videos.rehan.com

Yeh waqt hai technology aur vision ka – Rehan School ka mission | #rehanallahwala

videos.rehan.com/yeh-waqt-hai-technology-aur-vision-ka-rehan-school-ka-mission-4625:24Urdu5 views↗ Watch on YouTube

Yeh waqt hai technology aur vision ka – Rehan School ka mission | #rehanallahwala --- In this powerful and eye-opening conversation between "Sir Rehan Allahwala" and "Ariful Haque Arif", we explore why Pakistan is still struggling economically while Europeans earn \$5000–\$10,…

Transcription

Urdu

بہت خوش ہوئی مل کر آپ کے بارے میں اور آپ کا کام اتنا دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور وہ نوول کام ہے مطلب بلکل ایک ندالہ کام ہے آپ کے اندر اللہ نے ایک ایسی صلاحیت پیدا کی ہے کہ آپ مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے یہ اس میں جدید تیکنالوجی میں کتنی ترقی ہوگی اس کو آپ دیکھ سکتے ہو مطلب ہے آپ ان لوگوں میں شامل ہیں جو یہ ویئن رکھتے ہیں یہ بصیرت رکھتے ہیں یہ دور تیکنالوجی کا دور ہے اور آپ اس کا گروہ ہیں خواہش تھی کہ ہمارا ملک کیوں غریب ہے ہمارے ملک میں اگر کسی کے پاس پانچ اکڑ ہے تو وہ پانچ سا ڈالر بھی نہیں کماتا اور جو یورپین ہے وہ پانچ ہزار ڈالر دس ہزار ڈالر کماتا ہے دنیا بہت گھومی سیاسی کنٹریز میں میں گھوما سمجھنے کے لئے کہ مسئلہ کیا ہے میرے فون میں تقریباً کوئی تیس ہزار سے زیادہ نمبر ہیں میرے لنگٹن پہ اسی ہزار نوویہ ہزار لوگ ہیں میرے فیس بک پہ سولہ ملین لوگ ہیں میرے یوٹیوب پہ آدھا ملین لوگ ہیں پانچ لاکھ ہیں میری کوئی دس ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہیں یوٹیوب کے اوپر اور سوشل میڈیا کے اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم بڑی خوشی کی بات ہے ریحان اللہ والا صاحب کہ آپ سے پہلی زفہ بالمشافہ ملاقات ہماری اس اکینہ کنونشن کی برکت سے کنونشن سینٹر میں ہوئی دو دن پہلے اور اس کا کریڈیٹ میرے بیٹے کو جاتا ہے جس نے کہیں تصویر دیکھ رہی تھی اور اس نے دیکھا آپ کو گھومتے ہوئے تو میں اکثر ذکر کرتا تھا گھر میں اور آپ سے انٹروڈکشن ہمارا ایک مشترکہ دوست جو جماعت اسلامی کے بہت ویگینری سیکٹی نشل اشارت گزرے ہیں ان کا نام شمی محمد تھا انہوں نے آپ کو عطار فرائے تھا اور اس کے بعد میں نے آپ سے اسی زمانے کا ٹیلی فون ہے تو میں خلاف بیچ میں بدلا ہوں گا لیکن یہ کہ میرے پاس اسی دور کا فون ہے تو بہت خوش ہوئی مل کر آپ کے بارے میں اور آپ کا کام اتنا دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور وہ نوول کام ہے مطلب بلکل ایک ندالہ کام ہے آپ کے اندر اللہ نے ایک ایسی صلاحیت پیدا کی ہے کہ آپ مستقبل