videos.rehan.com

What We Can Do For Palestine? | ہم فلسطین کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟

videos.rehan.com/what-we-can-do-palestine-30017:03Urdu11 views↗ Watch on YouTube

In the powerful 15-minute video titled "What We Can Do For Palestine," Rehan Allahwala delivers a compelling message to the world in the midst of the Israel-Palestine conflict. With a focus on fostering peace and understanding, Allahwala urges people from all corners of the globe…

Transcription

Urdu

میں بچپند سے پروٹیسٹ میں جاتا تھا پلسطینیوں کے لئے، ازادی کے لئے اور ملک کے جانے کے لئے نے سنا تھا بچپند سے کہ یہودی جو ہیں وہ بہت امیر ہوتے ہیں اور وہ بہت سازشیں کرتے ہیں وہ زائنسٹ ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں اور وہ بیسے ہوتے ہیں لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی تو بہت شوق تھا، اشتیاء تھا کہ کبھی دیکھیں ان کی سربیسنگ ہوتے ہیں یا کیسے ہوتے ہیں ساری جادات بھی وہ کرتے ہیں سارے پیسے بھی ان کے پاس ہیں ساری دنیا بھی وہ کنٹرول کرتے ہیں دو ہزار دس کے قریب پہلی میری ملاقات ہوئی سی بٹ میں جرمنی میں پھر امریکہ میں ملاقات شروع ہوئیں پھر سنگاپور میں وہ ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں کوئی سینگ ونگ بھی نظر نہیں آئے ہمارے جیسے ہی پڑھائی کرتے ہیں بہت کمپلیکس یہ سیچویشن ہے اس پورے کانفلک کے اندر جو ہمارے لیڈرز ہیں وہ تو ہمیں بتاتے ہیں کہ سیزا سیدا معاملہ ہے کہ یہودیوں نے آکے فلسطین میں زمینیں خریدی اور اس کے بعد ڈیکلئر کر دیا یہ ہمارا بلک ہے اب پھر دوبارہ کنفلکٹ آیا ہے اور پھر کنفیوشن آ رہی ہے کہ اب کیا کریں اتنے زیادہ یہ لوگ غصہ ہیں غزہ کے اوپر ہم بھی اسی چڑیہ کی طرح کوشش کرتے رہے آنکھ لگی ہوئی تھی ایک چونچ میں پانی رکھ کر ہم گئے اور اس چڑیہ کی طرح ہم نے ایک بون پانی آنکھ روپر ٹپکا دیا کہ شاید کہ آنکھ بچائے فلسطین اور اسرائیل جیسے یہ دو نام ہمارے سامنے آتے ہیں ہم بہت ایموشنل ہو جاتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہماری ٹریننگ ہوئی ہے کہ میں نے انٹرنیٹ پر فلسطینیوں کو ڈھوننا شروع کیا پھر اسرائیلیوں کو ڈھوننا شروع کیا تو جب میں نے اسرائیلیوں کو دھوننا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں پر بہت سارے احمد اور محمد ہیں تو پتا چلا کہ 20 فیصد یعنی تقریباً 2.8 ملین مسلمان 18 لاکھ مسلمان اسرائیل میں رہتے ہیں اور تقریباً ایک گوگل سرچ کے حساب سے 3 لاکھ کے قریب یہودی فلسطین میں رہتے ہیں میں بہت کنفیوز ہوا کہ یہ سب سیچویشن کیا ہے اور ایکچولی مسئلہ کیا ہے کانفلک کیا ہے کیا چیزیں ہیں ہماس کون ہیں غزہ کیا جگہ ہے فلسطین ہے کیا تو پتہ ہی چلا کہ فلسطین جو ہے ایک ملک ہے جس کے دو ٹپڑے ہو چکے ہیں اور اس میں غزہ ہے جس میں 1.8 ملین لوگ رہتے ہیں 18 لاکھ لوگ تقریبا رہتے ہیں اور دوسرا حصہ جو ہے وہاں پہ تقریبا 3.5 ملین کے لوگ قریب لوگ رہتے ہیں 35 لاکھ کے قریب لوگ رہتے ہیں اور مزید انویسٹیکشن کی تو پتہ چلا کہ یہ تو پاکستان سے