आई सिखाऊंगा 1000 रुपचार्च करूंगा ट्यूशन कौन सा ऐसा लड़का है इस मस्जिद में जो नमास पढ़ने आता है जिसको यहां ہم ان کو سکھائیں گے کہ یہی ٹیوشن ہے آپ نے سارے مسجد کو پڑھا لی اگر آپ کے مسجد کے جو بچے محتقید کیا کہتے ہیں مقتدی ہیں وہ آرہے کے سارے کے سارے ہزار ہزار دو دو ہزار ایک ایک بچے کو دینا شروع کر دیں تو ان کی ٹیوشنوں کا مسئلہ ختم بھئی ان کو انگریزی نہیں پڑھنی ان کو فرنسی نہیں پڑھنی اے آئی تو پڑھنی ہے پیسے کمانا تو پڑھنی ہے سب کا پرابلم ہے نا پیسہ اور یہ معاشرہ چینج ہو رہا ہے یہ وہ پورا کیونکہ اے آئی آ گیا ہر جگہ آنا ہی ہے آپ کو مجھے خیال میں اندازہ ہے تو اس کا ان کو اندازہ بھی نہیں ہے اور وہ سیکھنا بھی نہیں چاہتے اس لیے کہ فائدہ نہیں ان کو نظر نہیں ہے تو کل جو ہمارے پاس امام صاحب آئے ہوئے تھے جمعہ کا خدبے میں وہ کہہ رہے ہیں کل میں نے اپنے جمعہ خدبے میں چائٹ جی پی ٹی کے تذکرہ کیا ہے اور میں نے اس کی خصوصیات دس منٹ بتائی ہیں تو میں نے ان سے کہا آپ کے تین بچے ہم سے پڑھ رہے ہیں پلیز ان کا نام لے دیا کریں کہ جی مزید اگر آپ کو پڑھنا ہے تو یہ باہر مرگے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو آپ پکڑ لیں ان سے جا کے جیسے آپ کہتے ہیں جی اللہ سے ڈلاتے ہیں پھر آخر میں کہتے ہیں چندہ دے دو سولہ لگوانا ہے لیکچر اسی صحب سے بناتے ہیں اسی طرح سے چیٹ جی پی ٹی کے اوپر ای آئی کے اوپر تھوڑا سا چیٹ جی پی ٹی سے بنوائیں اور لوگوں کہاں بھائی مزید سیکھنا ہے تو یہ ہمارے سٹوڈنٹس بیٹھے ہیں ہم آپ سے زکاة صدقہ نہیں مانگ رہے ہم آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپگریڈ ہوں اور ہمارے بچوں کو فیض دیں جیسے عیدی کے لیے کرتے نا جاؤ بیٹا لے کر آو فٹا پھر اس سے کہیں پانچ سو دو ہزار دو لے نا وہ چندہ کیوں مانگ رہے ہیں اجرت مانگ رہے ہیں اس کو مانگنا اگر آگیا اجرت تو پھر اچھا جو اچھا الکتیشن ہو غریب نہیں ہو سکتا اچھا مکینک ہو غریب نہیں ہو سکتا اچھا ہونا چاہئے پہلے تو اچھا کریں گے اس کو پھر اس کے بعد اس کو عمیل کریں گے یہ پانچ ہزار کی کتاب ہے پانچ ہزار کمانے کی تو یہ آپ کے مدرسوں میں ہونا چاہئے کیونکہ آپ نے کل فرمایا کہ کوئی پانچ سو دیتا ہے کوئی ہزار دیتا ہے کوئی پانچ ہزار دیتا ہے تو سارے بچے اگر پانچ ہزار دینے لگے تو آپ کو جو زکاة صدقہ مانگنے کی ضرورت ہے وہ ختم ہو جائیں ہزاروں مدارس ہیں ہزاروں مدارس اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو جائیں گے یہ سارا میں کام اس کتابوں کو بنانے کیلئے کر رہا ہوں کیونکہ پہلے میں نے ٹرائی کیا جب وہ صحیح ہونے لگا تو میں نے کتابی شکل بنا دیا یہ ساری جہد اس کام کیلئے ہے کہ ہم اس لینے والا ہاتھ دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہیں اس حدیث کو صحیح کرنے کیلئے میں یہ سارا کام کر رہا ہوں کہ ہمارے جتنے لینے والے ہاتھیں وہ ختم ہو چاہے وہ ہمارے پرائیم منسٹر کا لینے والا ہاتھ ہو چاہے وہ ہمارے دوسرے لوگوں کا لینے والا ہاتھ ہو اس کو ہم نے دینے والے ہاتھ میں کنورٹ کریں وہ جب بھی ہوگا ہم اس کے لئے پورا پراسس بنائیں گے جیسے میں نے آپ سے کہا کہ آپ میس کا ٹیچر رکھتے ہیں کل پولیس والا آ کے آرٹر دے کے گیا ہے بھار سیکورٹی گارڈر کو آپ کو