میں کیا ہونا جا رہا ہے یہ اس میں جدید تیکنالوجی میں کتنی ترقی ہوگی اس کو آپ دیکھ سکتے ہو مطلب ہے آہ آپ ان لوگوں میں شامل ہیں کہ جو یہ بیئن رکھتے ہیں یہ مسیرت رکھتے ہیں تو آہ ما شاء اللہ اور بہت چھوٹی عمر سے آپ نے میں خیال ہے شروع کیا ہوگا آج سوز آپ کی عمر پچیس سالوں پچیس سال ساڑھے پچیس سال تو اب تک آپ اس میں لگے ہو ہے اور ہر وقت آپ لوگوں کو کنیک کرنے میں ان سے اپنے آپ کو ان سے تعلق بنانے میں اور اپنا کام پھیلانے میں اور اس انٹریسٹ نے آپ کو بہت تو میں آپ کے بیک گراؤنڈ سے بھی واقع ہوں تو وہ بھی ماشاءاللہ آپ کی تربیت بھی اچھی ہوئی اچھے گرانہ ہے دیلی سوداکران کا اور دلی والوں کا میرا سو سال دلی والا ہے اس لیے بھی کوئی انٹریسٹ ہے مجھے پتا ہے تو آپ یہ بتائیے کہ ہم زیادہ لمبی گفتو اس وقت نہیں کریں گے کسی اور وقت کر لیں گے آج صرف مجھے یہ بتائیے کہ آپ نے یہ جو یہ مجھے بھی آپ نے وہ ہڈی اور وہ مطلب ہے اپنا جاکٹ جس پر آپ کا یہ اشتہار ہے جس پر آپ کا یہ نعرہ ہے یہ ہے تو آپ یہ بتائیے کہ اس کی اگر تفصیل بتا سکیں تو میرے خیال ہے کہ اس کو ضرورت ہے کہ اس کو پھیلائے جائے اور ہر جگہ پاکستان میں بھی پاکستان سے باہر بھی مسلمانوں میں اگر یہ چیز آ جائے کیونکہ یہ دور تکنالوجی کا دور ہے اور آپ اس کا گروہ ہیں تو آپ اس طریقے سے یہ کرنا چاہتے ہیں آپ نے جو ایک پروجیکٹ ہے اس کی پوری تفصیل ذرا جو بتا دیں تو وہی چیز بہت شکریہ آپ کا اور بہت مجھے بھی خوشی ہوئی کہ مجھے ایک اچھا دوست مل گیا اچھا گائیڈ مل گیا اچھا جوان نوجوان آپ تو پچیس میں تو پچیس کہوں آپ تو بھی کس کے ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی جو عمر ہے اس کو بڑھائے اور ہڈی میں ویسی آپ اٹھارا کے ہمم تو میں ان سے اٹراکٹ ہوتا تھا ان کے بارے میں ڈاکیمنٹریز دیکھتا تھا ان کے ٹی وی کے شوز ہوتے تھے وہ دیکھتا تھا ایک امریکہ ایک سین ان ہوتا تھا پاکستان میں تو زیادہ ٹی وی نہیں ہوتے تھے اس میں ایک ہفتے میں شو آتا تھا سانانا پینیکل تو پینیکل یعنی پیک پہ جو لوگ ہوتے تھے ان کی پر ڈاکیمنٹری شو ہوتا تھا اس طرح کی جو شوز ہوتے تھے میں دیکھتا تھا یا نئی بخاری کا کوئی شو ہوتا تھا وہ دیکھتا تھا تو مجھے شوق تھا کہ بڑے لوگ ہوتے کیسے ہیں پھر جب میں بڑے لوگوں سے ملنا شروع ہوا تو پتہ سلا وہ تو میرے جیسے ہوتے ہیں وہ تو نارمل سے انسان ہوتے ہیں اور تھوڑی سی محنت زیادہ کرتے ہیں دوسروں سے اور ان کا فوکس تھوڑا سا کچھ فرق ہوتا ہے فالتو باتیں نہیں کرتے پھر میں نے کچھ جو چھوٹے لوگ تھے جو بڑے لوگ جیسے بن سکتے تھے اور جو اچھے کام کرتے تھے ان کو بڑے لوگوں سے جوڑنا شروع کرتے ہیں اس کے نتیجے میں اور میں ٹیکنالوجی میں بھی سائٹ سائٹ آتا گیا ہوں تو پچھلے جب سے