videos.rehan.com

AI ke baad koi naya school ijaad kyun nahi hua? | EP - 153 | #rehanallahwala

videos.rehan.com/ai-ke-baad-koi-naya-school-ijaad-kyun-nahi-hua-ep-153-rehanallahwala-3713:51Urdu5 views↗ Watch on YouTube

AI ke baad koi naya school ijaad kyun nahi hua? | Sir Rehan Allahwala aur Jalaluddin Qureshi | EP - 153 | #rehanallahwala --- In this thought-provoking podcast, "Rehan Allahwala" – founder of the "Rehan Schooling System" with branches across Pakistan – sits down with "Jalalud…

Transcription

Urdu

ذکر ایک خیر آیا تو انہوں نے کہا کوئٹا میں میری جگہ ہے وہ لے لو اور سکول بنا دو وہاں غریب بچے ہیں میں اب سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم کر کیا رہے ہیں دنیا میں آج سے دو سال پہلے اے آئی جب آئی تو اس کے بعد سے کوئی سکول ایجاد نہیں ہوا اسی طرح سے جب انٹرنیٹ آیا پچھے سال پہلے اس کے بعد سے کوئی سکول ایجاد نہیں ہوا جتنے بھی سکول تھے انہوں نے انٹرنیٹ تو لے آئے لیکن سکول شروع سے ایجاد نہیں ہوا ری سٹرکچر نہیں کیا جہاں کوئی تمیز نہیں کہ وہی کوئی امیر کا بچہ ہے یا غریب کا بچہ ہے سب ایک جیسے تھے وہ ٹیچر نہیں تھے جیسے سکولوں میں ایک ڈنڈا لے کے بچوں کو مارا جاتا ہے یا وہ بہت فرینڈلی اور ان کے ساتھ ایک ایسا رشتہ بن جاتا ہے کہ آپ جب سکول جاتے ہیں تو آپ کسی ٹیم چاہے رات ہو چاہے دن ہو فرینڈلی آپ ان کو کسی وقت بھی کار کر سکتے ہیں کانٹیکٹ کر سکتے ہیں اسلام علیکم جی آج میں بہت خوش ہوں بہت دن کے بعد میری جلال بھائی سے ملاقات ہوئی کراچی آتے ہیں تو میں ان کو غانس نہیں دلاتا زالا لیکن یہ مجھے بہت غانس دالتے ہیں اور میں ان کا بہت تہہ دل سے شکر خوزار ہوں کہ یہ ہمارے سکول دو دفعہ گئے ہیں کورنگی والے میں بھی دو دفعہ گئے ہیں اور ایک دفعہ منور والے میں بھی گئے ہیں اور ہمارا جو سکول ہے اس کا جو گول ہے وہ میں تھوڑا سا چاہتا تھا کہ کیونکہ میری ملاقات سکول دیکھنے کے بعد آپ کی نہیں ہوئی وہ میں بتاؤں آہ ذکر خیر آیا تو انہوں نے کہا کوئٹا میں میری جگہ ہے وہ لے لو اور سکول بنا دو وہاں غریب بچے ہیں میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم کر کیا رہے ہیں دنیا میں آج سے دو سال پہلے اے آئی جب آئی تو اس کے بعد سے کوئی سکول ایجاد نہیں ہوا اسی طرح سے جب انٹرنیٹ آیا پچھے سال پہلے اس کے بعد سے کوئی سکول ایجاد نہیں ہوا جتنے بھی سکول تھے انہوں نے انٹرنیٹ تو لے آئے لیکن سکول شروع سے ایجاد نہیں ہوا ری سٹرکچر نہیں کیا پرانی بلڈنگ ہمارے سکول میں ستائیس ملین ایسے لوگ ہیں جو کسی سکول نہیں جاتے اور ایک لاکھ پانچ ہزار سکول ایسے ہیں جہاں پر لوگ پانچ سو روپے سے ہزار روپے دیتے ہیں اور اس پانچ سو روپے ہزار روپے میں وہ کیا پڑھیں گے تو تیچر کو بھی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی سسٹم کو بھی زیادہ پیسے نہیں ہوتے تو ہم نے یہ سوچا کہ دنیا بہت بڑی ہے پاکستان دنیا کا صرف 2.7% ہے اور آپ امریکہ میں رہتے ہیں اس وقت ہم ہیوستن ٹیکسس میں موجود ہیں تو کیوں نہ ہم ایسا ان کو سکھائیں کام جس کی وجہ سے یہ دنیا سے کنیکٹڈ ہوں اور آمدنی آسک کرنے لگیں جا سکے وہ بچپن میں ہوں تو ہمارا پانچویں میں ہم بچوں کو بیسک کمپیوٹنگ سکھاتے ہیں چھٹی میں ہم ان کے لئے ٹارگٹ کرتے ہیں کہ انہوں نے سو ڈالر مہینہ کمانا ہے ساتھویں میں دو سو ڈالر مہینہ کمانا ہے آٹھویں میں پانچ سو ڈالر مہینہ کمانا ہے اور اس سے کیا ہوگا اور وہ آدھے سکول کو دینے آدھے خود رکھنے اس سے کیا ہوگا کہ سکول ایک اچھا سکول بنا سکتے ہیں کیونکہ بہت پیسے مہینے کے پچھتر ہزار روپے آ رہے ہیں بچہ بھی گھر لے گی جا رہے ہیں 75000 روپے اس سے ون ون سیچویشن کریئٹ ہوتی ہے کہ بچہ بھی خوش والدین بھی خوش سکول بھی خوش تو یہی موڈل ہم امریکہ کے اندر بھی انشاءاللہ لگانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر ہم آنٹرپنورشپ کا سکول بنانا چاہتے ہیں کہ بچے کو ہم آنٹرپنور بنائیں نارمل بچہ نہ بنائیں کہ وہ نوکری کے پیچھے بھاگیں بلکہ بچپن سے وہ ایک پرابلم کو سیکھے اور اس پرابلم کا بزنس شروع کرے اور اس پرابلم کو بزنس کو بڑا کرے اور بائی دا ٹائم ہی گریجویٹس ہاں فرم ہائی سکول اس بزنس کو بیج بھی دے کم سے کم ملین ڈالر میں یہ ہمارا آہ کریکلم پاکستان میں بھی ہے اور یہی ہم یہاں پر بھی کرنا چاہتے ہیں مجھے انتہائی خوشی ہے کہ ریحان دوبارہ ایک مرتبہ امریکہ آئے ہیں اور ایک عظم کے ساتھ آئے ہیں ان سے ملنے کے بعد ذہن اور کلتا ہے اور جو مایوسی ہیں جو مایوسی ہوتی ہیں کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہو رہا اور ناممکن چیز ہے اور بغیر پیسے دیئے کوئی کام نہیں ہو سکتا وہ ساری چیزیں جو ہیں وہ مسئلے حل ہو سکتا ہیں ریحان کا جو بیسک میں سمجھا ہوں وہ اسلام کے پوائنٹ آف ویل سے کہ اکرا پڑھاؤ اب قرآن پاک جس زمانے میں آیا جس طریقے سے لوگوں کو ایجوکیٹ کیا گیا اب اسی چیزوں کا ایڈوانس دور ہے آج اگر ایئیٹی کو ایئی کو ایڈاپٹ نہ کیا گیا تو شاید ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں آنے والے وقتوں میں جو ٹیکنالوجیز آ رہی ہیں ان کے حساب سے تمام جاوز محسوسی ختم ہو جائیں گے سب کچھ ختم ہو جائے گا لوگ اپاج ہو جائیں گے اور صرف اے آئی وہاں پہ ہوگا اور اس کے طرح جہاں سوال ہے کہ ریحان سکولز کراچی صرف ان کو ایک قبلہ درست کرنے کی ضرورت تھی تو سب سے پہلے بات تو یہ کہ I really very impressed اور جہاں کوئی تمیز نہیں کہ وہی کوئی امیر کا بچہ ہے یا غریب کا بچہ ہے سب ایک جیسے تھے تیچرز وہ تیچر نہیں تھے جیسے سکولوں میں ایک ڈنڈا لے کے بچوں کو مارا جاتا ہے یا وہ بہت فرینڈلی اور ان کے ساتھ ایک ایسا رشتہ بن جاتا ہے کہ آپ جب سکول جاتے ہیں تو آپ کسی وقت بھی کال کر سکتے ہیں آج صبح میں اٹھا تو ایک طرف میں ریحان کو دھونڈ رہا تھا تو دوسری طرف میری لائف وہاں پہ کراچی میں مینوں کا ایک گروپ تھا جس میں کوریا کے بھی لوگ تھے امریکہ کے بھی تھے اور ہم سب وہاں پہ ڈسکس کر رہے تھے کوئی نیا پروجیکٹ تو یہ لیفرنس میں نے دیکھا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اس میں پارٹسپیٹ کرنا چاہیے اور سمجھنے کی بات ہے اور اپنا فیوچر دیکھنا چاہیے کہ آگے آنے والے وقتوں میں اگر اے آئی کے ساتھ رابطہ نہ ہوا تو سب چیزیں ادھری رہ جائیں گے تو صرف کھانے پینے کی چیزیں ہوں گی باقی تو سب کچھ مشینوں نے ہی کرنا ہے تمام ریبورٹس کریں گے سب کا تو ہر فیلم