Imam O Ulema e Karam Ke Liay ChatGPT Ka Istemal | Complete Course by Mufti Ehsaan | Rehan Allahwala
Imam O Ulema e Karam Ke Liay ChatGPT Ka Istemal | Complete Course by Mufti Ehsaan | Rehan Training Unlocking the Power of ChatGPT for Imams and Aalims | Course by Mufti Ehsaan Hussain Welcome to this comprehensive course where Mufti Ehsaan Hussain guides Imams and Aalims on le…
Transcription
Urduموسیقی بسم اللہ الرحمن الرحیم ہمارے اکثر معزز علماء کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ عوام الناس جو ہے مساجد کی طرف نہیں آ رہے ہیں مساجد جو ہیں خالی ہیں عوام الناس میں مذہب بزاری بڑھتی جاری ہے اور ہماری عوام الناس کو علماء سے یہ شکوہ رہتا ہے کہ معزز علماء جو ہیں وہ آج سے وہی دیڑھ ہزار سال پرانی باتیں کر رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں کر رہے ہیں علماء کا عوام الناس سے شکوہ ہے عوام الناس کا علماء سے شکوہ ہے اگر ہم یہ بات دھوننے کی کوشش کریں کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ عوام الناس مساجد میں نہیں جا رہے اور علماء سے دور عوام کیوں ہو رہی ہے تو اس کی متعدد وجوہات ہیں میں ایک دو کی جانب آپ کو توجہ دو ہے جلانا چاہوں گا اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جو معزز علماء ہیں انہوں نے دین کے علوم حاصل کر رکھے ہیں جو کہ انتہائی اہم ترین بات ہے لیکن جدید علوم جو ہیں ان کا حاصل نہ کرنا بھی مذہب بزاری کی ایک وجہ ہو سکتا ہے مثال کے طور پر ہمارے جو عوام الناس ہیں وہ جمعے میں این نماز کے وقت جاتے ہیں نماز کے وقت کیوں جاتے ہیں وہ کہتے ہیں مولانا کی باتیں پرانی ہیں وہ کہتے ہیں مولانا کا انداز پرانا ہے مولانا کوئی نئی بات نہیں کرتے مولانا نئی بات اس لیے نہیں کرتے کہ مولانا کے پاس جو ہیں وسائل محدود ہیں مولانا صاحب جو ہیں وہ جدید طریقہ کار کو بروے کار لاکے ان کا استعمال کر کے نئی تحقیق نہیں کرتے ایک دو تین چار پانچ خطبات کی کتابیں مولانا نے رکھی ہوئی ہیں اور اسی کو بار بار وہ پورا سال دھوراتے رہتے ہیں مہینوں کے اعتبار سے اگر مولانا جدید علوم میں ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھ لیتے ہیں تو سال کے تین سو پیسٹھ دن ہر دن مولانا دو گھنٹے کا ایک نئے موضوع پر خطبہ دے سکتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے لیے جدید علوم سیکھنے پڑے گے جدید علوم کو سمجھنا پڑے گا تو آج اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ علماء اور عوام جو ہیں یہ قریب ہو جائیں اور ان کی مذہب بزاری کم ہو جائے تو اس کے لئے معزز علماء جدید ٹکنالوجی کا علم جو ہے وہ سیکھ لیں اور اس سے خود بھی استفادہ کریں اور عوام الناس کو بھی اس کے استفادے کی طرف لے کر آئیں عوام الناس کو بھی اس کی افادیت سمجھائیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی مسجد آپ کی مدرسہ یہ فقط دینی علوم کے علاوہ دنیاوی علوم اصری علوم جدید علوم کی جانب چلا جائے گا اور یہاں پر لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بن جائے گا تو علماء کو اس جانب سوچنا چاہیے اب سوال یہ ہے کہ علماء یہ سب کچھ کیسے کر سکتے ہیں علماء اپنی تدریج کو کیسے خوبصورت کر سکتے ہیں علماء اپنی تقریر کو کیسے خوبصورت کر سکتے ہیں علماء اپنے خطاب کو کیسے دلچسپ کر سکتے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت زیادہ اس پر کام کیسے ہو سکتا ہے دور جدید میں جو ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس کا نام ہے artificial intelligence اس کا ایک ٹول ہے جس کو کہا جاتا ہے چیٹ جی پی ٹی دور حاضر میں یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے معزز علماء اور تحقیق کا کام کرنے والوں کو یہ سیکھنا چاہیے میرا خیال یہ ہے کہ اگر علماء چیٹ جی پی ٹی کو سیکھ لیتے ہیں اس سے ان کی تدریسی مہارتیں بڑھیں گی اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں بڑھیں گی اس سے ان کی تقریر کا مواد بہتر ہوگا اور عوام الناس کا جو شکوہ ہے کہ مولانا صاحب جو پرانی باتیں کرتے ہیں وہ پرانی ہی کرتے رہتے ہیں یہ شکوا دور ہوگا اس کے لیے ہم ایک کورس جو ہے کروانے جا رہے ہیں موزس علماء کو جس میں ہم اس بات پر ذکر کریں گے کہ علماء کیسے اے آئی کے ذریعے جمعہ کا خطبہ ترقیب دے سکتے ہیں علماء کسی بھی عنوان پر تقریب کس طرح چیٹ جی پی ڈی سے لکھوا سکتے ہیں علماء اپنے جو صبح و فجر کے درس ہوتے ہیں یا مغرب کے درس ہوتے ہیں حدیث کی تشریح کس طرح اے آئی کی مدد سے وہ کروا سکتے ہیں اور جو علماء فتوہ دیتے ہیں وہ کس طرح اے آئی کی مدد سے فتوہ جو ہے وہ لے سکتے ہیں اور ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اے آئی کی مدد سے علماء اپنی مسجد کے حجرے سے پوری دنیا میں دین کا کام کیسے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں انشاءاللہ اس کے لئے یہ ہمارا کورس ہے آپ ہمارے ساتھ رہیے گا میرا نام احسان احمد حسینی ہے میں نے جامعہ نصرت العلوم گجرانوالا سے دورہ حدیث کیا ہوا ہے اور اسی طرح