انٹرنیٹ آیا ہے جب انٹرنیٹ فیس بک بلکہ خاص طور پر آیا ہے تو اس سے پہلے میں چاہتا تھا کہ کیونکہ میری ماں نے میرے اندر بہت زیادہ دکھی بنا دیا تھا کہ سارا ہر وقت دکھی رہتے ہیں پریشان ہیں اپنے سکھا کھانا بھی کھلا دیتی ہیں وہ اپنے اوپر کبھی خرچ نہیں کرتی ہیں تو ہمارے اندر بھی شیخ حسین کا تھا کہ اپنے اوپر خرچ نہیں کرتے دوسروں پر زیادہ خرچ کرتے ہیں تو خواہش تھی کہ ہمارا ملک کیوں غریب ہے بھائی ہمارے ملک میں اگر کسی کے پاس پانچ ایک اڈ ہے تو وہ پانچ سو ڈالر بھی نہیں کماتا ہوئے جو یورپین ہے وہ پانچ ہزار ڈالر دس ہزار ڈالر کماتا ہے تو دنیا بہت گھومی سیاسی کنٹریز میں گھوما سمجھنے کے لیے کہ مسئلہ کیا ہے تو اسی طور میں جب سوشل میڈیا آیا تو سوشل میڈیا اس سے پہلے میں چاہتا تھا کہ میں پریزیڈنٹ بن جاؤں پاکستان کہ ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو جیسے جماعت اسلامی سے یہ سنا ہے نا کہ پاور آئے گی تو کچھ کریں گے جب سوشل میڈیا آیا تو مجھے پتہ چلا کہ اس پاور کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پاور انفلوینس ہوتی ہے پاور طاقت نام میں نہیں ہوتی جس طرح سے پرانے زمان میں کینگڈم ہوتے تھے اسی طرح سے اس زمانے میں دیماکرسی ہوتی ہے اور اس دیماکرسی کے اندر انفلوینس طاقت ہوتی ہے ووٹ کی طاقت ہوتی ہے ووٹ کس کو ملتا ہے جو زیادہ مشہور ہوتا ہے کارکردگی سے ووٹ کا کوئی تعلق مجھے پتہ چلا کہ ہے ہی نہیں جو زیادہ اشتہار کرے گا جیسے کوکا کولا کرتی ہے تو ہم زہر ہے لیکن پیتے ہیں سگرٹ استحار زیادہ کرتا ہے زہر ہے پھر بھی پیتھے ہیں تو کیوں کرتے ہیں اس لیے کہ استحار زیادہ ہوتا ہے جس جس کی نشر و اشاعت زیادہ ہوتی ہیں وہ آٹومیٹکلی بکنا شروع ہو جاتی ہے تو کوئی دس پندرہ سال کی محنت سے کوئی پانچ دس ایسے لوگ کریٹ ہوئے جنہوں نے پاکستان کو بہتر کرنے کے لیے کام کیا اور لیکن پندرہ بیس سال کی محنت میں اگر دس لوگ نکلیں تو یہ بہت کم نمبر ہے میرے ساتھ سے تو اب میں اسی ٹیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے ایک ہزار مزید لیڈر بنانا چاہتا ہوں جو کہ ہمارے ملکے بجلی پانی گٹر جو بھی مسائل چل رہے ہیں ان کو سولتے ہیں یہ ہے اس سکول کا مقصد کہ ہم نیکسٹ سٹیف جاب بنایں نیکسٹ بیل گیٹ بنایں نیکسٹ لیڈر بنایں اور اس سے مسائل کو ٹھیک کریں کیونکہ انسان کی تربیت اس طرح ہے کہ وہ اس کو ایک لیڈر چاہیے ہوتا ہے وہ اس کو لیٹ کرتا ہے تو وہ کرتا ہے نہیں تو وہ آرام سے بیٹھا رہتا ہے تو ہم سب سے پہلے ایک ارادہ کرتے ہیں کہ میں نے تو یہ کام کرنا ہے تو ہم اپنے بچے کو چھٹی کلاس میں ارادہ کروا دیتے ہیں کہ بیٹا آپ نے پانی والا بن جانا ہے اب آپ نے صرف پانی کے پر کام کرنا ہے اگلے دس سال اور اسی پر فوکس کرنا ہے