videos.rehan.com

Rehan Allahwala Has Received Education Legend Award 2024 | #rehanallahwala

videos.rehan.com/rehan-allahwala-has-received-education-legend-award-2024-25212:48Urdu4 views↗ Watch on YouTube

Rehan Allahwala Has Received Education Legend Award 2024 | #rehanallahwala --- Video Highlights: - Rehan Allahwala discusses the transformative power of technology and information in today's world. - He emphasizes that despite abundant resources and knowledge, societies often…

Transcription

Urdu

ہمارے پچھلے پرائیم منسٹر بڑے فخر سے جا کے اعلان کرتے ہیں کہ میں نے دو بلیئرڈ ڈالر بھیک زیادہ لے کے آ رہے ہیں میں تو ایسا پرائیم منسٹر نہیں چاہتا جو بکاری ہے میں تو ایسا ملک میں نہیں رہنا چاہتا جہاں بھیگ مانگ ہمارا ملک خامخواہی میں غریب ہماری قدروں میں ہر چیز موجود ہے اب جو ایکشن والا ٹائم ہے اب ہمیں ایکشن لینے کیوں علم ہے آج سے صرف ایک سال پہلے جتنی انفرمیشن آج تک انسان نے علم کی تھی اس کی ویلیو زیرو ہو لیکن یہ احساس نے محسوس کر گیا کہ زمانہ بدل گیا ہے ہمارے پاس آج سے کوئی دس سال پہلے ہی کھلونا نہیں تھا اور اس وقت جو دنیا کی تمام تعلیم جو علم ہے وہ ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن ہم اس سے فائدہ نہیں کھا پائے آپ کی جیب میں نہ سکتے کہ ڈائنو سور بیٹھا جن بیٹھا ہوئے تو آپ کو ہر مسئلے کا حل دے سکتا ہے میں ہی سمجھتا ہوں کہ کشمیر کو بہت بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں لیکن ایک انسان کو میں نہیں جانتا جو صبح دوپیر شام میں بولتا ہو کہ میں کشمیر کے لکان کرتا ہوں کچھ نہیں پڑتا ہے فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ہاں ہے بچے انشاءاللہ آپ کو سول کر کے دیں زمانہ بدل چکا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم یکنہ طور پر یکنہ ستائی آپ سب کو بہت بہت جو بھی جن جو کوئی نام ملے ہیں ان شب کو بہت مبارک اور آرگنائزر کو بہت بہت شکریہ کیونکہ ہمارے ہاں شکریہ بہت مشکل سے کیا جاتا ہے روز صبح سورج میں روشنی دیتا ہے شکریہ نہیں کہتے ہمارے بھلو نے ہمیں کہا کہ ہم کو شکریہ نہیں کہتے ہمارے ساتھ ازہ ہمارے ساتھ ہمیں شکریہ نہیں کہتے آپ سب کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے ساری ایڈ ارگنیزیشن کو اس پر بردارک ارگنیز کیا میں ایک گزارش دے رہوں گا کہ ان سامان اور میلس کے لیے کام دکھتا ہوں میں ایک ٹکنالوجسٹ ہوں سکول سے بھاگا ہوں پڑھا لکھا ہوں نہیں زیادہ اپنے بچوں کو بھی نہیں پڑھایا اور ان کو بھی سکول نہیں جانے دیا اس کی وجہ یہی تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ جس کام کے لیے سکول ہوتے ہیں انفورچننٹی ہمارے ملک میں وہ کر نہیں پاتے تو ہم نے ان کو اقبال کے کہنے پر سبق پڑھایا صداقت کا، عدادت کا، شجاعت کا جا کر لیا جائے ان سے کام دنیا کی امامت کا اسی سکول جو میں نے گھر میں اپنے بچوں کے لیے بنایا اس کو ریپلیکیٹ کر کے میں نے ابھی کراچی شہر میں اے آئی اینڈ انٹرنیٹ فرسٹ سکول بنایا ہے اس کا کیا مطلب ہے کہ یہاں