بھی شد دیکھے گیا ہوگا میں نہیں معلوم تو وہ یہاں پر کسی نے آرٹر کیوں نہیں دیا کہ ارننگ کا ٹیچر کدھر ہے تمہارا نہیں جو سکول بند کر دیں گے غریب ملک ہے غریب ملک ہے نا بار بار یہی رونا ہے نا غریب ملک ہے سفدی رب بھائی دو بلین دے دو امریکہ بھائی ایک بلین دے دو ایجن ڈیولیمنٹ بھائی دو اچھا بجنی مہنگی کر دے دیں کوئی بات نہیں تم پیسے تو دو یار یہ کیا ہے اس کو کب ٹھیک کریں تو ٹھیک کرنے کی دوائی بچپن سے کیوں نہ دیں ہم निमू पानी बाना चाहिए पाकॉड़े की वाली हमारे पैसे मांगते शर्म क्यों आ रही है भी तो नहीं मांगे आप उनको ट्रेन करते हैं जाओ भी भरोगरों में जाओ सदका जकाद लेकर यह भी जाओ भी घरों में जाओ हमारा अपने दोस्तों को भेजते हैं घरों में जाओ भी एडमिशन लेकर रहो तुम्हारा जार प्रस्थित से 5000 जार प्रमार है चौप कि आजकल दौड़ा ही जार देने जाओ भी एक बच्चा लाओ दाई जार तुम्हारे जाकर उनको शौक पड़ा हो यह ऐसी तोड़ी जाए गया गया तो यह सिर्फ सोंच का सेंज आपको सारे इलम है मैंने ऐसी कोई चीज नहीं बताई जो नहीं हो सिर्फ सोंच का थोड़ा सा एंगल सेंज किया और उसके अंदर क्या है वह अब इग्बाल का शहर के बार-बार मैं भोल जाता यह जिस बदल कर लिए हम नहीं कर रहे हैं दो यह मैं प्रोसेस बना चुका हूं सिस्टम बना चुका हूं अब इंप्लीमेंटेशन का का टाइम है आप जिस تو تیس میں سے اگر دس بھی انگلیش نہیں سمجھتے تو پھر وہ وہ دوسرے کو سمجھائیں گے نا مشکل ہو جاتا ہے ایک چیز کی افادیت افادیت اصل بچے اکتا جائے نا کسی کام سے پہلے ہی آپ میرا نہیں خیال اکتا ہیں یہاں پہ بچے نہیں آتے جن کو ملک نہیں آتا دو سال سے یہی سسٹم دیکھ رہے ہیں چلانا آپ سٹارٹ کو کریں سارا باجی اور محلہ کے لئے ٹیک ہو جارہے ہیں اچھا اس میں نا روزانہ آدھے گھنٹے ہم نے ایسے باتیں کرنی ہوتی ہیں اچھا آپ اردو بولتے ہیں وہ انگریزی بولتے ہیں دو مہینے کے بعد وہ بچہ انگریزی میں جواب داتا ہے تو کیونکہ اس کا دوست آ گیا نا کوئی بلکہ دو مہینے میں نہیں رکھتے ہوں گے شاید جلدی انگریزی بولتے ہوں دیکھیں زبان کا تعلق نا پریکٹس سے ہے اور کچھ نہیں اگر آپ روز آپ کے کوئی پانچ دوست انگریز بن جائے تو آپ بھی انگریزی آجائے چکنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ کو اردو کسی نے سکھائی نہیں ہے بچپن سے سب گھر میں بول رہے تھے آگئی تو وہ غلطیاں ہو گئی ہیں آپ ٹھیک کر سکتے ہیں اے آئی بہت آسانی کر رہی ہے اور ایک کچھ مسکونسپشن ہے ہم اے آئی وے آئی نہیں پڑھاتے ہم تو اچھا انسان بنانے کی تربیت کرتے ہیں بڑا سوچنے والا بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ تو ایک تیمپریٹی ٹولز ہیں ان بہترین ٹولز استعمال کرنا چاہئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور حدیث ہے کہ بہترین گھوڑا ہونا چاہئے اگر آپ افورٹ کر سکتے تو آپ کا گھوڑا صحیح ہونا چاہئے آپ مجھے پلیس کریک کر دیجئے گا اگر حدیث ہے یا نہیں جی جی ہے فوم ہے یہ تو بس کوئی سی طرح سے کہ بہترین چیز استعمال کرنی چاہئے ذریعہ بلاغ اور جدید آلات کا استعمال تو ویسے ہی حضور علیہ السلام کی سنت ہے انگل غابون سے مضمت کی کی یہ شعرہ کی لیکن اس زمانے کا یہ جو شاعری تھی اشعار تھے وہ اس زمانے کا میڈیا تھا سب سے بڑا ذرائع تھا ادھر آپ نے کوئی شعر