مختلف دینی کورسز کیے ہوئے ہیں سوشل میڈیا پہ آپ مجھے مفتی احسان حسینی کے نام سے جانتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان میں پہلا جو اے آئی بیس سکول ہے ریحان سکول وہاں کا ایک قرنگی کیمپس ہے وہاں پر میں زیر تعلیم ہوں اور وہاں پر ٹیکنالوجی کی کچھ باتیں علماء کو سکھاتا ہوں یہاں پر ایک بات جو ہے وہ انتہائی ضروری ہے ہم جب بھی جدید علوم کی بات کرتے ہیں جدید علوم کو سکھانے کی بات کرتے ہیں جدید علوم کے حوالے سے علماء کو ترغیب دیتے ہیں کہ علماء کو یہ سیکھنا چاہیے دینی مدارس کے لوگوں کو ٹکنالوجی سیکھنی چاہیے تو اکثر ایک سوال کیا جاتا ہے کہ یہ دور حاضر کے جو جدید علوم ہیں یہ تو غیر مسلمین کے اجاد کردہ ہیں تو کیا اب علماء غیر مسلمین کے علوم کو پڑھیں گے اب علماء غیر مسلمین کے علوم سے استفادہ کریں گے ہمارے جو سادہ لوگ ہوتے ہیں وہ بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ علماء کو یہ بات زیب نہیں دیتی یا کسی مسلمان کو یہ بات اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ کسی غیر مسلم کی شگیردی کریں یہاں پر ضروری ہے کہ ہم اسلام کا اصول تعلیم و تعلوم سمجھ لیں یاد رکھیے گا اسلام آپ کو قطعاً بھی جدید تعلیم سے منع نہیں کرتا بلکہ اسلام تو آپ کو جدید علوم سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت ساری جگہوں پہ تفکر کرنے کا حکم دیا ہے آپ اس تفکر کرنے کی جو تشریح ہے ��و مفسرین نے بیان کی ہے وہ دیکھیں تو علامہ کا کہنا یہ ہے کہ تفکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوقات میں تفکر کرنا اس میں چھان بین کرنا اس میں خوج لگانا اس کی گہرائی میں جانا اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوقات میں سے ایک علم بھی ہے ہم علم میں تحقیق کریں یہ بھی تفکر کے زمرے میں آتا ہے تو ہمیں قطن منع نہیں کیا گیا کہ ہم کسی بھی مفید علم میں تفکر نہ کریں یہ قرآن مجید کا حکم ہے دوسری ایک اہم ترین بات یاد رکھئے گا ایک کتاب ہے علامہ امام ابو بکر رحمت اللہ تعالیٰ کتاب کا نام ہے الاتحان فی علوم القرآن اس میں حضرت امام ابو بکر رحمت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے جتنے بھی علوم ہیں وہ قرآن پاک میں رکھے ہیں اب یہاں سے ایک بات سمجھ آئی علامہ صاحب کی بات سے امام صاحب کی بات سے کہ قرآن مجید ہر اس علم کی جانب ہمیں رہنمائی کرتا ہے اس کے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے جو مسلمانوں کے لیے اور انسانوں کے لیے بہتر ہو اسی طرح آپ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مفید علوم جس کو آپ جدید علوم کہتے ہیں وہ سیکھنے کی ترغیب دی اور بقائدہ طور جو ہے اصحاب اہل بیعت کے لیے اس کا از خود انتظام فرمایا میں ایک واقعی جانب توجہ دلاتا ہوں تاکہ پھر ہماری بات آگے پڑے دو حجری میں آپ جانتے ہیں مسلمانوں کے حقوق کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جد و جہد جدوجہد بہت ساری ہیں لیکن ایک جدوجہد جو مسلمانوں کے لیے کی گئی اس کا نام غزوہ بدر ہے اس میں جو لوگ گرفتار ہو کے آئے ہیں ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ لوگوں نے درخواستی کی کہ ہمیں معاف کر دیا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو رہا کرنے سے پہلے یہ پوچھا کہ تمہارے پاس کیا صلاحیت ہے جنہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں آتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کر دیا جنہوں نے کہا کہ ہمیں لکھنا آتا ہے ہمیں پڑھنا آتا ہے ہمیں سمجھنا آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ذمہ داری یہ لگائی کہ آپ مسجد میں بیٹھ کے میرے صحابہ کو لکھنا سکھائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا متعلق کریں تو پورے عرب میں فقط گیارہ لوگوں کو لکھنا آتا تھا شیخ الاسلام مفتی تکی عثمانی صاحب کی کتاب ہے علوم القرآن اس کا آپ متعلق کریں آپ کو پتا چلے گا انہوں نے اس کے اندر بقاعدہ نام دیئے ہیں کہ کون سے گیارہ لوگ تھے جن کو پورے عرب میں لکھنا آتا تھا اب لکھنا اس وقت کا ایک نیاب علم تھا اور لکھنا جو ہے اس وقت کا ایک جدید علم بھی تھا کیونکہ جدید علم کہا جاتا ہے کہ جو انسانوں کے لیے معاون علم ہو سیکھنے میں کسی بھی طرح سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غیر مسلمین کو مسجد میں بٹھایا اور اپنے صحابہ کو ان کے پاس بٹھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرائیوٹ سیکٹری رہ چکے ہیں یہ زید بن ثابت وہی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو وحی اترتی تھی یہ لکھتے تھے اب انہوں نے لکھنا کس سے سیکھا انہوں نے لکھنا انہی غیر مسلمین سے سیکھا تو اس سے یہ پتا چلا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از خود مسجد میں نئے علوم مفید علوم سیکھنے کی تغییب دے رہے ہیں اور احتمام فرما رہے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہ کے لیے تو کوئی بھی ایسا علم جو انسانوں کے لیے معامل ہو ہمارے کام کو بہتر کرے ہمارے مذہب میں معامل ہو لوگوں کے لیے بہتر ہو آپ کا وقت بچائے کسی بھی طرح آپ کو فائدہ دے وہ سیکھنا کسی غیر مسلم کا ایجاد کردہ علم ہو یا وہ کوئی بھی ایسا علم ہو کہ جو کسی غیر مسلم کے پاس ہو اس کو سیکھنے کی مکمل طور اجازت ہے اسلام کا اصول تعلیم و تعلیم یہ ہے کہ اسلام آپ کو علم سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس میں اسلام کوئی ایسی قید نہیں رکھتا کہ آپ غیر مسلمین کے علم نہ سیکھیں یا آپ کسی غیر مسلم سے نہ سیکھیں علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بہت سارے صحابہ رضی اللہ عنہم ایسے ہیں جن کو آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود اس وقت کے جدید علوم مفید علوم سیکھنے کے لیے آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلمین کے پاس بھیجا مثال کے طور پر سیدت کی کتابوں کو آپ پڑھیں تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط آپ کو ملتے ہیں وہ خطوط جو ہیں اس وقت میں دعوت کا ایک طریقہ تھا دوسروں تک پہنچانے کے لیے خط ہوا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ بادشاہوں کو خطوط لکھنے تھے اور ان بادشاہوں کی جو اس وقت کی زبان تھی ان کو عربی نہیں آتی تھی ان کو سوریانی زبان جو ہے آتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت کو وہاں کے یہودیوں کے پاس بھیجا کہ جاؤ سوریانی زبان جو فسی طرح سے بولتے ہیں وہ یہودی ہیں جاؤ ان سے سریانی زبان سیکھ کے آؤ حضرت زید بن ثابت جو ہے ان کے پاس گئے جا کے سریانی زبان سیکھی اور پھر آ کے سریانی میں آپ کے خطوط حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ لکھا کرتے تھے اس حدیث مبارکہ سے بھی یہ پتا چلا کہ جدید علوم اسلام کے لیے معاون علوم آپ کسی سے بھی سیکھ سکتے ہیں اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں ہے کہ یہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو اسی زمن میں میں آخری بات ہی عرض کروں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کے بیٹے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جن کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امت میں سب سے زیادہ قرآن مجید کا فہم ان کے پاس ہے آقا لسلاتو اسلام نے امت کو یہ بتایا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ پتا چلتا ہے کہ جب وہ اپنے قرآن مجید کی اور اپنے قرآن مجید اور دیگر جو اہل کتاب کی کتابیں ہیں وہ ان سب کو پڑھا کرتے تھے اور پھر اس میں معازنہ کر کے لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ قرآن بہتر کیسے ہے تو اس میں بڑی ساری باتیں جو ہیں وہ یہودی علماء سے پوچھا کرتے تھے سمجھنے کے لیے سیکھنے کے لیے کہ ان کا نقطہ نظر کیا ہے یہ سیدت کی کتابیں کتابوں میں آپ سیر آلام النبلاء پڑھ لیں آپ تاریخ تبری پڑھ لیں اس کے علاوہ امام سیوتی رحمت اللہ علیہ کی کتابیں پڑھ لیں اس میں سارے واقعات لکھے ہوئے ہیں تو اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب اہل بیت ان تمام کے احکامات کو ہم دیکھیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام آپ کو کوئی بھی مفید علم سیکھنے کی اجازت دیتا ہے اور آپ کو سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے اور اسلام آپ کو منع نہیں کرتا کہ آپ یہ نہ سیکھیں بلکہ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ آپ جدید علوم سیکھیں اور اس کو اسلام کے لیے مسلمانوں کے لیے انسانوں کے لیے آپ استعمال کریں تاکہ آپ مفید بن سکیں یہاں پر ایک بات اور سمجھنے کی ہے بات یہ ہے کہ ہماری عوام الناس کو آج علماء سے شکوہ یہ ہے کہ علماء جدید علوم کی بات نہیں کرتے اور اسی بات کی وجہ سے تاثر یہ چلا گیا ہے کہ جیسے جدید علوم جو ہیں وہ کبھی مسلمانوں کی دسترس میں رہی نہیں ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ابن خلقان کو آپ پڑھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی انہوں نے اپنی کتابوں میں ایک بہت خوبصورت بات لکھی ہے انہوں نے لکھا کہ آٹھویں صدی ہجری سے لے کے تیرہویں ہجری تک جتنے بھی جدید علوم جتنے بھی سائنسی علوم جتنے بھی مفید علوم ہیں ان سب کو ایجاد کرنے والے سب کے سب مسلمان تھے تیرہویں حجری کے بعد مسلمان پتہ نہیں کیوں جدید علوم کا استعمال کرنا چھوڑ گئے اور جدید علوم کو پڑھنا چھوڑ گئے تو پھر یہ بات کسی اور طرف گئی تو جدید علوم ہمیشہ سے اس کے بانی مسلمان رہے ہیں اس کو سیکھنا مسلمانوں کے لیے ضروری رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ جو ہماری مختلف قسم کی تفاصیل ہیں آپ وہ اٹھا کے دیکھئے ہمارے مفسرین ہمارے محدثین ایک وقت میں آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم بھی ہوتے تھے بہت بڑے تاجر بھی ہوتے تھے بہت بڑے جدید علوم کے ماہر بھی ہوتے تھے تو علماء کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ جدید علوم کی طرف آئیں کیونکہ جدید علوم جو ہے یہ ٹیکنالوجی کا علم جو ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق جو ہے ہماری گمشدہ مراس ہے ترمز شریف میں بقاعدہ روایت موجود ہے کہ حکمت جو ہے مومن کی گمشدہ میراس ہے جہاں سے