بھی امیر ملک ہے تقریباً پاکستان کی جو پر کیپٹائے وہ ہزار ڈالر ہے اور غازہ کی اور فلسطین کی ان جرنل جو آمدنی ہے وہ چھ ہزار ڈالر سال ہے یعنی کہ وہاں پر ایک آدمی پاکستانی ڈیر لاکھ روپے مہینہ کماتا ہے تقریباً آج کے دور میں پھر یہ بھی پتا چلا کہ غازہ کے اندر تقریباً ہر دوسرے آدمی کے پاس ماسٹرس کی ڈگری ہے اور یہ بھی پتہ چلا کہ ازرائیل کے اندر تین قومی زبانیں ہیں جس کے اندر ایک انگریزی ہے ایک عربی ہے اور ایک ہیبرو ہے بہت کنفیجن ہوا پھر کسی نے مجھے ایک بھائی ہمارے ہیں جو کہ مسلمان تھے اور ایک میئر ہیں وہ ایک شہر کی اور پھر پتہ چلا کہ 108 کے قریب میئر اسرائیل کے اندر مسلمان ہیں اور زیادہ دھچکا لگا عجیب سی باتیں لگیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے پھر میں نے ان میئر صاحب سے دوستی کری ان کے بارے میں ویڈیو بنائی ان سے انٹریو کیا اور انویسٹیگیٹ کیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے بار بار کہا کہ آپ آئے ہیں ہمارے ملک میں ہمارے سے ملیں ہمیں تو اسرائیل کے نام سے ہی نفرت تھی ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ یہ خطرناک جگہ ہے یہاں نہیں جانا ہے بہت کنفیوشن تھا کہ اتنے سارے مسلمان جتے کہ غازہ میں مسلمان رہتے ہیں اتنے ہی اسرائیل میں مسلمان رہتے ہیں جس کو ہم اسرائیلی پاسپورٹ ہولڈر کہتے ہیں پھر میں نے بہارہ کوشش کری کہ فلسطین جاؤں امبیسٹر سے ملا ایک دفعہ میں سری لنکا میں فلسطین کے امبیسٹر سے ملا ایک دفعہ میں پاکستان میں فلسطین کے امبیسٹر سے ملا اور ویزا مانگنے کی کوشش کری تو انہوں نے بتایا کہ آپ کو بیسیکلی ازرائیل کا ویزا لینا ہوتا ہے یا فلسطین کا کوئی ویزا نہیں ہوتا ہے پھر بہت کنفیجن ہوئی کہ اس کا کیا مطلب ہے بہرحال یہ جب بھی جنگ ہوتی ہے جب بھی لڑائی ہوتی ہے یہ ساری باتیں سامنے اوگر کے آتی ہیں میرے اور پھر میں پھر اپنے لوگوں کو دوستوں کو فون کڑکاتا ہوں کہ بھائی تم لوگ سب ٹھیک ہو سب خیریت ہے میں نے ایک شو شروع کیا فیس بک کیو پر اس کا نام رکھا کیونکہ میں بچپند سے پروٹیسٹ میں جاتا تھا فلسطینیوں کے لئے، ازادی کے لئے اور ملک کے جانے کے لئے تو بہت کنفیوشن ہوئی جب یہ ساری باتیں سامنے آئیں تو حل سمجھ میں نہیں آیا پھر میں جب امریکہ گیا تو کچھ یہودیوں سے ملاقات ہوئی ہم نے سنا تھا بچپند سے کہ یہودی بہت امیر ہوتے ہیں اور وہ بہت سازشیں کرتے ہیں اور زائنسٹ ہوتے ہیں انہوں ویسے ہوتے ہیں لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوئی تو بہت شوق تھا اشتیاق تھا کہ کبھی دیکھیں ان کے سرویسنگ ہوتے ہیں یا کیسے ہوتے ہیں ساری ایجادات بھی وہ کرتے ہیں سارے پیسے بھی ان کے پاس ہیں ساری دنیا بھی وہ کنٹرول کرتے ہیں تو کیسے سمارٹ لوگ ہیں کہ ان سے ملا جائے تو دو ہزار دس کے قریب پہلی میری ملاقات ہوئی سی بٹ میں جرمنی میں پھر امریکہ میں ملاقات شروع ہوئیں پھر سنگاپور میں پھر ایک دن میں مجھے دبائی میں ایک صاحب ملے جبکہ ریلیشنشپس صحیح نہیں تھے ازرائیل اور فلسطین کے ازرائیل اور دبائی کے پھر بھی ایک یہودی ملے مجھے میں نے ان سے پوچھا کہ میں امریکان ہوں تو میں یہاں آسکتا ہوں بہت