کہا وہ پھیل جاتا ہے وہ مکہ سے زبان در زبان ہوتا ہوتا مدینہ کے بچوں کی زبانوں پر ہوتا اور مدینہ میں کوئی شیر کہا جاتا تو وہ مکہ اور عرب سے اجم یہ شائری ایک شائر سے دوسرے شائر تک تو وہ زمانے کا سب سے بڑا میٹیا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکمن کہا اور یہ شیر کہنے کی ترغیب دی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ سبق ملتا ہے کہ ازرائی ابلاو اور جدید علات کا صحیح استعمال دروس استعمال یہ حضورﷺ کے سنت ہے وہ بات اولاد کے حقوق سے متعلق آئی تو میرے ذہن میں ایک حدیث آ رہی تھی اور وہ میں عرض کر دوں ہوں جو آپ کی لائن ہے اسی سے متعلق ہے کہ وہ سعد بن وقاس رضی اللہ تعالیٰ عنہم مکہ میں بیمار ہوئے تھے تو حضورﷺ ان کے پاس گئے تھے عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے فرمایا یا رسول اللہ میرا مال ہے تو میں اس کل کو خرچ کر دوں تو آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے فرمایا آدھا فرمایا آدھا بھی نہیں پھر فرمایا تیسرا حصہ تو کہا ہاں یہ کر لو لیکن یہ بھی زیادہ ہے پھر اگلی بات بچوں سے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انکا ان تدع ورستک اغنیہ خیر من ان تدع عالتن قففون الناسا فی عیدیہم کہ تم اپنی اولاد کو غنی چھوڑو یہ بات بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں تو یہ اولاد کو غنی بنانے کی فکر کرنا یہ ایک بنیادی اولاد کا حق ہے کہ وہ محتاج نہ ہوں تو آپ کی یہ کوشش اپنے بچوں کے علاوہ لوگوں کے بچوں کے بارے میں بڑی جو ہے خیر ہے تو ویسے بھی اللہ پاکستان کامیاب کرنا تھوڑا خمچیل خودکفیل کرنا یہ بھی حضورؐ کی سنت ہے وہ ایک انساری صحابی بڑا مشہور واقعہ ہے آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک انساری صحابی حضورؐ کے پاس خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تنگ دستی کی اور فاقق شکایت کی کہ یا رسول اللہ حالات بڑے تنگ ہیں تو حضورؐ نے پوچھا کہ بھئی گھر میں کچھ ہے انہوں نے کہا جی ایک چادر ہے اور ایک پیالہ ہے وہ لے آؤ تو وہ صحابی وہ چادر اور پیالہ لے کے آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دونوں چیزیں فروف کی اور وہ جو پیسے اسے کھانے کی چیزیں لی گھر کا سودا اور باقی جو بچا وہ کہا جاؤ بھئی کلاڑی خریدو اور جنگل میں لکڑیاں جا کے کٹو اور بیچو پندرہ دن بعد آنا تو وہ انہوں نے کلاڑی خریدی جنگل چلے گئے اور کٹتے رہے اور بیچتے رہے پندرہ دن بعد آئے تو ان کے پاس کچھ انویسمنٹ جمع ہو چکی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ یہ جو تم کر رہے ہو یہ سوال کرنے سے بہت بہتر ہے تو خود کفیل کرنا اور دوسروں کو معاشی طور پر مستحقم کرنا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی سنت ہے یہ سنت آپ کو مبارک ہو آپ بہت مبارک کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کا آمی و ناصر ہو ابھی نئی چیز ہے نا سمجھ میں آنے میں وقت لگے گا جس طرح وہ بڑوں بڑوں کو لگتا ہے بس مجھے برتنا حصیب کریں میں تو آج وہ ایک دوسرے دوست تھے ہمارے ان کو لے کے آیا تھا مولی علیہ السلام وہ آپ کی کی طرح اسی میں لیکن وہ ان کا کوئی دو بجے اور تھا پروگرام وہ اسی میں لگے ہی تھے ہم ان سے