میلے لے لو اب حکمت جو ہے ایسے علوم کو کہا جاتا ہے کہ جو تجربات کی بنیاد پر مفید علم ثابت ہو مفید خیال ثابت ہو مفید بات ہو اس کو حکمت کہا جاتا ہے تو ہمیں علماء کو جدید علوم کی جانب آنا چاہیے ٹیکنالوجی کے علوم کی جانب آنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے جو اکابرین ہیں ان کا ورثہ ہے مثال کے طور پر اس وقت پوری دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں آئی ہوئی ہیں یہ کیمیکل کی وجہ سے آئی ہونی ہے یہ ایٹم کی وجہ سے آئی ہونی ہے کیمیکل کو پوری دنیا میں متعرف کروانے والے ابتدائی طور پر تین لوگ ہیں ایک امام خالد ہیں ایک حضرت امام جعفر صادق رحمت اللہ علیہ اور پھر ان دونوں کے شگیر جو ہیں وہ جابر بن حیان یہ تینوں کے تینوں جو ہیں بہت بڑے نام ہیں آج بھی آپ کی جو جتنے بھی غیر مسلمین ادارے ہیں یا جو بڑے ادارے ہیں ریسرچ کرنے والے سائنسی ریسرچ کرنے والے وہ انہی کو پڑھتے ہیں انہی کی لکھنے کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں تو آج ہمیں ایسے علماء کی اشترین ضرورت ہے کہ جو سائنسی علوم بھی جانتے ہوں جو ٹیکنالوجی کا علم بھی رکھتے ہوں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ہمارے اقابلین کی ایک مراحص ہے تو میری معزوز علماء سے گزارش ہے کہ ہمیں اس جانب توجہ کرنی چاہیے اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ آج کے زمانے میں جو علماء مدرسوں سے فاضل ہو چکے ہیں یا مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں وہ کون سا سائنسی علم حاصل کر لیں وہ کون سا جدید علم حاصل کریں وہ کون سا ٹیکنالوجی کا علم حاصل کریں فی زمانہ چیزوں کو سیکھنا انتہائی آسان ترین ہو گیا ہے آج جس زمانے میں ہم زندہ ہیں دوہزار چوبیس چولائی میں اس میں ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس کو کہا جاتا ہے جی پی ٹی جی پی ٹی کا ایک ٹول ہے جس کو ہم کہتے ہیں چیٹ جی پی ٹی جتنے بھی علماء ہیں ان کو یہ سیکھنی چاہیے اس کے ذریعے علماء اور بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں وہ تحقیق کے میدان میں سیکھ سکتے ہیں اگر وہ علماء کسی بھی شعبے میں ہیں تو اس شعبے کے مطابق اس سے رہنمائی لے سکتے ہیں اب چیٹ جی پی ٹی کیا ہے چیٹ جی پی ٹی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ایک ٹول ہے artificial intelligence کہا جاتا ہے مصنوعی ذہانت کو GPT ایک ایسی تکنالوجی ہے جس کو تمام کی تمام کتابیں تمام کا تمام علم جو ہے پڑھا دیا گیا ہے آپ اس سے کوئی سوال اپنی زبان میں بول کے کرتے ہیں تو وہ آپ کو کسی انسان کی طرح جواب دیتا ہے اب یہ آپ کی مہارت ہے آپ اس سے مذہب کا کام لے لیں آپ اس سے کاروبار کا کام لے لیں آپ اس سے نفسیات کا کام لے لیں آپ اس سے کوئی اخلاقی سوال کر لیں آپ اس سے کوئی تجرباتی سوال کر لیں آپ اس سے فلکیات کا سوال کر لیں آپ اس سے کوئی بھی حدیث حل کروا لیں آپ اس سے قرآن پاک کی کسی آیت کا ترجمہ تشریح کروا لیں یہ ساری کی ساری باتیں جو ہے چیٹ جی پی ٹی آپ کو بتا دے گا اور علماء کا چیٹ جی پی ٹی سیکھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ علماء اگر اس کو سیکھ لیتے ہیں تو وہ اپنے جمعوں میں اپنی تدریس میں اپنے جو خطاب ہیں ان میں وہ ایک جدت لا سکتے ہیں اور نفسیات کے مطابق جو ہے لوگوں کو ان کی منٹالٹی کے مطابق بہت نئے نئی باتیں نئے موضوعات کی جانب توجہ دلا سکتے ہیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگوں کی مذہب سے ��لچسپی بڑھے گی اور وہ مولانا صاحب جو ہیں مذہب کا وسیع پیمانے پر کام کر سکے گے تو چیٹ جی پی ٹی سیکھنا اس لیے علماء کے لیے بہت ضروری ہے اب سوال آپ کے ذہن میں یہ آئے گا کہ ہم یہ چیٹ جی پی ٹی کی جو ٹیکنالوجی ہے اس سے اسلام میں کیسے معاملت لے سکتے ہیں کوئی بھی عالم جو مذہب کا کام کرتے ہیں کوئی بھی عالم جو اسلام کی تبلیغ کا کام کرتے ہیں اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے کسی بھی عالم کو واسطہ پڑتا ہے یا تو مرد سے پڑے گا یا عورت سے پڑے گا مرد اور عورت سے جب پڑتا ہے تو ان کو مختلف عمروں کے مرد و خواتین مولانا صاحب سے اٹیچ ہوتے ہیں مولانا بتائیں گے کہ ان کو قرآن کا علم آتا ہے ان کو حدیث کا علم آتا ہے ان کو تفسیر کا علم آتا ہے ان کو تشریح کا علم آتا ہے ان کو صرف و نہو کا علم آتا ہے اور مولانا آخر میں یہ سوال لکھیں کہ وہ ان تمام تر علوم کی تبلیغ پوری دنیا میں کیسے کر سکتے ہیں اب چیلٹ جپٹی ان کو یہ طریقہ بتا دے گی کہ وہ اسلام کی تبلیغ جو ان کو علوم آتے ہیں وہ پوری دنیا میں کس طرح سے سکھا سکتے ہیں چیلٹ جپٹی کو اسلام کے لیے ایک تو آپ اس طرح استعمال کر سکتے ہیں دوسرا اسلام کے لیے چیلٹ جپٹی کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ مثال کے طور پہ ایک موضوع پر بہترین خطاب کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے آپ کو کتاب درکار ہوتی ہیں اور بڑے سارے موزدس علماء اور بڑے سارے جو ہمارے مضافاتی دیہاتی علاقے ہیں وہاں پر لائبریریاں نہیں ہیں اور اگر لائبریریاں ہیں تو ہماری ان تک رسائی نہیں ہے تو اگر