پر اے آئی اور انٹرنیٹ کے آنے کے بعد جو تعلیم ہونی چاہیے اس کے ایکسپیرمنٹیشن سم کر رہے ہیں آج سے دو سو سال پہلے طاقت کہی جاتی تھی پہلوانوں جسم کی طاقت پھر انڈسٹریل ایر آئی آئی انڈسٹری کی طاقت پھر انفرمیشن کہہ رہا ہے کہ انفرمیشن کی طاقتہ ہے آج سے صرف ایک سال پہلے جتنی انفرمیشن آج تک انسان نے جمع کی تھی اس کی ویلیو زیرو ہوئی لوگوں کے ہاتھ میں پہنچایا اس کا سی او جاتے پہ کہتا ہے کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کر دی لیکن زمانہ بدلی اور آج پھر وہی ہوا ہے کہ آپ میں سے کوئی بھی ہم میں سے کوئی بھی غلطی جان دو جکر نہیں کر رہا لیکن یہ احساس نے محفظ سے نکل گیا کہ زمانہ بدل گیا ہے ہمارے پاس آج سے کوئی دس سال پیدا یہ کھیلونا نہیں تھا ہمارے ملک میں آج ایک سو پچاس ملین سمارٹ فون ہیں آج ڈالر ام ملک میں انلیبرٹی انٹرنیٹ ملتا ہے لیکن ہم اس سے فائدہ نہیں پھا با رہے ہیں ہم بلڈنگیں میں بلڈنگیں بلڈنگیں بلڈنگیں بنائیں چلتا ہیں اور اس وقت دنیا کی تمام تعلیم جو علم ہے وہ ہمارے آنکھ میں ہیں لیکن ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھا پائے اسی لئے ہم نے اپنے سکول میں کوئی سکول میں ٹیچر نہیں رکھے ہمارے سکول میں کوئی بھی ٹیچر نہیں ہم فیسیلیٹیٹرز کہتے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ بچوں کو کلاس میں نہونا اور ستھے بچہتے سال کے آج بھی ہمارے گٹر بہر ہیں پانی نہیں ہے بجلی نہیں ہے سولر نہیں ہے گیس نہیں ہے تو ہم نے اپنے بچوں کو نام دے دی بیٹا آپ نے اپنے 20 سال اسی کام پر لڑا آپ بجدی کا پرابلم ٹھیک کریں گے آپ کیاس کا پرابلم ٹھیک کریں گے جس طرح سے عیدی صاحب نے کیا جس طرح سے جنہ صاحب نے کیا جس طرح سے اور جو لوگ نے پرابلم سالک کی اب آپ نے نیکسٹ گرہتہ دوم پر ہلا ہلا ہاں اس طرح کی لوگ بن لیں یہاں پہنا میں کوئی سائنس انگلیش کمیسٹی والے ہی کچھ بھی نہیں پڑھاتے ہم ان کو پہلے تو ڈر نکالتے ہیں ان کو جگہ سامپوں سے دوستی کرواتے ہیں کمپیوٹر سے دوستی کرواتے ہیں موبائل سے دوستی کرواتے ہیں جو ان کے اندر کھوٹ کھوٹ کی بھری ہوئی کہ موبائل کتنی خراب چیز ہے کہ خدا انخواستہ شاید مذہب خطر ہے پہلے ایک سال میرے ساتھ پہلے پرنسپل صاحب آئے میں بڑے شوق سے بتایا تھا کہ پہلے ایک سال میں انٹرنیٹ کارٹ دیتا تھا بجلی کاٹ دیتا تھا کمپیوٹر سے ویڈیو ڈیلیٹ کر دیتا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ایک خراب آدمی اجنہ والا سکول کھو دیا اتفاق سے سکول ہمیں ملا ابراہیم حیدری کے بارے میں تو اب میں آپ سب کو دعوت دینا چاہوں گا کہ آپ مہدشی فلائیے وہاں پہ آپ کو پانی والے ملیں گے وہاں پہ آپ کو بجلی والے ملیں گے وہاں پہ آپ کو وہ بچے ملیں گے چھوٹے چھوٹے سے بچے ملے گئے جو ان مسئلوں کو ایکچن میں سولف کرنے کے لیے پڑھ رہے ہیں پڑھاتے ہیں ایسے ہیں دنیا کے جو ویسٹ ہمارے میں چار سبجیکٹ ہیں ایک ہم لیڈ کاؤگ روز دکھاتے ہیں دوسرا ہم اس کو انٹریو گفتگو کرنا سکھاتے ہیں جس آدمی کو اس ٹیج پر بولنے کے لیے بلائے دارا ہے 35 سال کی عمر تک تو کسی سے شکر نہیں ملا سکتا ناکھیں نہیں ملا سکتا کیونکہ کسی نے اس کو