لڑتے بھی تھے بس کرو چھوڑو پکت آیا کر رہے ہو لیکن اس نے کراچی بھی گیا کراچی میں آپ کے ساتھ بھی گئی وہ اپنی ایک تصویر دکھا رہا تھا مجھے کہ میں ملا ہوں ان سے لیکن اب جا کے وہ چھ سات ساٹھ سال بعد سیٹ ہو گیا لیکن آپ کا بچہ اگر آٹھ سال سے شروع کرے نا تو میری جہدی یہی ہے کہ ہوتا کیا ہے کہ اگر وہ اٹھارہ کا ہو جائے نا پیارے بیٹے آپ کہہ رہتے ہیں نا کہ فراغت کے بعد دو سال دیں میں آپ کو وجہ بتاؤں کہ کیوں نہیں کریں فراغت کے بعد ہر اٹھارہ انیس سال بیس سال کے بچے کے دماغ کو صرف شہوت ہوتی ہے اور وہ زبان پہ نہیں لاتا یہ ایک مسئلہ ہے اس قوم کا بہت بڑا جو کہ ہم اس کو ڈسکس نہیں کرتے اس شہوت کی وجہ سے ماں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ماں باپ شادی نہیں کرتے اور گناہگار بھی ہوتے ہیں کیونکہ ماں باپ کے اوپر حکم ہے کہ اگر کوئی غلط کام وہ کرتا ہے خیالات بھی آ رہے ہیں تو ماں باپ گناہ گا رہے ہیں کیونکہ وہ اس کی شادی نہیں کر رہے ہیں وہ شادی کیسے کر رہے ہیں پیسے ہی نہیں ہیں تو اس لیے میں نے جب اوپر والوں کو پڑھاتا تھا اٹھارہ سے تو مجھے بہت چیلنج ہوتا تھا کہ وہ اپنے رزق کے تلاش میں پریشان رہتے تھے تو ہم سکھانے کے باوجود بھی دماغ میں کیونکہ لڑکی چل ابھی بھی پھر رہا ہوگا شاید میری نئی گل فرنڈ بنی ہے میں نے کہا واہ ویری گل کیا ہے اس کا نام پہ یہ نام میں نے کہاں سے ڈھونڈ لی کہ شکول کی بچی ہے میری دوست ہے گرل ہے اور فرنڈ ہے اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ گرد اس کوت ماسوم ہے نا تو اس ماسومیت کے اندر ہی کیوں نہ ہم ان کو enable کرنا تو چودہ پندرہ سال تک وہ جب تک اس کے دماغ میں جو hormonal change آنا ہے ریڈنگ اچھا آنی ہے اس سے پہلے ہی میں چاہتا ہوں کہ ان کے اندر سے وہ جھزک ختم ہو جائے کہ یہ پیسہ کوئی بری چیز ہے یا خراب چیز ہے یا کمانا کوئی مشکل کام ہے اس کے بعد نکل جائیں آگے اور آپ پھر کوئی انشاءاللہ کوئی اور کام کرے گا کہ میں چاہتا ہوں جلدیلی شادیاں ہوئیں کیوں ہم اتنا ڈیلے کرتے ہیں اس کو حلال گرل فرنڈ دلوا دیں سب کو کیا پرابلم ہے اگر پیسے والا نہیں ہے غریب ہے تو غریب کی بیٹی سے شادی کر آ دیں شادی تو کرائیں اس کو پریشان رکھا ہوئے دماغ کو اس کی جبلت میں ہے کیوں اور اس کو روک رہے ہیں کیا کرنا چاہتے ہیں یہ ایک مسئلہ ہے جس کو آپ لوگوں کو آپ دین والے ہیں ان کو کہیں میں بولتا ہوں تو لوگ در ادھر در دیکھنے لگتے ہیں مجھے گھور کریں کیا تارے ہو لیکن یہ ایک مسئلہ ہے جو جبلت کا مسئلہ ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے انشاءاللہ اپنے ادارے میں ہم کوئی نظم بناتے ہیں مستقل تعلیمی نظم کا ایک گھنٹہ پہلے تو اپنے بچوں کی اور وہی مولی صاحب جو یہ پینتیس منٹ ڈی کے کتاب ہے اچھا اس میں اگر کوئی پرائیمری نہ ہو کوئی بات نہیں یہ پرائیمری نہیں ہے پانچ فی پاس جیسے ہمارے بچے اب انہوں نے تیسری تیسری اس طرح ہاں چلے ان کو بھیجتے ہم وہاں جو مولی صاحب بھی سخت آرڈر کر کے گئے ہیں آپ تو بچوں کو بھیجیں نا وہ آئے تھے یہ جو میں نے بتایا ایلیاس ابھی آپ دس دن ہیں یا چلو میں کوشش کرتا ہوں ملاقاتیں نہ کروں آپ کا تو حق ہے کیونکہ آپ پڑوسی بھی ہیں مجھے آپ سے کام بھی ہے کیونکہ مجھے یہ سکول چلانا ہے