اور اسی کی پڑھائی کرنا ہے تو پڑھانے کے لیے انٹرنیٹ کے اوپر یوٹیوب پر ایک ویب سائٹ ہے TED.com TEDx کے اوپر دنیا کے ٹاپ لوگ آ کے گفتگو کرتے ہیں سبجیکس کے اوپر تو ہم ان سے کہتے ہیں روزانہ آپ نے ایک TED talk دیکھنے جیسے آپ نے کہتے ہیں کتاب میں ایک چپٹر پڑھنا ہے ایک صفحہ پڑھنا ہے ہم کہتے ہیں روز ایک TED talk دیکھنے اور اس TED talk کو دیکھنے کے بعد آپ نے سمجھانا ہے ویڈیو کے اندر اور رائٹنگ کے اندر اور اس کے بعد اس آدمی کو کانٹیکٹ کرنا ہے جس آدمی نے وہ ٹیڈ ٹاک دی تھی اور اس سے رابطہ کر کے اس کے ساتھ نیٹورکنگ کرنی ہے اور نیٹورکنگ کے بعد اس کا انٹریو کرنی ہے یہ ہو گیا سٹیپ کمبر ون اس کے بعد اب وہ پاڈکاس کرتا رہتا ہے کرتا رہتا ہے تو تین سو اس کے کون سے دوست ہو گئے پانی والے دوست تین سال تک وہ کرتا ہے چھ سو دوست ہو جاتے ہیں جن کے وہ پاڈکاس کرتا ہے جس طرح ہم آپ دوستی کر رہے ہیں اس طرح وہ پانی والوں سے دوستی کرتے ہیں جیسے آپ نے نیٹورکنگ کے گروہ ہیں آپ نیٹورکنگ سے کیا ہوتا ہے جو بھی کام ہو فلانے کو فون کو کیا فلانے کو فلانے سے ملوایا فلانے کو فلانے سے ملایا آہستہ آہستہ چیزیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں آپ کو کچھ نہیں کرنا آپ پیچھے سویٹھے ہیں اور مثال کے طور پر میر شاگیل کو کوئی کام کرانا ہے تو وہ آپ کو آپ کو آپ کو آپ کو آپس میں جوڑیں گے کہیں گے یاری ذرا کام تو گراہ دیں ہاں ان کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ کس سے کیا کام کرانا ہے ہاں آنا نہیں چاہیے اس کا کام کرنا نہیں ہوتا لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کو اس کی ڈگری چاہیے اصل جو ڈگری میرے خیال میں چاہیے ہوتی ہے وہ ہوتی ہے انسانوں کو سمجھنے کی سائیکالوجی کی سوشیالوجی کی اور آپس میں جوڑتے کیسے یہ وہ اصل ڈگری ہے جو مسنگ ہے لیڈر کی ایکچل طاقت ہی ہوتی ہے کہ وہ دور سے بیٹھ کے ان لوگوں کو جوڑے جنہوں نے کام کرنا ہے اور ان سے کام کروا لے کیونکہ جیسی ملیں گے دو ناک آئیں گے بیچ میں آئیں گی ایگوز آئیں گی رڑائیوں گی جیسے آپ نے بتایا کہ جب دینی مسائل آئیں جو فرقہ واریت آپ کے دارے میں آئی تو آپ نے کہا چاروں فرقوں کے لوگ رکھ لیتے ہیں مسئلہ ختم تو یہی طریقہ ہے یہی طریقہ ہے کہ سب سب کو ہم ساتھ بٹھاتے ہیں اور ان سے تھوڑا تھوڑا کراتے ہیں چیزیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ ہمارے ملک میں نہیں ہے تو میرا کیا کام ہے میں وہ جھاڑو کا روبر وینڈ ہوں جو سب ساروں کو تنکوں کو جوڑ کے رکھتا ہے پھر جھاڑو دلواک چیزیں ٹھیک ہونا شروع جاتی ہیں اور یہی چیز میں ان بچوں کو سکھا رہا ہوں پھر اس سے کاروار کیسے بناتے ہیں وہ سکھاؤں گا اور پھر اس سے ان کے پیسے بنواؤں گا جاکہ وہ فائنانچلی بھی ٹھیک ہو جائیں ایک صاحب تھے ابراہیم بھائی ان کا نام تھا مازلوس ہائل کی اب نیز بنائی تھی انہوں نے سمجھایا کہ جب تک آپ روٹی کپڑا مکان سیکیورٹی کا مسئلہ حل نہیں کریں گے لوگ جھوٹ بولنا نہیں چھوڑیں گے اور سوچنا نہیں شروع کریں گے جب تک کہ آپ ان کو دوست اور ان کو ایسے ان کو پریز نہ دیں سوچنا بھی شروع نہیں جائیں گے اور جو ہائی ہے چلے گا انٹینا کھل جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ خود ڈائریکشن دینا چاہتا ہے آہ مطمئن ہو جاتا ہے نا تو سوچنا ایک ایسا آئیزی آر ہو جاتی ہے مجھے اسے یہ بات یاد آئی کہ میر شکیل رحمان صاحب میں ایک والٹی ہے وہ ایک والٹی یہ ہے کہ انہوں نے کس جا گفتو کی سنی کوئی آئیڈیا پسند آیا وہاں صرف اٹھے اور وہ آئیڈیا فورا لکھ لیا تو ان کے پاس ڈائریوں کا ایک پینڈورا باک ہے. مجھے ایک صفحے پر ایک آئیڈیا چار لائنیں لکھ دی. اگلے صفحے پر دوسرا لکھ لیا. ہم جا کر وہ اس پر سوچتے ہوں گے. اس ٹائپ کا آدمی ڈونڈتے ہیں. پھر وہ ایک نیا ڈپارٹمنٹ بنا لیتے ہیں. مطلب یہ انہوں نے جیو میں اور جنگ میں کیا. اور میں چونکہ میر خلید الرحمان صاحب کے ساتھ رہا. اور یہ جب میں نے جوان کیا تو تیرہ سال کے تھے تو میری بڑی عزت کرتے ہیں آج تک تو ابراہیم صاحب کو میر ابراہیم کو انہوں نے میرے حوالے کیا تھا کہ آپ ان کی تربیت بھی کریں ان کو اچھے لوگوں سے ملوائیں جو آپ کی نظر میں اچھے ہیں تو میں نے ان کو اچھے لوگوں سے ملوائے اور وہ اچھے لوگ اس میں میں نام لے دیتا ہوں کہ محسوس میں نے مذہبی لوگوں سے ملوایا میں بینٹ آف مائنڈ میرا مذہبی ہے تو میری اصل میں ہر طاقت ہر چیز کو اسی سے شروع ہوتی ہے تو مفید تقریباً اسمانی سے ملوایا پروفیسر گفل سے ملوایا رفی اسمانی صاحب سے ملوایا اور مارڈرن جدید تعلیمی آفتہ لوگوں میں ڈاکٹر انیس آمد سے ملوایا ڈاکٹر جانشف گلانی سے ملوایا اور اس طرح کے لوگوں سے جو میرے حلقہ باب میں تھے اور بہت سارے لوگوں سے ملوایا تو بات یہ ہے کہ یہ ان کے اندر میں نے دیکھا کہ ایک صلاحیت ہے اب یہ وہ خود نہیں کر سکتے تھے انہیں کہا کہ یہ میرے بچے کو صحیح لوگوں سے ملوانے میں یہ عارف صاحب کام کر سکتے ہیں تو انہیں آپ نے صحیح کہا کہ وہ اس بندے کے ذمہ کرتے ہیں جو وہ کام جانتا ہے وہ خود نہیں کر سکتے تھے یہ اس طرح کیسے اور جب میں نے ریحان سکول بنایا تھا تو پندرہ سال پہلے بنایا تھا اچھا اور موبائل فون کے اوپر ویڈیوز ڈالتے تھے اس دمائنے میں سمارٹ فون یہ والے نہیں ہوتے تھے سٹوپٹ فون ہاں ہاں اس میں ہم سیلیبرٹیز سے ویڈیو بنوا کے دلوانا چاہتے تھے تو میں جب میر صاحب کے پاس میں گیا شکیل بھائی کے پاس ہم ان کو سمجھایا وہ دس منٹ کے لیے چلے گئے اٹھ کے آبیس آئے سونس کے لیے میں کہا ایران آج