تاجب ہوا بلکہ کہ وہ ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں کوئی سنگ ونگ بھی نظر نہیں آئے ہمارے جیسے ہی پڑھائی کرتے ہیں ہمارے جیسے ہی ہیں لیکن وہ اتنے آگے کیوں نکل گئے سمجھ میں نہیں آیا بہرحال حلوائی چلتی رہی گفتگو چلتی رہی پھر امریکہ گئے ایک دفعہ تو ہمارے ایک فیس بک کے دوست تھے انہوں نے کہا میرا بھائی یہودی ہے اور میں بھی امریکن ہوں وہ بھی امریکن ہیں اگر آپ آئیں تو ہمارے گھر کھانا کھائیں تو ہم ان سے ملنے گئے انہوں نے کھانے کھلا ہے اور خیال کیا اور میرے بچے بھی گئے اور ہم نے بہت انجوائی کیا سیکھا ان سے سوالات کیے سارے جو بھڑا سے تھی وہ اپنی نکالیں کہ ایسے کیوں ہوتا ہے ایسے کیوں ہوتا ہے سمجھ میں آیا کہ بہت کمپلیکس یہ سیچویشن ہے یعنی کنفیوشن بہت زیادہ ہے اس پورے کانفلک کے اندر سمجھ نہیں آتا ہے کہ ایکچلی ہو کیا رہا ہے بظاہر جو ہمارے لیڈرز ہیں وہ تو ہمیں بتاتے ہیں کہ سیزا سیدا معاملہ ہے کہ یہودیوں نے آکے فلسطین میں زمینیں خریدی اور اس کے بعد ڈیکلئر کر دیا یہ ہمارا ملک ہے اور انگلین نے بہت سارے لوگ بھیجے اور اس نے بھیجے اور اس نے بھیجے اور آخر میں کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے تو یہ بضائع تو یہ سمجھ میں آتا ہے لیکن جتنا زیادہ میں اس کو ادھرتا چلا گیا اتنا زیادہ کنفیوز ہوتا چلا گیا پھر میں نے ایک ادارہ بنایا ان لائن ویب سائٹ بنایا اس کا نام تھا انسٹیٹیوٹ آف پیس اور میں فیس بک کی اوپر باتیں کیا کرتا تھا ریگارڈنگ اسرائیل فلسطین سوال کیا کرتا تھا کہ سمپل سا ایک سوال تھا کہ مثال کے طور پر یہودی سے ہم اتنی نفرت کرتے ہیں اور یہودیوں کو ہم دوست نہیں بنا سکتے تو ان سے شادی کیسے کر سکتے ہیں لیکن کبھی کوئی صحیح جواب نہیں دے سکا لیکن سوال میں کرتا رہا پھر ایک دفعہ مجھے ایک ڈیتھ ریت ایک صاحب نے دیتی کہ ہم آپ کی بچوں کو مار دیں گے اگر آپ نے اس طرح کے سوال جاری رکھے تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اس کی جان چھوڑ دیتا ہوں اور پھر میں نے اس کانفلکٹ سے ہاتھ پیچھے کر لیا اور زادہ کے بارے میں بات کرنا بلکل چھوڑ دی کچھ لوگوں نے سمجھا کہ میں کوئی ازرائیلی ایجنٹ ہوں کوئی سمجھا کہ میں پتہ نہیں کون ہوں کہ میں اتنے زیادہ اس ازرائیل کا نام بھی لیتا ہوں کیونکہ ازرائیل کے نام سے بھی لوگ غصہ ہو جاتے ہیں تو پتہ نہیں آپ کو معلوم ہے یا نہیں معلوم کہ اسرائیل تو کوشر فوڈ چپ گئے تو کوشر کیا ہوتا ہے یہودیوں کا زبیہ ہوتا ہے پھر بات کری تو پتہ چلا کہ اچھا وہ تو ہماری ہی اس ہیں پتہ چلا کہ کرسچن کا فوڈ ہم نہیں کھا سکتے یہودیوں کا کھا سکتے پھر کنفیوزن ہوئی کہ یہ کیسے دشمن ہیں جن کا ہم کھانا کھا سکتے ہیں اور کرسچن کا نہیں کھا سکتے لیکن ہمارے ملک میں بہت کرسچن ہیں فرمائے کنفیوزن چلتی گئی چلتی گئی دماغ پرپلیکس ہوتا چلا گیا پھر بھی میں نے اس کو چھوڑ دیا اور اب پھر دوبارہ کنفلکٹ آیا ہے اور پھر کنفیوشن آ رہی ہے کہ اب کیا کریں اتنے زیادہ یہ لوگ غصہ ہیں غزہ کے اوپر اور مسائل کیا ہیں اسی دوران ہماری جو کمپنی ہے تیلی کام کی اس میں دو دفعہ پچھلے چار سال میں اٹیک ہوئے ہیکرز کے اور وہ دونوں غزہ سے تھے پتہ جلا کہ غزہ میں بہت زیادہ ہیکرز رہتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ آ گیا ہے اور وہ وہاں سے ہیکنگ بہت کرتے ہیں بہت کنفیجن ہوئے کہ یار یہ ہماری کیسے مسلمان رہی ہیں کمپنیز کو ہیک کر دیتے ہیں بہرحال آج کل پھر کنفلکٹ ہے پھر کنفیجن ہے پھر پریشانی ہے تو میں پاکستان سے بیٹھ کے ایک مسلمان اپنے غازہ کے و فلسطین کے بھائیوں کے لیے کیا کر سکتا ہوں جب کوئی بیمار ہو بہت سخت بیمار ہو اور کچھ آپ نہیں کر سکتے ہوں تو آج پھر یہ مسئلہ ہوا ہے اور میں آپ کو ریکویسٹ کروں گا کہ آپ کچھ کنیکشنز بنائیے فیس بک پر جائیے سرچ پر کلک کیجئے اور وہاں پر جا کے لکھیے پیپل لیونگ ان ازرائیل پیپل لیونگ ان فلسطین مسلمان اسرائیل میں مسلمان فلسطین میں آپ کو شاید نہیں معلوم کہ ایک گوگل سرچ تقریباً تین لاکھ لوگ جو یہودی ہیں وہ فلسطین میں رہتے ہیں میں پھر کنفیوز ہو گیا یہ کیا چکر ہے یہ کہاں پہ کیا کر رہے ہیں اسرائیل کیوں نہیں داتے بہت کنفیوزن ہے دنیا میں بہت ساری چیزوں میں کنفیوزن ہے کہ کیسے کام کرتا ہے تو ہماری سمجھ اتنی ہے نہیں کہ ہم سب چیز سمجھ سکیں تو جب کنفیوزن ہو تو جو کر سکتے ہیں وہ کر دینا چاہئے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم کم سے کم بات کر سکتے ہیں دلاسہ دے سکتے ہیں محبت دکھا سکتے ہیں پروٹیسٹ کر سکتے ہیں اور اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں تو میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ اپنے اسرائیلی مسلمان بھائیوں کو دھوننے فلسطینی مسلمان بھائیوں کو ڈھونڈیں ان سے باتیں کریں ان کو دلاسے دیں جو کچھ ان کو کر سکتے ہیں کریں اور بات کرنا شروع کریں اسی ہفتے ایک جماعت اسلامی کا پروٹیس تھا جس میں میرے سب لوگ گئے تھے گھر والے اور اس میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حامی اہمائت میں تھا اور الخدمت فانڈیشن نے بہت ساری چیزیں بھی بھیجوائیں ان سے سوال کر سکتے ہیں ان سے پوچھ سکتے ہیں چکر کیا ہے بھائی کچھ بتاؤ تو سوی سمجھ نہیں آرہا کچھ کہنا کیا چاہ رہے ہو کہونا کیا چاہ رہا ہے کرنا کیا چاہ رہے ہو تو آج اس ویڈیو کے ذریعے میں اپنے پیارے تمام پاکستانی بھائیوں کو ہندوستانی مسلمان بھائیوں کو ہندوستانیوں کو ریکویسٹ کرنا چاہوں گا کہ آپ ریچ آؤٹ کریں بات کریں گفتگو کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں اور تھوڑے دن میں انشاءاللہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور پھر تھوڑے دن کے لیے یہ تھند ہوگی تو کم سے کم ان سے کام کریں ان کو کام سکھائیں ان سے گفتگو کریں اور دیکھیں کہ ہم دوبارہ دنیا کو آمن کا گہبارہ کیسے بنا سکتے ہیں ایک بہت خطرناک کانفلکٹ ہے اس وقت خاص طور پر جو حال ہے وہ بہت خطرناک ہے اور مجھے در ہے کہ کہیں بڑی جنگ نہ دنیا بھی چھڑ جائے کیونکہ ہم اس میں سائیڈیں لے رہے ہیں بغیر گہرائی میں سمجھے ہم تیش میں آ رہے ہیں کہ ہمارے بھائی کو کیوں مارا پوچھے بغیر کہ چکر کیا ہے کون کس کو مار رہا ہے کس نے کس کے ساتھ کیا ہے دونوں سائیڈوں پہ بہت غصہ ہے میں نے دونوں سائیڈ کے لوگوں سے باتیں کی ہیں اور