نہیں تو میں جیب سے کب تک جس کو بھروں گا اگر بچے نہیں ہوں گے تو ادارہ تو جیسے شاعر ہے نا شاعری چھوڑ دے گا اگر سننے والا نہیں ہوگا تو سکول کیسے چلے گا بغیر بچوں کی اس میں ساتھ میں ان کی یہ سکولنگ بھی ہو رہی ہوتی ہے لکھائی پڑھائی یا جی جو نارمل سکول ہے ہمارا. نارمل سکول. وہ ہم لیتے ہیں پانچویں سے اور چوتھی سے. اچھا. ہم پہلی جماعت دوسری جماعت تیسری جماعت جنرلکھائی پڑھائی والا سلسلہ ہم وہ اس کلاس میں ہمارے پاس کلاس ہی نہیں ہے. ہم چوتھی اور پانچویں میں لیتے ہیں. اور اگر کوئی نارمل سکول جا رہا ہے تو شام کو ایک گھنٹہ آ جائے بس. ٹھیک ہے. چھے مہینے تک ایک گھنٹہ آ جائے بس. اس کے بعد پھر جب وہ آپ کو سمجھ آنا شروع ہو جائے کہ ہو کیا رہے پھر آپ پورا بچہ ڈال لیں ہمارے پاس. کتنی سال کا بچہ ہم آٹھ نو کا لے لیتے ہیں. آٹھ کا انشاء اللہ یہ انشاء اللہ گیارہ والا تو ان کا میری نظر ہے اس کے اوپر اس کو تو لے کے آئیں گے. دس تھا نا دس کا. آس ابھی دس کا نہیں ہوا. ناو بھی صحیح ہے چلے آئے. صحیح. صحیح بھئی آپ تھوڑا سا اپنا توجہ بہن کو بتایا کل آپ نے کہ آپ کا کیسا رہا اپنے بچوں کو لانے کے لیے آپ اپنی کہانی سوڑی سے بتائیں ناظر آرہے آج آج ہم نے اپنے بچوں کا یہ کیا ہے سکول اندہ سعید بھائی جو ہیں وہ قرآن پڑھاتے ہیں آن لائن بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم میرا نام سعید اختر پاورٹی والا ہے اور میں ریحان سکول راول پنڈی کیمپس کا پرنسپل ہوں اس سے پہلے میں نے سٹارٹ یہاں سے کیا تھا میں نے الحمدللہ دو بیٹی ہیں میری اللہ کے فضل سے اور دونوں میری خوش قسمتی ہے کہ اس ریحان سکول کی وہ سٹوڈنٹ رہی ہیں اور اب وہ میرے ساتھ پنڈی کیمپس میں ہوتی ہیں لیکن سٹارٹ انہوں نے یہاں سے کیا پہلے میں نے اپنی بچیوں کو یہاں پہ داخلہ کروایا اور میں نے دو مہینے جس طرح ہم پیرنٹس کو کہتے ہیں مجھے بھی اجازت ملی اور بڑی خوشی ہوئی کیونکہ عام سکولوں میں پیرنٹس کو اجازت نہیں ہوتی ان کی تو کلاس روم تک ایکسیسی نہیں ہوتی ان کو کلاس روم تک نہیں جانے دیا جاتا لیکن یہاں پہ ہمارا جو سسٹم ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ آئیں ہفتے میں چار گھنٹے بچوں کو دیں بچوں کے پاس بیٹھیں گھنٹا بیٹھیں دیلی آئیں تو مجھے بڑی خوشی ہوئی تو میں نے فول ٹائم یہاں پہ بچوں کے ساتھ آنا شروع کیا اپنی بچیوں کے ساتھ میں آٹھ بجے صبح ان کو لے کے آتا تھا اور دو بجے چھٹی ہوتی تھی تو میں ان کو لے کے جاتا تھا میں فول ٹائم یہاں پہ بیٹھتا تھا بچوں کو دیکھتا تھا اپنی بیٹیوں کو دوسرے بچوں کو دیکھتا تھا ان کے انٹرویوز کرتے ہوئے دیکھتا تھا ان کو میں دوسرے کام ٹاس کرتے ہوئے دیکھتا تھا میں نے پورے پچیس پچیس منٹ کے اپنے بچیوں کے انٹرویو سنے تو پھر مجھے شوق ہوا پھر مجھے جب مزید پتا چلا کہ یہاں پہ پیرنٹس کو فری جو ہے نا وہ سکھایا جاتا ہے ان کو اجازت ہے سیکھنے کی تو پھر میں نے خود سے سیکھنا شروع کیا ایز اے سٹوڈنٹ میں نے سیکھنا شروع کیا میں نے لیول ون کیا پھر لیول ٹو جو ہے نا ابھی میرا جاری ہے تو الحمدللہ میں نے جو چیز دیکھی کہ یہ میچ لیس ہے کہ وہ خود کر دے نہیں ہیں خود سیکھنا نہیں شروع کرتے تو جب تک خود نہیں سیکھیں گے خود یہ کام کریں گے نہیں تو پھر اس کو اس