آپ کے موبائل میں چیٹ جی پی ٹی ہے تو آپ کسی بھی بہترین عنوان پہ تحقیق کر سکتے ہیں اس کا طریقہ آسان سا یہ ہوگا کہ مولانا صاحب یہ بتا دیں کہ مثال کے طور پر ابھی محرم کا مہینہ چل رہا ہے مولانا یہ بتائیں کہ محرم کے مہینے میں جس علاقے میں مولانا صاحب رہتے ہیں وہاں پر اس نفسیات کے لوگ رہتے ہیں اس حوالے سے میں کیا بیان کروں وہ آپ کو دسیوں خطبے دے دے گا قرآن سنت کی روشنی میں تو مولانا صاحب اس طرح چیئر جی پی ٹی سے تحقیق کر کے لوگوں کی بڑی ساری رہنمائی کر سکتے ہیں اسی طرح تیسری بات یہ ہے تیسرا طریقہ اسلام کے لیے چیٹ جی پیٹی کو استعمال کرنے کا یہ ہے کہ ہمارے مدرسوں میں جو مدرسین ہیں وہ کیا کرتے ہیں انہوں نے جب آدھے گھنٹے کا سبق پڑھانا ہے تو اس کو چار گھنٹے ان کو تیاری کرنی پڑتی ہے کیونکہ ہماری کتابیں عربی میں ہیں اس کے مختلف الفاظ ہیں انہوں نے ایک ایک لفظ کا ترجمہ تشریح تفسیر کرنا یہ اس کی تیاری کرنی پڑتی ہے فی زمانہ جب مدرسین مدرسوں میں پڑھا رہے ہوتے ہیں تو ان سے اگر کوئی طالبیلم سوال کر لے تو اگلے دن کا ٹائم دیا جاتا ہے کیونکہ علماء اس پر ریسرچ کرتے ہیں پھر بتاتے ہیں تو طالبیلم اور علماء اگر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال سیکھ لیتے ہیں تو وہ کسی بھی عربی کتاب کا کوئی بھی مسئلہ چھٹکیوں میں حل کر سکتے ہیں تو معزوز علماء جو ہے اس طرح علماء کی خدمت کر سکتے ہیں اس طرح دین کی خدمت کر سکتے ہیں آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے سوشل میڈیا کے ذریعے ہم روزانہ کوئی نہ کوئی پیغام دے رہے ہوتے ہیں تو آپ چیئر جی پی ٹی سے بڑے سارے علماء پیغام لکھنا چاہتے ہیں بولنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس سہولت نہیں ہوتی ان کو پتہ نہیں ہوتا چیئر جی پی ٹی سے آپ ان کو بتائیں کہ اس موضوع پہ آپ پیغام دینا چاہ رہے ہیں قرآن و سنت کے تناظر میں پیغام لکھ دے وہ آپ کو لکھ کے دیتا ہے آپ کو پوسٹ کر دیں اپنے متعلقین کو اپنے محبین کو اپنے مردین کو بھیج دیں تو یہ آپ کے لیے بطور معاون کے کام کرتا ہے جیسے آپ اگر ایک محقق ہیں ایک مفتی صاحب ہیں تو آپ کے معاون ہوتے ہیں وہ آپ کے لیے متعلق نکالتے ہیں تو اب آپ یہی کام چیٹ جی پی ڈی سے لے سکتے ہیں کہ وہ ہر کام میں آپ کی معاونت کرے گا اب ہم سمجھتے ہیں کہ کیا مولانا صاحب اگر چیٹ جی بی ٹی کو سیکھ لیتے ہیں تو کیا اس سے جمعہ کی تیاری ہو سکتی ہے کیا کسی بھی عنوان پہ اس سے خطاب لکھوایا جا سکتا ہے کیا کسی بھی عنوان پہ اس سے اپنا خطبہ تیار کیا جا سکتا ہے تو آئیے اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کس طرح اس سے تحقیقی خطبات خطبات کے انوانات اور اس کی تفصیل قرآن و سنت کی روشنی میں لے سکتے ہیں میں آپ کو اپنی سفین پہ لیے جلتا ہوں اور وہاں ہم کچھ چیزوں کی تحقیق کرتے ہیں ہم اس کو ایک حکم دیتے ہیں اس حکم کو ہماری ٹیکنالوجی کی زبان میں کہتے ہیں پرامٹ ہم اس کو پرامٹ دیتے ہیں کہ محرم میں کن انوانات پہ خطبہ دینا چاہیے اچھا جی یہ اس کو میں نے کہا اب دیکھیں اس کو میں نے اردو میں کہا تو اس نے اردو میں ہی اس کا جواب دینا شروع کر دیا اب اس نے یہ آپ کو بتانا شروع کر دیا کہ محرم الحرام میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اس پر بات ہونی چاہیے ان کی زندگی پر اس کے بعد اس نے بتایا کہ کربلا کے موضوع پر بات ہونی چاہیے پھر اس نے بتایا کہ ظلم اور عدل اس کے موضوع پر بات ہونی چاہیے اور سب سے اہم اس نے بتایا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات جو ہیں وہ کیا ہیں اس پہ بات ہونی چاہیے اچھا مثال کے طور پہ مجھے ان سب میں سیاسہ لگتا ہے کہ مجھے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات جو ہے وہ لوگوں کو سکھانی ہے میں کیا کرتا ہوں میں اس کو یہاں سے لیتا ہوں اور اس کو کہتا ہوں کہ مجھے اس پہ جو ہے تم کچھ بتا دو میں جسٹ اس کو کپی کر کے یہاں پہ پیس کر دوں گا اور آگے اس کے کوئسٹن مارک لگا دوں تو یہ مجھے امام حسین رضی اللہ عنہ کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات جو ہے وہ ساری کی ساری بتا دے گا میں اس کو پڑھ سکتا ہوں اب کسی بھی مولانا صاحب کو خطبہ جمعہ کے لیے فقط ہند کی ضرورت ہوتی ہے تشریح انہوں نے خود کرنی ہوتی ہے اب یہاں سے آپ کو نقاط مل گئے اب یہ سارے نقاط جو ہیں ان کی تشریح آپ اپنے مطابق جو ہے کر سکتے ہیں اسی طرح دیگر انوانات جو ہیں اب یہ مکمل طور آپ کو دیکھیں کتنی تیزی کے ساتھ بتا رہا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی کے اخلاقی اور روحانی پہلو جو ہیں اگر ہم نے اس پر بات کرنی ہے تو ہم ان ان نقات کو زیر بحث لاکر اس پر بات کر سکتے ہیں یہ کتنا ٹائم لگا ہے صرف آپ کے پینتیس سیکنڈ بھی پورے نہیں لگے تو یہ ایک مکمل خطبہ اس کے نقات جو ہیں دے دیئے ہیں اب یہاں پر معزز علماء جو ہیں ان کو ایک بات شاید یہ لگی ہوگی کہ یہ کسی امام حسین کو اس نے علیہ السلام لکھا ہے تو یہ پتہ نہیں کس کا سافور ہے دیکھیں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علیہ السلام امام بخاری نے اپنی بخاری شریف میں