دونوں سائیڈ بہت ایک دوسرے سے نالا ہیں اتنے زیادہ نالا ہیں کہ کہلیں کہ بچوں ہم چھوڑیں گے نہیں تو یہ تو بچے کرتے ہیں نورملی گھر کے بچے جو ہیں وہ بہت غصے میں آ جاتے ہیں تو اس طرح کرتے ہیں بڑے کیا کرتے ہیں بڑے ان کو بٹھاتے ہیں مجھ سے بات کرتے ہیں پوچھتے ہیں بیٹا کیا ہوا اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور تھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت ایموشنل ہوئے بغیر ایموشن کے بغیر تھنڈا ہونے کا ٹائم ہے ایسا نہ ہو کہ بڑا بچہ جو ہے جو بولیئنگ کر رہا ہے وہ زیادہ ویپنز لے کر ہمارے اوپر چڑھائی کر دے تو ٹھیک ہے آپ کو لڑنے کا شوق ہے لیکن اس وقت آپ اگر کیبورڈ وارئر ہیں برا بلا کہہ رہے ہیں تو میری ریکویسٹ ہے کہ پلیس تھوڑا سا ٹائم نکالیں اور ان سے باتیں کریں دھونڈیں لنکٹن پر جائیں سیم چیز آپ لنگٹن پر کمپنیز کو ڈھونڈیں انہی ملکوں میں آرام سے ڈھونڈ سکتے ہیں اور ان سے بغیر ایموشن ہوئے ایموشنل ہوئے بغیر باتیں کرنی ہیں دلاسہ بھی دینا ہے اور دونوں سائٹ پر پوچھنا ہے بھئیہ مسئلہ کیا ہے کیوں کر رہے ہو یہ اور آپ اسرائیلی آرمی کو بھی ڈھونڈ سکتے ہیں آئی ڈی ایف کو ڈھونڈ سکتے ہیں اسرائیلی ڈیفنس فورس کہتے ہیں اس کو ان کے لوگوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں اور آرام سے مل جائیں گے کیونکہ اسرائیل کے اندر آرمی میں جانا لازم ہے ہر انسان کو دو سال آرمی میں جانا ہوتا ہے جیسے سنگابور میں لازم ہے اسی طرح سے اسرائیل میں بھی لازم ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر آدمی ٹرینڈ ہو ان کے پاس تھوڑے سے لوگ ہیں لڑائی کے اوپر بہت سادہ ان کا فوکس ہے تو کیوں نہ ہم انسان بنیں لڑے نہیں مرغوں کے طرح اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ اتنا پاورفل ویپن ہمیں دیا ہے کہ ہم گفتگو سورہ رحمان کہتی ہے کہ ہم نے ایلیکونٹلی آپ کو بولنا سکھایا ہے شاید کہ آپ غصے کو سائٹ پر رکھے ایموشنز کو سائٹ پر رکھے انسان بن جائیں اور اچھے مسلمان بنیں اور باتیں کریں کیونکہ آخر میں لڑ لڑا کے پھر بھی یہی ہوگا کہ بھائی اس کو حل کیسے کرنا ہے گفتہ کو زیادہ کریں ابھی بھی کانسٹنٹلی ہم لڑائی کرتے ہیں اکیسویں صدی میں ہم کو سوٹ نہیں کرتا کہ ہم اسی طرح جانوروں کی طرح لڑتے رہیں جیسے کہ ہمارے بزرگ لڑتے تھے جب ان کے پاس یہ ٹیکنالوجیز نہیں تھی باتیں نہیں کر سکتے تھے بغیر مارے بات ہم کر سکتے ہیں آج پہلے نہیں کر سکتے تھے آج کیوں نہ کوشش کر کے دیکھیں شاید یہ کچھ فرق پر جائے نہیں تو اللہ کے پاس جب جائیں گے تو بتا دیں گے کہ ہم بھی اسی چڑیہ کی طرح کوشش کرتے رہے آنکھ لگی ہوئی تھی ایک چونچ میں پانی رکھ کر ہم گئے اور ہم نے بات کرنے کی کوشش کریں اور اس چڑیہ کی طرح ہم نے ایک بون پانی آنکھ کے اوپر ٹپکا دیا کہ شاید کہ آنکھ گج جائے شاید نہ گجے لیکن پروردگار عالم کے سامنے جو بڑھیں گے تو کم سے کم ہم دھڑلے سے بتا تو سکیں گے پروردگار ہم یہی کر سکتے تھے ہمارے در زیادہ طاقت تو تھی نہیں ہم نے کوشش کر کے دیکھ لی آپ بھی کر لیجئے میں بھی اس ویڈیو کے تابسل سے کوشش کر کے دیکھ رہا ہوں اپنا خیال کیجئے گا اسلام علیکم