طرح سے سمجھ نہیں آئے گی تو حضور اللہ سیکھا ہے یہاں سے اور سیکھنے کے بعد سکھا رہا ہوں دوسرے سٹوڈنٹ کو سکھا رہا ہوں اور میری بیٹیوں نے جتنا کوئی سیکھا اگر میری بیٹی چھوٹی سکول میں ہوتی تو وہ فورت کلاس میں ہوتی لیکن اس کا لیول ون ہے لیول ون کمپلیٹ ہونے والا ہے اور وہ بہت اچھا سیکھ رہی ہے اور اس نے ابھی اپنی ایب بنا لی ہے ایک جسٹس کے اوپر اس کا جسٹس والا ہے اور اب اس کے ذہن میں تھا کہ میں اپنی ایب بناؤں گی اور یہ شوق کہاں سے ہوا یہاں سے پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں یہ چیز آئی اور اگر فورت کلاس کی بچی کے ذہن میں یہ چیز آ سکتی ہے کہ میں نے اپنی ایب بنانی ہے اور ابھی وہ ہمارا ایک ٹاسک ہوتا ہے انٹریو کا اور ابھی وہ فارنرز کے ساتھ انٹریو کر رہی ہے اور اگلے دن میں دیکھ رہا تھا اور میری خوشی کی انتہا نہیں تھی کہ اس کا ایک انٹریو ہوا ایک فارنرز کی خاتون تھی ان کے ساتھ انٹریو ہوا تو انٹریو کیونکہ وہ لائیو ہوتا ہے تو اس پہ کمنٹ آ رہے تھے تو ایک صاحب تھے انہوں نے کمنٹ کیا کہ اتنی چھوٹی بچی اور اتنی بڑی عمر کی خاتون کے ساتھ اور یہ فارنر کے ساتھ انٹرویو کر رہی ہے پھر اس نے میری بیٹی کو میسج کیا اس سے پوچھا اور میری بیٹی نے بتایا کہ اس طریقے سے میں لیول ون کی سٹوڈنٹ ہوں اور میں اپنے سکول کی ایک وائس پرنسپل بھی ہوں اور اس کے بعد وہ صاحب آئے سکول انہوں نے دیکھا سکول کا وزٹ کیا اپنے بچوں کو لے کے آئے اپنی میسیز کو لے کے آئے لیکن وہ ڈسٹنس کی وجہ سے انہوں نے سکول میں نہیں کروا سکتے اور بڑے لوگ ان کو دیکھ کے حیران ہو رہے ہیں کہ کس طریقے سے یہ چھوٹے بچے سیکھ رہے ہیں سلیم پی آپ لے کے کیوں آئے تھے آپ یہ وہی تو کہانی ہے بوری لیکن اس لئے آیا تھا کہ میں نے بہت سارے سکول ٹرائی کیے ان کے لئے لیکن مجھے سکول سسٹم پسند نہیں تھا کیوں پسند نہیں تھا کہ ان کو پڑھا میں رہا تھا ان کو انگلیش میں گھر میں رائٹنگ میں سکھا رہا تھا ان کو انگلیش کمیونکیشن میں سکھا رہا تھا ان کو میتھ میں سکھا رہا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے حمد دی اور میں نے اپنی بیٹیوں کو قرآن پاک جو ہے نا قائدہ خود پڑھایا تجوید خود سکھائی اور اللہ کے فضل سے قرآن پر پورا میں نے ان کو پڑھایا تو میں نے سوچا کہ جب یہ ساری چیزیں میں نے سکھانی ہیں تو میں سکول کا کیا فائدہ میں سکول کیوں بھیج رہا ہوں اور اسی سکولنگ کی وجہ سے میں نے مری میں سنا کہ بہت اچھے سکول ہیں بہت بڑے اچھے برینڈ کے سکول ہیں پھر میں مری شفٹ ہو گیا دو سال میں مری میں رہا لیکن وہاں بھی میں نے جب دیکھا کہ نام تو ہے لیکن ریزلٹ کچھ نہیں ہے پھر میں نے واپس آ گیا اور میں آن لائن بچوں کا سکول ڈھونڈ رہا تھا تو خوش قسمتی سے مجھے اس سکول کا پتہ چلا ریحان سکول کا میں نے سر کی ویڈیوز دیکھیں اور دیکھیں اور اچھا لگا دیکھیں پھر سکول سرچ کیا اور ایک دن جس دن مجھے پتہ چلا کہ اب ایون کہ میں کراچی شفٹ ہونے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا کہ میں مری تو شفٹ ہوا ہوں تو وہاں بھی کچھ نہیں ملا تو کراچی شفٹ ہو جاتا ہوں کیونکہ میرا اپنا کام جو ہے وہ آن لائن ٹیچنگ ہے میں الحمدللہ پچھلے آٹھ دس سال سے آن لائن کران ٹیچنگ کر رہا ہوں تو میں نے کہا