سے ہی سکول میرا ہے یعنی اب آپ مجھے دے دیں گے پہلے تو میں میں نے کہا یار یہ تو میں تو کچھ مانگنے آیا تھا یہ تو الٹا قبضہ کرنے کی موڈ میں میں نے کہا میرا میرا انٹرسٹ یہ نہیں تھا کہ مجھے کچھ مل جائے میرا انٹرسٹ یہ تھا کہ یہ آمد ہو جائے جو ایک سو ساٹھ ملین پاکستانی پڑھنے نہیں سکتا وہ پڑھ لے کسی طرح سے میں نے کہا آپ کا ہوا کریں جو کریں تو اب آپ بتائیے کیا کریں میں کہتا ہوں ٹھیک ہے میں آپ کو فانٹیکٹ کروں گا وہ پندرہ سال اب نہیں دے رہا ہوں اب میں خود ہی کروں گا اب بچے بڑا ہو گئے اب تو اس کو ساتھ کوئی اور پروجیکٹ دے جائیں گے مطلب یہ. اس لیے کہ آپ کا یہ دیکھئے کہ ہمارے یہ مسئلہ کیا ہے کہ وہ جو اس وقت جو کورس پڑھائے جاتے ہیں اس میں پھر آج کل یہ انگلیس میڈیم سکولوں کا پھر ان کی فیس ہے پھر وہ اس کے لیے پیسے اور جو مانگتے ہیں وہ اس سے بہت کئی گناہ زیادہ ہوتا ہے. تو ایک غریب آدمی تو مطلب آج کل کوئی پڑھا بھی نہیں سکتا. تو اور ساتھ میں دینا پڑتا ہے نا. تو آپ کے سکول میں میرا خیال ہے. ہے لینا پڑا اس میں یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ جو نائن نو سال کا ہو بچہ وہ آئے میرے پاس اور ہم سو ڈالر وہ مہینے کا کمائے کا شروع میں دیرہ سے دو سال بعد دیرہ سے دو سال بعد جہاں وہ سکھائیں گے اور جب وہ فارغ ہوگا وہاں سے تو وہ ایک میلین ڈالر کما چکا ہوگا یہ آپ کا دعویٰ ہے یہ ہماری کوشش ہے کوشش ہے تو اب بھی پندرہ سال ہو گئے ہیں آپ کو تو یہ کوشش کہا تھا کوئی مچینڈرائز ہوئی کوئی یہ جو آخری والا جو پوائنٹ آپ نے دیا نا یہ میں نے صرف دھائی سال پہلے تین سال پہلے شروع کیا اچھا جب میں نے پندرہ سال پہلے بنایا تھا تو ایک مفت سکول بنایا ہاں جس سے ویڈیوز دیکھ کے جیسے یوٹیوب بند تھا واقعی اور فور جی انٹرنیٹ جو ہم چلاتے نا فائیو جی فلانا فلانا بورڈ پیچ میں آ جائے گا ختم کر دو صرف پرائیمری پڑھا دو تو تم سرسید بن جاؤ گے کیونکہ تم ایک سو ساٹھ ملین لوگ تو اپنا نام نہیں لکھ سکتے پہلے ان کو تو پڑھا دو یا تو ہم نے اس طرح سے اس کی لانچنگ کری لیکن وہ چلا نہیں ایک تو مفت تھا تو اس میں کوئی انسینٹیف کسی کو نہیں مل رہا اب آخری سوال یہ ہے کیونکہ ویسے آپ پر اگر انٹریو کریں تو کئی انٹریو ہو سکتے ہیں دو دو گھنٹے کے ایک گھنٹے کا لیکن آج کا کوئی ایک گھنٹے کا سنتا بھی نہیں یہ آپ کے لیے ہے آپ ایک کنیکٹنگ پیپل یہ بھی کام کرتے ہیں لوگوں کو جوڑتے ہیں اپنے لیے جوڑتے ہیں کوم کے لیے جوڑتے ہیں امت کے لیے جوڑتے ہیں. اپکا نیٹ ورکنگ کتنا ہو چکا ہے جو آپ کے مثلا آپ کا ایک سینٹر ہے نا آپ کا آپ کے پاس ایک چیز ہے جس کا نام موبائل ہے سمارٹ فون ہے. اس کے اندر آپ نے سب کو جمع کر لیا. ہر روز جمع کرتے ہیں جہاں بیٹھتے ہیں وہاں میفل اپنے سجا لیتے ہیں میں تین دن سے دیکھ رہا ہوں. کیا کرتے ہیں آپ مطلب انسپائر کرتے ہیں لوگ کو ہر ایک آپ کا دیوانہ ہو جاتا ہے اور کئی لوگوں نے کہا بھئی یہ آدمی جو ہے دیکھا ہوا دیکھو کس طریقے سے لگا ہوا ہے اور یہ انٹریو کر رہا ہے اس کو اس کو کتنی اہمیت دے رہا ہے سب سے بڑی بار یہ ہے کہ آپ دوسرے بندے کو اہمیت کتنی دیتے ہیں تو وہ کتنے لوگ ہو گئے ہیں کوئی جہاں ہر جگہ جاتے ہیں اچھا ہمارے ملک کے اندر جو بیماری اول ہے وہ خود ہی خراب ہے اس کو اپنے اوپر بلیف نہیں ہے تو جیسی آپ تھوڑی سی اہمیت دیتے ہیں وہ بجیہ سے میں نے سیکھا کہ جیسی آپ اس کو تھوڑی سی اہمت کرتے ہیں اس میں کرنٹ آ جاتا ہے کہیں سے وہ بھاگنا شروع ہوجاتا ہے تو اس کو تھوڑی سی عزت دیں تھوڑی سی اہمیت دیں تھوڑی سی فوٹر کھچوائیں تھوڑی سی ہائلائٹ کریں تو یا تو وہ پاگل ہو جاتا ہے یا سکسس ہو جاتا ہے دونوں ہو سکتے ہیں اب میں نے سیکھا ہے کہ کتنا ڈوز دینا ہے کتی لگائی دینی ہے کہ وہ پاگل نہ ہو پہلے میں بہت ساروں کو پاگل کر دیتا تھا یعنی لوگ مجھے گالیاں دیتے تھے بقاعدہ ایک نے تو وارن نکلوا دی کہ اس نے مجھے مشہور کر دیا ہے تو میرے فون میں تقریباً تیس ہزار سے زیادہ نمبر ہیں میرے لنگٹن پہ اسی ہزار نوے ہزار لوگ ہیں میرے فیس بوک پہ سولہ ملین لوگ ہیں میرے یوٹیوب پہ آدھا ملین لوگ ہیں پانچ لاکھ ہیں میری کچھ دس ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہیں یوٹیوب کے اوپر اور سوشل میڈیا کے اوپر اب دس کتاب میں لکھ چکے ہیں میں تو تفلے مغتب ہوں آپ کے لئے اس معاملے میں حالانکہ مجھے لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں تعلقات بنانے ان کو قائم رکھنے برقرار رکھنے میں بڑا ماسٹر ہوں اور میرے ٹیلی فون پر بھی مجھے بڑا دعویٰ تھا گماند تھا میں گماندی تھا کہ آج ساڑھے آٹھ ہزار نمبر ہیں لیکن ما شاء اللہ آپ نے تیتیس ہزار بتایا ہے میں صرف میں لکشے والے کا نمبر بھی لکھ لیتا ہوں پیکسی والے کا بھی لکھ لیتا ہوں پریزیڈنٹ کا بھی لکھ لیتا ہوں میرے فون میں میرے پرائم منسٹرز جس طرح آپ کی دوستیں ساتھ میری بھی پرسنٹرز ہیں ان کے ساتھ کھانے ہیں کے ساتھ گھوما پہ رہوں گھومایا ہے اسی طرح سے رکشے والے کے ساتھ بھی میں یہی کرتا ہوں یہ کانفیڈنس کہاں سے آیا جو ہر جگہ آپ پہنچ جاتے ہیں بڑے اتونان سے بات کر دی ایسے لنگوٹیا ہے یہ آدمی بہت محنت کی اس بہت محنت یعنی میں اپنے کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا میں سمجھتا ہوں کہ تینتیس سال کی عمر تک بھی شاید میں کسی سے بات نہیں اور جو انسپائر کرتے تھے مجھے وہ میری امی کے کزن ہیں اب وہ بات میری یقین نہیں کرتے میں جب ان کو کہتا ہوں کہ آپ نے انسپائر کیا ہے ان کا نام کمال احمد بخشی