لکھا ہے تو ہم نے اس پر اتراز نہیں کرنا آپ اس کی جو تحقیق ہے آپ جو اس کی ریسرچ ہے اس کی جانب توجہ دیجئے تو یوں ہم اپنے جمعہ کا خطبہ کسی بھی عنوان پر اس سے لکھوا سکتے ہیں امید ہے میری باتیں جو ہیں آپ کو سمجھ میں آئی ہوں گے تو موزد ناظرین آپ نے دیکھا کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی سے ہم نے مختلف موضوعات پر تحقیق کروائی اپنے جمعے کے خطبے جو ہیں ان کو بنوایا اور پھر اس کی اجمالی باتیں اس کی تفصیلی باتیں کس طرح ہم نے چیٹ جی پی ٹی سے یہ منٹو کے اندر بہترین تحقیق کروائی اس پر میری موزد علماء سے گزارش ہے کہ آپ از خود بھی اس کو سمجھیں اور دوسرے اپنے شاگیر دزرات جو ہیں دوسرے علماء کو بھی سمجھا دیں اور اگر آپ کو کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ آ رہا ہے تو آپ میرے سے رابطہ کر سکتے ہیں میں آپ کی رہنمائی کے لیے حاضر ہوں محضر مفتیان کا ایک سوال تھا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی سے کیا فتوہ لکھوا سکتے ہیں بلکل چیٹ جی پی ٹی سے فتوہ لکھوایا جا سکتا ہے آپ نے اگر افتاہ کیا ہوا ہے اور آپ کو اصول افتاہ کا پتہ ہے تو آپ کیا کرتے ہیں آپ چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے کسی بھی قسم کا فتوہ جو ہے وہ لکھوا سکتے ہیں ہمارے ہاں عموماً دار الافتاہ میں کیا ہوتا ہے تحریر لائی جاتی ہے تحریر جب لاتے ہیں تو ہم ان کو تین دن کا پانچ دن کا سات دن کا اور اگر کوئی بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہو تو ہم ان کو ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس پر کتابوں سے ریسرچ کرنی ہوتی ہے اور کتابوں سے ریسرچ کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ہم نے اس پر تحقیق کرنے کے بعد حوالہ جات نکالنے ہوتے ہیں اور پھر ہم نے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ پہلے اس پر کون کون سے عالم نے کس کس نویت کا فتوہ دیا ہوا ہے پھر ہم اس کو لکھتے ہیں اور لکھنے کے بعد دیتے ہیں اگر آپ چیٹ جی پی ڈی سیکھ لیتے ہیں اور اس سارے کام میں کتنا ٹائم لگتا ہے ایک ہفتے سے ایک ماہ لگ جاتا ہے تو اگر آپ نے چیٹ جی پی ٹی سیکھ رکھا ہے تو آپ کسی بھی فتوے کو اگر آپ کے پاس بہت زیادہ فتوے ہیں تو آپ دسیوں فتوے ایک دن میں لکھ سکتے ہیں یہ سب کچھ کیسے کرنا ہے آئیے ہم اپنی سکرین پر چلتے ہیں اور میں آپ کو تفصیل سے سمجھاتا ہوں جی تو ہم سیکھ رہے ہیں کہ ہم اپنے فتوہ لکھنے کے عمل میں کس طرح چیٹ جی پی ٹی سے معاملت لے سکتے ہیں مثال کے طور پر یہ چیٹ جی پی ٹی ہے اور میں نے اس میں ایک سوال ڈالا ہے اس سوال ڈالنے کو ٹیکنالوجی کی زبان میں پرامٹ کہا جاتا ہے دیکھئے میں نے اس کو کہا کہ روزے میں روزے میں حلق میں خون جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ائمہ اربہ کے اقوال بتا دو اب دیکھئے اس کو فقط انٹر کرنے کی دیر تھی اس نے کام کرنا شروع کر دیا اب جتنی بھی ہماری جو فقہ کی کتابیں ہیں یہ اس سے دیکھ کے اس نے جواب دے دیا فقط دس سے پندرہ سے بیس سیکنڈ میں دیکھئے اس نے بتا دیا کہ امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کا موقف یہ ہے امام مالک رحمت اللہ علیہ کا موقف یہ ہے امام شافی کا موقف یہ ہے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کا موقف یہ ہے تو کتنا آسان ہے ہمارے جو مدرسین ہدایہ پڑھاتے ہیں ہدایہ میں انہوں نے ہر ہر مسئلے میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ ایم ماربا کا مسئلہ کیا ہے تو وہاں سے کسی بھی مسئلے میں اگر وہ مسئلہ پوچھنا چاہ رہے ہوں ایم ماربا کا تو فقط اس کو بتائیں یہ پندرہ سیکنڈ میں آپ کو دے دیتا ہے اب یہ دیکھیں کتنا آسان ہے اسی طرح ہم مزید ایک سوال دیکھ لیتے ہیں اس میں ائمہ کے اقوال کیا ہیں تو اس نے فقط دس سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں کام کرنا شروع کر دیا اب دیکھئے اس نے اس پر جو مختلف ائمہ کے اقوال ہیں مجھے وہ بتانا شروع کر دیئے امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے اکڑے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں دیکھیں یہ دیکھ لیجئے اس کے نیچے جو ہے اس نے مجھے بتا دیا ان کی امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی تفصیلی رائے جو ہے اس نے بتانا شروع کر دی ہمارا دورہ انٹرنیٹ آج سلو ہے جس کی وجہ سے شاید آپ کو تھوڑی سی دکت بھی ہوگی یہ باز مرتبہ یہ چیٹ جی بی ٹی جو ہے چونکہ ابھی سیکھ رہا ہے تو بعض مرتبہ یہ باتوں کو اوپر نیچے بھی کر دیتا ہے تو آپ نے اس میں کوئی بھی ریسرچ کرتے ہوئے اسلام کے اصولوں کو مدنظر رکھنا ہے اور از خود جو آپ نے اسلام کے اصول سیکھے ہوئے ہیں اس کے مطابق اس کو پرکھنے کے بعد آپ اس کا کہیں پہ بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ کہیں پہ بھی آپ خلاف اسلام یا کوئی بھی ایسی بات نہ کر دیں جو معتبر نہ ہو تو آپ نے دیکھا کہ ہم نے کس طرح آسان آسان باتیں کی اور بہترین انداز میں ہم نے کوئی بھی فتوہ جو ہے وہ چیٹ جی پی ڈی سے لکھوایا اور پھر اس کو ٹیکنالوجی کی مدد سے جس نے ہم سے وہ سوال