میرا تو وہاں پہ بھی آن لائن چل سکتا ہے میری تو جاب میں کوئی پرابلم نہیں ہوگی تو میں کراچی اگر کسی سکول میں ہوتی لیکن اس کو ایک گول مل گیا ہے اس کو ایک ڈیسٹینیشن مل گیا ہے کہ میں نے یہ چیز حاصل کرنی ہے وہ گول یہ ہے کہ اس کو پتہ ہے کہ میں نے ورلڈ کلاس لیڈر بننا ہے میں نے گینیز ورلڈ بک میں اپنا نام جو ہے وہ لکھوانا ہے اور میں نے ملٹی ملینئر بننا ہے میں نے پرابلم سالور بننا ہے اور میں نے ایک ایسی پرابلم کے جو دس لاکھ لوگوں کی پرابلم ہے اس کو میں نے حل کرنا ہے جسٹس والا اس نے اپنا والا جسٹس رکھا ہوئے اس نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں جسٹس کی پرابلم ہے اور میں انشاءاللہ اس اپنے ملک سے جسٹس کا جو ہے جو لوگوں کو انصاف نہیں ملتا میں وہ لوگوں کو انصاف دلواؤں گی اور اگر چار سال چوتھے کلاس کی بچی کو اگر اس کو یہ گول مل گیا ہے اب کرنا بھی یہی ہے کہ ہم جتنے بھی پیرنٹس ہیں جتنے لوگ مجھے سننے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو ایک گول دینا ہے اور یہی وہ سکول ہے جو بچوں کو ایک گول دے دیتا ہے تو جب جس بچے کو ایک گول مل جاتا ہے تو اس کے لیے پھر اس گول کو حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے ماشاءاللہ یہ اسی والس ہے آپ کا اللہ والا میرا خاندانی نام ہے لیکن ڈھونڈ اللہ کوئی روح اللہ کو بندوں کی طرح بندوں کے درمیان ملا جاتا ہے محفوظ رفیع عثمانی صاحب فرماتے تھے اللہ کا پہنچنے کے بیسیوں راستے ہوتے ہیں کوئی کدھر سے جاتا ہے کوئی کدھر سے چلیں ایک سوال اور یہ ہے میرے ذہن میں بچوں سے تو سیکھنے کا آپ کے ہاں نظم ہے بڑوں کا بھی نظم ہے سیم کتاب بچے کے ساتھ وہ کہہ رہا ہے نا بڑے بھی اور اگر بچہ نہیں ہے تو بھی صرف اس کتاب کے لئے خود بھی آ سکتا ہے اور ہمارے پاس بڑوں کی دوسری کتاب بھی ہے تیچر ٹریننگ کی کتاب وہ تیچر ہو پیرنٹ ہو وہ تیچر ٹریننگ کی کتاب ایک اور ایسی طرح کی اس میں کم ٹائم لگتا ہے وہ دو مہینے میں ختم ہو جاتی ہے چھ مہینے میں ختم ہوتی ہے وہ آپ کر لیں بہت اچھا فائدہ دے گا آپ کو آپ کی کاروبار کو آپ کے دین کو آپ کے مشن کو سب کو فائدہ دے گا کوئی ٹائم بھی ہے بیچز ہوتے ہیں اس اطارے کے اندر اسمہ ڈیسائیڈ کرتی ہیں وہ آپ ان سے ان کی بیگم ہیں ان سے ڈیسائیڈ کرتی ہیں آپ آجائیں آپ لوگ ہمارے گھر والے ہیں بھائی آپ جواب ڈیسائیڈ کریں جو آپ کو ٹائم سیٹ کرتے ہیں تو ایک گھنٹہ بچوں کے لیے بھی کرتے ہیں ہمارے بچے جو کہ سکول بھی گھر میں بڑھ رہے ہیں اچھا بھی گھر میں ہی کر رہے ہیں اوکے حفظ آپ سے کرتے ہیں حفظ ان کے مامو ہے وہ پانچ بچے ہیں ہمارے تین میں چھوٹے بھائی کے دو میرے تو ہمارے ٹائمنگ ہم ان کی جب وہ فارغ ہوتا ہے بھیج دیا میری بیٹی ہے وہ ان کا بڑا اشرار بھی ہے تو اس کا بھی نظم ہو سکتا ہے اگر آپ اس کو دونوں رکھنا چاہتے ہیں آپ وہ سکول بھی رکھیں تو وہ جب وہ سکول سے فارغ ہو کے کھانا مانا کھا کے ریس کر کے ایک گھنٹا یہاں جائے گا ٹھیک ہے نہیں بچے تو اکل سے ہمارے کے ساتھ آیا ہے نا وہ تو خوش وحرکہ پڑھنسل ہو رہا ہے کمان بھی ادھر آئے چلیں فائدہ ہو گیا آنے کا غلاب اجازت دیں تو میری بیگم کو بھی کہہ دیتا ہوں ہمارا سکول کھلا ہوا ہے سب کے لیے ہم صبح آٹھ سے شام پہ آنجے تک کھلے ہوتے