سکھایا کہ گفتگو کی کیسے جاتی تیسرا ہم اس کو روزانہ اے آئی کی مدد سے ویڈیوز بنانا سکھاتے ہیں اور چوتھا اس کو یوگا کرواتے ہیں میریٹیشن کرواتے ہیں نماز کے ترریف کرتے ہیں نماز کو دیکھا تو یہ ہمارا ٹوٹل کرکلم ہے ہر بچے کو روز ایک دن اس والے کی ٹیڈ ٹاک دیکھنی ہوتی ہے جس والا کیلئے وہ اسائنڈ ہے اس کو رابطہ بکھتے ہیں سر میں نے آپ سے آج یہ سیکھا ہے کیا میں آدھا گھنٹہ آپ سے مانگ سکتا ہوں میں آپ کا انٹریو کرنا چاہتا ہوں تو ہمارا گول یہ ہے کہ بچہ چھٹی تک ہر سال دھائی دھائی سو لوگوں سے گفتگو کر چکا ہو اور وہ آپ کو انٹرنیٹ میں نظر آ رہے ہوں کہ وہ سوشل میڈیا پہ نیکس ریان اللہ والا کندے کا آپ کو نظر آ رہے ہوگے جو کہ اپنے مقصد میں کچھ کام کریں پھر دوسرا بڑا مسئلہ ہمارے دن کا معاشق ہے ہمارے پچھلے پرائم منسٹر بڑے فخر سے جا کے اعلان کرتے ہیں کہ میں نے دو بلیٹ اور بھیک زیادہ لے کے آ رہے ہیں مجھے تو بہت تکلیف ہوتی ہے میں تو ایسا پرامنسٹر نہیں چاہتا جو بیکاری ہے میں تو ایسے ملک میں نہیں رہنا چاہتا جہاں بھیگ مانگ ہمارا ملک خامخواہی میں غریب ہر چیز موجود ہے دھائی سو ملین سمارٹ لوگ موجود ہیں لیکن ہمارے ملک کا پر کیپیٹا انکام ہے ایک ہزار ڈالر رہی ہے دنیا کا پر کیپیٹا انکام ہے دس ہزار چار سو ڈالر رہی ہے سنگاپور کا ہے پچپن ہزار ڈالر رہی ہے لکسن برگ کا ہے ایک لاکھ بارہ ہزار ڈالر ہے ہم ایک سو بارہ گناہ پیچھے ہیں لکسن برگ سے پچپن گناہ پیچھے ہیں سنگاپورٹ سے اور تقریباً دس گناہ پیچھے ہیں دنیا سے کس خوشی میں پیچھے ہیں کوئی ریزن نہیں ہے جس سے پوچھو ریزن نہیں نظر آتا مجھے جو ریزن نظر آیا میں پروبلمز فالک کرنے کے لیے کام کر رہا ہوں میں یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیر کو ہم بہت بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں لیکن ایک انسان کو میں نہیں جانتا جو صبح دوپیر شام میں بولتا وہ کہ میں کشمیر کے لکھاں گلتا ہوں میرا نام ہے کشمیر والد میں ایک فلسطینی والے کو نہیں جانتا تھا آج تک تو ہم نے فائنلی اپنے سکول کے اندر ایک یونائٹڈ ویشنز کے جیسے کمرہ میں آئے وہاں بچے صرف پیس لیکن پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں پڑھتے فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ہمارے مچے انشاءاللہ آپ کو سول کر کے دیں گے اقبال فاؤنڈر تو ہے اس ملک کے لیکن ہم نے اپنی خند کو غلامی سے آزاد نہیں کر رہا ہے ہم ابھی تک سمجھتے ہیں کہ اولیول والے آ کر انہیں صحیح سمجھا دیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ بار بار لگمیاں کو سمجھا دیں گے میں نے گستافی مہا تمام انشکیشنس سے بہت دوری افتیار کی بھی پہلے دو سال سے میں نہیں چاہتا کہ نیا قسم کا جو سسٹم ہم بنانے چاہ رہے اس میں کوئی ایڈوگیشنز آ کے ہمیں بتائے کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں میری گزارش آپ لوگوں سے کہ پلیز ضرور آئیے دو بچے بیٹھے ہیں میں آپ سب کو ریکویسٹ کروں گا کہ یہ جوان آپ سب سے آئیٹی میں تیز ہیں یہ صرف ایک سال سے ہمارے پاس ہیں سکول میں وہ جو لیفٹ پہ بچی ہے وہ ساڑھے تین سو لوگوں کا