ہے اور ہم جب کھانے پہ ہی جاتے تھے کہیں پہ جاتے تھے تو وہ بھی ساتھ جاتے تھے اور ریسٹرانٹ فل ہوگا وہ اندر جائیں گے اور ریسٹرانٹ میں جگہ نکل آتی ہے جیسے ہم پرسوں گئے تھے نا کھانے میں میں نے گیا یہ بات کہنے لگا کل میں دوبارہ گیا وہاں کھانا کھانے ہاں اس نے مجھے اپنا نمبر ہاتھ سے لکھ دیا ٹیکس کیا اور وہ کھانے کا بلوی نہیں دی صرف اس لیے اس نے نہیں دیا ایک اور بچہ بیٹھا تھا اس نے میرا بل بغیر مجھ سے اجازت کے جا کے تو وہ دیکھا چلا گیا اور پھر وہ آیا دوبارہ اونر اس سے فوٹو کھچوائی پھر وہ لیکن میں نے اس کے ساتھ یہ سیکھا کہ آپ کو کسی کی بتمیزی نہیں کرنی چاہیے کچھ بھی ہو جائے کچھ ہو جائے غصہ نہیں کریں حرام کر لیں غصے کو جائے وہ غلط ہی گناہو کیونکہ جب بھی مجھ سے کوئی غلط کرتے ہیں پاکستان میں لوگ غصہ کرتے ہیں میں کہتا ہوں یاد کرو غاکے اس نبی کا جو کیڑے اٹھا اٹھا کے اپنے اوپر رکھتا ہے کہ نہیں تمہارا رزق کدھر ہے آجو کھالو تو اگر جب میرے ساتھ کوئی زیادتی کرتا ہے تو میں وہ یاد کرتا ہوں کہ یار یہ تو کچھ بھی نہیں ہے بھائی آپ کی یہ انگریز یہ آپ کے انٹریو کریں گے آپ کی نشات کی ضرورت ہے لوگوں کو جاننے کی ضرورت ہے کہ نیورالوجی کا جو دنیا کی اسسوسیشن کا صدر ہے وہی پاکستانی ہے دنیا کی اسسوسیشن گھوپڑی کا ہوئی پاکستانی صبح میں کل مجھے آہ انہوں نے دیکھ لیا تھا دوڑے دوڑے آئے وہاں ہاتھ اُڑکے تو میں نے کہا بھائی رات کو آپ وہاں غائب ہو کرتے رات کو میں ریحان اور عثمانی صاحب آپ کا انتظار کر رہے تھے تو میں نے کہا عثمانی کہل لیں بھائی وہ بہت بڑا آدمی آ رہا ہے گراجی کا نیرو سرجن ہے اس کا نام آہ وہاں سے ہے وہاں سے ہے شاکر نہیں کہا میں سمجھ گیا تھا تو آپ سے بڑا کون ہو سکتا ہے لیکن یہ کہ آپ آئے نہیں تو انہیں کس نے کہا کہ آپ جانتے ہیں تو یہ سب پلان کچھ ہے ہمیں سمجھ نہیں آتا کیا ہو رہا ہے اس گزارش یہ ہے کہ اب آپ کے پاس یہ جو ڈنڈا ہے اور عمر ہے یہ وہ انفلوینس ہے کہ آپ کسی کو بھی یہاں بٹھا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں میاں بیٹھو کامیرا کھول رہا ہوں میں اور چپ کر کے بیٹھو اور میں تمہاری انٹرویو لے رہا ہوں یہ جو طاقت ہے کہ اس کو بلانا اس کو بلوانا یہ ایک کام ہے جو میں آپ کو آج ریکویسٹ کروں گا کہ آپ یہ کریں کیوں جیسے فر ایزیمپل آپ کی جو بھائی کے بہن کے بیٹے بیٹھے ہوئے ہیں میں نے ابھی میرا خیال ہے کہ یہ بہت افلاتون انسان ہے لیکن یہ سامنے ذرا آر کے بیٹھنے وہ ذرا کترات ہیں کون لاسکتا ہے سامنے وہ آپ لے کر آسکتے ہیں تو بڑھوں پہ میں نے کام چھوڑ دیا ہے وہ ڈیوٹی اب آپ کی ہے اب بچوں پہ کام کر رہا ہوں بات بڑھ سی جائے گی تو ہمارا بس ہی میری آپ سے درخواستی اتزا کریں انشاءاللہ پھر ملیں گے مرک کے بعد