ہیں آپ کہیں گے نوے تک کھول دیں آپ آئیں تو سی مجھے جہاں پہ جگہ خالی دیکھتی ہوئی نا کاٹ رہی ہے یہ اس ملک میں غربت بھری ہوئی ہے میں علاج دے رہا ہوں اور حکیم صاحب کے بعد وہاں نہیں رہا ہے حکیم صاحب پریشان ہے بھائی تھوڑی پڑی لے لو میری اس جگہ پہ ہماری جو ہے نا وہ آپ کے خریدنے سے پہلے بھی نظر تھی اب پوری نظر کر لیں آپ وہ کراچی میں ہے نا وہ الفلا مسجد والے وہ ریلیف ان کا وہ مولانا مونی مفتی مونیر صاحب اور حبیب اور امان صاحب وہ ریلیف فاؤنڈیشن ہے ان کی بڑا کام وہ بھی سکول بناتے ہیں تو وہ یہاں آئے تھے تو میں نے انہیں کہا یہ بیلڈنگ ہے تو جب ہم نے بات چیت کی پتا چلا یہ فروخت ہو گئی ہے کسی نے اب آپ لے لیں میں چلا جاتا ہوں یہاں پہ اللہ تعالیٰ کا ایسا حضور کرم ہے اور میں یہ نہیں کہ میں اسکول سے منسلک ہوں تو اس وجہ سے تو ٹائم کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا اور میں صبح آتا تھا ساڈے سات بجے سکول ٹائم تھا آف کا چار بجے تو مجھے کام میں یہاں پہ کیونکہ اتنی دلچسپی ہو گئی تھی اتنی وہ جو شوق پیدا ہو گیا تھا سیکھنے کا کہ رات آٹھ بج جاتے تھے اور میں گھر جاتا تھا ساڑھے ساہت آٹھ بجے ساڑھے ساہت آٹھ بجے پتہ ہی نہیں چلتا تھا رات کے آٹھ بج جاتے تھے چلیں جب شروع کرتا ہے جو دل سے شیک ہے جس کو شوک ہو جس کو اس چیز کو حاصل کرنے کی سمجھ آ جائے کہ یہ ہے کیا چیز گول اپنا سامنے نظر آ جائے اس گول کی سمجھ آ جائے تو پھر سکول سے جانے کا دل نہیں کرتا مولانا صاحب کا ایک سوال تھا جس کے لیے آئے تھے ایسا تو نہیں ہوگا کیونکہ آپ عالم دین بھی ہیں اور آپ قرآن پڑھاتے ہیں آپ دین سے بہت قریب ہیں تو ایسا تو نہیں ہوگا کہ کہیں اگر یہ بچے انٹرنیٹ اے آئی میں آئے کمپیوٹر میں آئے موبائل میں آئے تو وہ اسی میں گھنج جائیں یہ ایک سوال تھا جس کے لیے آئے تھے خوف میں ہیں کہ اگر ان کا بچہ یہاں آگیا تو ایسا نہ دین سے جائے اور آپ بھی خود آپ کی تو بتی دو دو ہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے اور اب بھی اللہ کی فضل سے وہی روٹین ہے میری تو رات کو کلاسز ہوتی ہیں میری جیسے ہی آزان ہوتی ہے میں اپنی بیگم کو اٹھاتا ہوں بیگم بچیوں کو اٹھاتی ہیں نماز ہوتی ہے پھر بچیاں قرآن پاک پڑھتی ہیں ہم نے ایک مخصوص ٹائم رکھا ہوئے کہ اس ٹائم پہ اپنے ٹاس کرنے ہیں اس ٹائم پہ آپ نے نماز پڑھنی ہے اس ٹائم پہ آپ نے قرآن پاک کی کلاس لینی ہے اور اب بھی قرآن پاک ختم کرنے کے باوجود میری روٹین ہے اور میری کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ دم آخر قائم رکھے کہ بچیاں کو سمجھایا ہوا ہے کہ آپ نے نماز کے ٹائم نماز پڑھنی ہے قرآن پاک کے ٹائم اپنا قرآن پاک کی وہ تلاوت جاری رکھنی ہے اور وہ الحمدللہ جاری ہے تو یہ تھوڑا سا گھر میں ہم اپنا ٹائم ٹیبل بنا لیں تو مجھے نہیں لگتا کہ بچے ایڈکشن میں آ جائیں گے ایڈکٹیڈ ہو جائیں گے یا چوبیس گھنٹے وہ جنسکرین پہ ہی بیٹھے رہیں گے ایسا نہیں ہوتا چلیں ان کے تو ہم نگرانی بھی اور اسورہ چلیں انشاءاللہ ہم آپ کے پڑوس میں آپ آتے شریف لے آئے اسے ہم فائدہ اٹھائیں گے لوگوں نے ہمیں ہو سکتا ہے آپ کے لیے بھیجو کراچی سے بھی بہت سارے دوستوں نے جو ہے نا وہ زور لگایا ہے کہ یہ فائدہ اٹھاؤ جزاکر سے بہت شکریہ