انٹرویو کر چکی ہے اس میں سے ڈیڑھ سو انگریز تھے وہ کو ڈیڑھ سو انگریز سے دو انگریز نکٹ کلا کے پاکستان آ کر ہمارا سکول دیکھنے تم لوگ کر کیا رہے ہو گزارش کیجئے گا پوچھئے گا ارستو اور حضرت علی دونوں کا اطلاع لگے علم اصل علم ہے سوال آج چیل جنپیٹی کے آنے کے بعد اینی کے آنے کے بعد ہمارا جو سب سے امپورٹن کام ہے وہ ہے سوال یہ اینی ہے یہ دنیا کے ہر بات کا جواب دیتی ہے اردو میں بات کریں سندھی میں بات کریں پشتوں میں بات کریں گجراتی میں بات کریں فارسی میں بات کریں جو آپ کی زبان سے بات کریں یہ آپ سے باتیں کرتی ہیں مفت ہے صرف فون پر انسٹال کر رہا ہے آپ کی فون آپ کی جیب میں دینوسور بیٹھا جن بیٹھا ہوئے جو آپ کو ہر مسئلے کا حل دے سکتا ہے اگلا جو کام ہے نا علم وہ ہے عمل جو پھر شاید ماشرک بتا کر چلے گئے تھے کہ عمل سے بنتی ہے زندگی جہنم بھی جہنم بھی اب جو ایکشن والا ٹائم ہے اب ہمیں ایکشن لینے کیوں علم ہے اس سمندر میں سے خزانے نکالنا نہیں آتے ہیں علم کی سمندر سے خزانے نکالنا نہیں آتے ہیں وہی ہم سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں میں آپ سب کو پھر دعوت دوں گا قرنگی کے اندر ہمارا کیمپس ہے صبح آٹھ سے لے کے شام پانچ بجے تک پھلا ہوتا ہے کوئی کلاس روم کلاس روم کی شکل کا نہیں ہے وہاں پہ جو انٹرنس رو میں وہ سپیس چپ کی شگل ہے جہاں کہ آپ کو لگے کہ فیوچر میں ہم آپ کو لگے جائیں گے انشاءاللہ آپ سب کا اگین بہت کنگریچوڈیشنز میں بہت شکر بزار ہوں تجھے موقع دیا ہم نے خاص فلائی کر کے آئے ہیں اسی لیے کہ میں آپ سے بات کر سکو مجھے آپ سب میرے افساد سے مجھے آپ سب سے محبت ہے آپ نے اپنی زندگیاں لگائیں اس کام کیوں کہ اب میری آپ سے بزارش ہے اس ملک کو ہم نے کامخواہی کی غلطت سے ازادی لیں یہ تھک گئے ہم لوگ کے کب تک ہم لوگ اس طرح زہیر اخوار ہوتے رہیں میرے ستائیس انٹرنیشنل ریجیکشن ہے بیزوں میں صرف ایک وجہ ہے وہ میرے ہرہ پاسکورٹ ہے میرے پاس اللہ تعالیٰ نے بیسہ بھی دیا عزت بھی سب کچھ دیا لیکن وہ جو لائت میں زہیر ہونا پڑتا ہے میں نہیں چاہتا کہ ہمارے بچے اس فیوچر میں انٹر ہوں میں شور ہوں کہ آپ بھی نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے سوچر میں انٹرن ہو اور آپ سب بہترین کام کریں لیکن بس ایک چیز زمانہ بدل چکا ہے زمانہ بدل چکا ہے اگر آپ نہیں بدلیں گے تو آپ کتنے اچھے نمبر لے کے آجائیں وہ حافظے کے نمبر ہیں علم کے نمبر شاید نہیں ہے اگر علم ہے آپ کو پتہ ہے ہمارے ملک میں پچھلے سال بائیس ارب روپے کی ادرک امپورٹ ہوئی ہے خون کے آنسوں ہوتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی میں چیلنج ہم تا ساڑھے چار سو لوگ پی ایش ڈی کر کے بیٹھے ہیں لیکن ادرک اور لسن بارہ ربو پر گھر پورت ہوئے ہیں تو یہ تکلیف سے باتیں ہیں مشکل ہیں میں اگر کتنا کہوں کہ آپ ضرور آئیے گا پلیس ہمارے بچوں سے رابطہ کیجئے گا آپ کو بہت مزہ آئے گا مزہ لینے آجائے گا اور کچھ نہ لے کے جائے گا وہاں پر ہم نے بہت بہت ایسی کافی شاپ کنایے آئیے گا بچوں سے کافی پی جائے گا بہت مزہ آئے گا بہت بہت شکریہ پاکستان سے بات بری لگتے ہو میں مرحبا بندہ کی طرح