پوچھا تھا اس کو بھیج دیا یہ ایک آسان طریقہ ہے موزز علماء کو موزز مفتیان کو اس پر توجہ کرنی چاہیے اور یہ چونکہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اس میں بہت ساری ��یزیں یقیناً آپ کے مطابق نہیں ہوں گی تو آپ اس پر بہت سارا کام کر سکتے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں یہ آپ کے مدرسے کا معامل بن جائے اور آپ اس سے مزید فتوے کا کام لے سکے یہاں پر میں موزس علماء کو ایک توفہ بھی دینا چاہوں گا ہم بات کر رہے ہیں کہ ہم کس طرح اے آئی سے دینی کاموں میں معاملت لے سکتے ہیں ہمارے استاد ہیں ریحان اللہ والا صاحب انہوں نے ریحان عالم کے نام سے ایک اے آئی بنائی ہے آپ جس طرح علماء سے قرآن و سنت کا کوئی بھی سوال کر سکتے ہیں آپ اس جی پی ٹی سے ریحان عالم سے کسی بھی قسم کا کوئی قرآن حدیث فقہ کے متعلق سوال کر سکتے ہیں وہ آپ کو با حوالہ تفصیلی جواب جو ہے دے دیتا ہے تو آئیے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہم اس سے قرآن مجید کے متعلق احادیث کے متعلق کوئی بھی تفسیر تشریح کروا سکتے ہیں اور پھر لوگوں کو بتا سکتے ہیں اور اپنے کام کو آسان کر سکتے ہیں اوکی تو اب ہم چیٹ جی پی ٹی کو موبائل میں استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے کہ کس طریقے سے موبائل میں چیٹ جی پی ٹی کام کرتا ہے چیٹ جی پی ٹی کو آپ موبائل میں دو طریقوں سے پرام دے سکتے ہیں نمبر ایک آپ ٹائپ کر کے پرومٹ دے سکتے ہیں اور نمبر دو آپ بول کر پرومٹ کر سکتے ہیں اب چونکہ یہ جو ہمارا لیکچر ہے اس میں ہم بات کریں گے کہ چیٹ جی پی ٹی کس طریقے سے اگر ہمیں قرآن اور حدیث سے کسی مسئلے کا حل دریافت کرنا ہو تو ہم چیٹ جی پی ٹی سے کیسے پوچھ سکتے ہیں اس کے لیے میں یہاں بنے ہوئے مائک پر ٹیپ کروں گا اور اپنا مسئلہ بیان کر دوں گا زکاة سے متعلق قرآن شریف میں اور حدیث میں کیا حکم آیا ہے اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو بات میں نے کہی اس کو چاہے جی پی ٹی نے لکھ دیا ہم درست کو ایک بار پڑھ لیں گے کہ کیا ہم نے کہا تھا زکاة سے متعلق قرآن شریف میں اور حدیث میں کیا حکم آیا ہے ٹھیک ہے یہ ہمارا پراؤنٹ ہے اب ہم اپلوڈ پہ ٹیپ کر دیں گے تاکہ چاہے جی پی ٹی ہمیں ہمارے سوال سے متعلق جواب دے تو جیسے ہی میں نے ٹیپ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے ہمارا جواب لکھنا شروع کر دیا سب سے پہلے قرآن پاک میں زکاة سے متعلق اللہ پاک نے جو حکامات دیئے ہیں وہ ہمیں آیت یہاں پہ دکھا دی گئی ہیں سورہ بکرہ کی آیت ہے اس کے بعد سورہ توبہ کی آیت ہے اور اس کے بعد حدیث مبارکہ میں زکاة سے متعلق کیا حکم ہے تو صحیح بخاری صحیح مسلم کے حوالوں سے ہمیں حدیث بھی دکھا دی گئی ہیں تو دوستو دیکھا آپ نے کہ چیٹ جی پی ٹی نے کس طرح سے ہمیں اگر کوئی مسئلہ یا ہمیں کوئی سوال درپیش ہو تو چیٹ جی پی ٹی کس طرح سے ہمیں اس کا انفرمیشن لاکے دے رہا ہے یہاں پہ ایک بات کو شامل کرنا بہت ضروری ہے کہ چیٹ جی پی ٹی خود ابھی سیکھنے کے مرحلے پر ہے تو چیٹ جی پی ٹی کا دیا ہوا آنسر خاص کر اسلامی پوائنٹ او ویو سے ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اسے کروس چیک کر لیں ایسا نہ ہو کہ ہو سکتا ہے چیجی پیٹی کیونکہ خود بھی چیجی پیٹی کلیم کرتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے تو قرآن پاک اور حدیث سے مطلق جو بھی ڈیٹا یہ ہمیں دے ہم پہ لازم ہے کہ ہم اس کو کروس چیک بھی کر لیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی کا احتمال نہ رہے I hope کہ اس ویڈیو میں آپ نے سیکھا ہوگا کہ ہم کس طریقے سے چاہے جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے اگر ہمیں کوئی کسی معاملے پر قرآن اور حدیث سے رہنمائی لینے ہو تو ہم کیسے لے سکتے ہیں تو آپ نے دیکھا کہ رحان عالم اے آئی جو ہے اس سے کس طرح ہم نے قرآن و حدیث اس کی حوالہ جات نکلوائے ہیں قرآن مجید کی آیات کی تشریح کروائی ہے تو اس کی مزید پریکٹس آپ کر سکتے ہیں اور اس پریکٹس کو کرتے ہوئے اگر کسی بھی نویت کا آپ کو کوئی مسئلہ آ رہا ہو تو آپ میرے سے رابطہ کر سکتے ہیں یہاں پہ کومنٹ کر سکتے ہیں تاکہ میں آپ کو سمجھا سکوں میں آپ کے لیے ہر وقت حاضر خدمت ہوں یہاں پر موزس علماء کا ایک اور سوال آ گیا ہے وہ یہ کہ اگر ہم اس کو استعمال کر کے چیٹ جی پی ٹی ٹکنالوجی جو ہے اس کو ہم استعمال کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کیسے کر سکتے ہیں بلکل اس سے اپنی آمدن میں اضافہ ممکن ہے کیسے ممکن ہے یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں ہمارے جو معزوز علماء تحقیق کے اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اگر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال سیکھ لیتے ہیں تو وہ چیٹ جی پی ٹی سے تحقیق کروا کے کسی بھی کتاب کے مصنف کو کسی بھی ریسرچ سینٹر کو اپنی خدمات دے سکتے ہیں اور وہاں سے ایک بہترین انکم جو ہے ان کو آ سکتی ہے ان کی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے علماء اگر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال سیکھ لیتے ہیں تو وہ بہت سارے پلیٹ فارم ایسے ہیں جن کو مختلف موضوعات پر ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ذریعے ریسرچ کروا کے وہاں پر وہ ریسرچ دے کے اپنی آمدن میں اضافہ کر سکتے ہیں دوسرا طریقہ یہ ہے تیسرا طریقہ یہ ہے کہ علماء یہاں سے اپنی ایک بہترین ویب سائٹ جو ہے علمی تحقیقی بنا سکتے ہیں جس میں اس سے ریسرچ کروا کے اور وہاں پر وہ ریسرچ دے کے اپنی آمدن کو بڑھا سکتے ہیں اسی طرح ہماری جو یونیورسٹیاں اور کالیج ہیں وہاں پر ہمارے جو بچے ایم فیل یا پی ایچ ڈی کر رہے ہوتے ہیں ان کو ایک معاون کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو اس ریسرچ میں ان کا ساتھ دے وہ ریسرچ کرنے میں ان کی رہنمائی کرے تو علماء ان کو یہ سروس دے کے اپنی آمدن بڑھا سکتے ہیں یہاں سے بھی بڑی ساری آمدن ان کی بڑھ سکتی ہے اسی طرح علماء جن کو کتابیں لکھنے کا شوق ہے اگر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال ان کو آتا ہے تو وہ اس سے تحقیق کروا کے اپنی کتابیں لکھ سکتے ہیں اور ان کو مارکیٹ میں رکھ کے اس سے آمدن حاصل کر سکتے ہیں اسی طرح علماء کو اگر آمدن بڑھانا ہے تو اس کے ذریعے علماء مختلف قسم کی زبانیں سیکھ سکتے ہیں جیسے ایک اے آئی کا ٹول ہے call any اس سے آپ کوئی بھی زبان جو ہے سیکھ سکتے ہیں بالخصوص علماء کو انگلیش سیکھنی ہوتی ہے اور وہ کسی بھی انسٹیوٹ میں جانے کے لیے ہچکی چارے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں پہ خواتین پڑھاتی ہیں اور وہاں پہ فیس کا مسئلہ آتا ہے تو اگر وہ اس کا استعمال کر لیں تو آپ کو انگلیش زبان آ جاتی ہے اور انگلیش زبان سیکھنے کے بعد پھر آپ کی آمدن بڑھنے کے چانسز جو ہیں وہ اسی فیصد زیادہ ہو جاتے ہیں تو یہ کچھ مختلف طریقے ہیں جس پر عمل کر کے علماء اپنی آمدن کو بڑھا سکتے ہیں یہ تھا ہمارا مختصر سا کورس جو ہم نے چیٹ جی پی ٹی کے متعلق آپ کو کروایا ہے اس میں میں نے تفصیل کے ساتھ آپ کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی ہے سب سے پہلے میں نے آپ کے سامنے ارز کیا کہ علماء اگر چیٹ جی پی ٹی سیکھیں گے تو ان کو کیا فائدہ ہوگا پھر میں نے آپ کے سامنے مختصر یہ بات رکھی کہ ہمارے ہاں جو عموماً ایک سوال کیا جاتا ہے کہ غیر مسلمین جو ہیں ان کے علوم ہم سیکھیں یا نہ سیکھیں میں نے قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کے سامنے حوالجات پیش کیے کہ ہم اس سے کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں اور اسلام ہمیں جدید علوم، ٹیکنالوجی کے علوم، سائنسی علوم سیکھنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ ترغیب بھی دیتا ہے اس کورس میں ہم نے سیکھا ہے کہ ہم کس طرح اسلامی کاموں میں چیز جی پی ٹی سے مدد لے سکتے ہیں اس کورس میں ہم نے سیکھا ہے کہ کس طرح ہم چیز جی پی ٹی سے خطبہ جمع کی تیاری کر سکتے ہیں کس طرح ہم اپنے کسی بھی عنوان پر خطبہ کی تیاری کر سکتے ہیں کس طرح ہم چیز جی پی ٹی کی مدد سے فتوہ لکھا سکتے ہیں اور پھر میں نے آپ کو بتایا کس طرح چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے قرآن و سنت کا کوئی بھی حوالہ ہم تلاش کر سکتے ہیں اور کس طرح ہم چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے کسی بھی ملک کی زبان کو سیکھ کے وہاں پر اسلام کی تبلیغ کر سکتے ہیں اسلام ان کو سمجھا سکتے ہیں تو مجھے امید ہے کہ میرا یہ آسان سا کورس آپ کے لیے بہت ہی مفید اور معامل ہوگا تو آپ اس کی پریکٹس ضرور کیجئے گا اور اس میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ آ رہا ہے میرا نام عیسان احمد حسینی ہے آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں میں آپ کی معاونت کے لیے ہر لمحہ حاضر ہوں
Related videos
48:59How To Earn | 100,000 Rupee A Month | With ChatGPT | Rehan Allahwala Complete ChatGPT Guide Course
videos.rehan.com/how-earn-100-000-rupee-month-chatgpt-rehan-allahwala-complete-chatgpt-167
7:12Rehan Allahwala Course no 1 | Lec. 01 | Course Introduction
videos.rehan.com/rehan-allahwala-course-no-1-lec-01-course-introduction-135
45:47Chat GPT Complete Course By Rehan Allahwala
videos.rehan.com/chat-gpt-complete-course-rehan-allahwala-486
3:18ChatGPT As A Teacher Kaise Istemaal Karein? - Rehan Allahwala ChatGPT Course EP 03
videos.rehan.com/chatgpt-teacher-kaise-istemaal-karein-rehan-allahwala-chatgpt-course-189
2:10Jis Ne Ki Sharam Us Ke Phootay Karam | Not Become Shy | Rehan Allahwala
videos.rehan.com/jis-ne-ki-sharam-us-ke-phootay-karam-not-become-shy-rehan-allahwala-2498
1:59Chat GPT Course Conclusion: What We've Learned from ChatGPT?
videos.rehan.com/chat-gpt-course-conclusion-what-we-ve-learned-chatgpt-470
3:40Start Using ChatGPT and CallAnnie | Lec. 06
videos.rehan.com/start-using-chatgpt-callannie-lec-06-130
5:59اب بول کر ChatGPT کے ساتھ بات چیت کریں | Speak with chatgpt
videos.rehan.com/chatgpt-speak-chatgpt-273