میں وہی ہوگا تو میرا یہی مشاہدہ ہے کہ جتنا جلد از جلد اپنی قوم کو ایجوکیٹ کیا جائے اس سائٹ پر لائے جائے اور جو نئی ٹیکنالوجیز ہیں وہ ایسے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں کہ ایڈوانس کنٹریز کا پاکستان کے ساتھ لنک ہونا چاہیے اور وہ سٹیشن یہی ہو سکتا ہے کہ جیسے ریحان سکول کے بچے ہیں ہیں جو جن کو کوئی مالی امداد گورنمنٹ کی جانت سے شاید نہیں ملتی اور کہیں سے بھی نہیں ملتی ہے صرف ہم خود ہی تھے اور وہ خود یہ بچے خود بھی اپنا پیسے بھی کمارے ہیں گھر بھی چلا رہے ہیں سکول بھی چل رہے ہیں اور اس کو اب اگر یہ جس طرح براؤڈ لیول پہ لے جانا چاہتے ہیں دنیا کے لیول پہ تو اس کے لیے کسی ایک شخص کو آگے قربانی دینی کرتی ہے اور وہ قربانی کے لیے ہمارے پاس ریحان ہے کہ وہ جب مردی ہے امریکہ پکڑ کے لے جائیں جب مردی ہے سیوزر لین لے جائیں تو جہاں بھی دنیا میں ضرورت ہوگی تو ایک فرنٹ من جنرل چاہیے ہوتا ہے کیونکہ جنگیں جو ہے جنرل لڑتے ہیں پیادے نہیں لڑتے تو اگر جنرل کامیاب ہے تو آگے فوج بھی کامیاب ہے تو اس کام کے لیے میں میں سمجھتا ہوں کہ ریان کے ساتھ جتنا بھی کالابریشن کیا جائے وہ کم ہے ہمارے ریموٹ ایریاز میں بہت ضرورت ہے بلوچستان میں بہت ضرورت ہے سکول نہیں ہے لیکن بچوں کا ٹیلنڈ جو ہے وہ بہت ہے اس ٹیلنڈ کو ہم جو ہے اسی طریقے سے اے آئی کے تھرو امریکہ سے انگلینڈ سے آئرلینڈ سے کنیک کرتے ہیں ملا سکتے ہیں تو اس میں میں سمجھتا ہوں کہ ریحان سکول کے ساتھ ایک بہت بڑا کام کیا جا سکتا ہے اب تو آپ بولیں بس میں یہ ریکویسٹ کروں گا کہ جو لوگ آپ کو ہیسٹن میں جانتے ہیں وہ آپ سے ملاقات بھی کر لیں اور وہ آپ سے ایکسپیرنس بھی لیں اور آپ کے ساتھ کبھی شرکت کے لیے کراچی بھی آئیں ہمارے بچوں کے ساتھ کواپریٹ کریں ملیں دو چیزیں ہم نے ایکسٹر شروع کی ہیں ایک تو ہمارے بچے جو تیار ہونا شروع گئے ہیں ان کو ہم انٹرنشپس آفر کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ میں آپ جیسے لوگوں کے ساتھ تین گھنٹے روز کام کیا کریں ویٹس ایپ پہ کمپیوٹر پہ جو آپ کو کام ہے آپ ان کو دے دیں وہ آپ کو فری آف چارج تین مہینے تک آپ کے ساتھ شاگرد ہو جائیں گے چھوٹا ہو جائیں گے تو وہ آپ کی زندگی کو آسان کر دیں گے دوسرا ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہاں پر اٹھارہ پرسنٹ جو انسان رہتے ہیں وہ سکسٹی فائیو سے زیادہ بڑے ہیں امریکہ کے اندر اسی میلین لوگ ہیں جو کہ ان کا تو ایک پروگرام بھی شروع ہو رہا ہے آپ کا ایک مہینے کا پروگرام شروع ہو رہا ہے ڈاکٹر چرانیا کے ساتھ ہم نے وہ پروگرام بھی شروع کر دیا ہے کہ جو ایلڈرلی کمیونٹی ہے وہ ہم سے یہ سب سیکھے اور پھر ہمارے ساتھ جڑ جائے اور ہمارے بچوں کے ساتھ بھی جڑے اور ان کو منٹر کرے گائیڈ کرے باتیں کرے بور ہو رہے ہوتے ہیں بہت سارے لوگ یہاں پہ وہ ان سے فائدہ محنت کرتے رہتے ہیں بات کرتے رہتے ہیں تو میں آپ سے بہت شکریہ ہیوستن امریکہ کا چوتھا بڑا سٹی ہے ایڈیوکیشن کے حوالے سے بھی یہاں پہ تقریبا کافی اچھے کالیجز ہیں سکولز ہیں میڈیکل لیول تک ہے اور اس کے علاوہ کوئی دھائی سو کے قریب مساجد ہیں مساجد کا جو فنڈ ہے وہ ہمارے پورے سال جو بلوچستان کا بجٹ ہے اس سے بھی زیادہ ہے ان کو بھی ہم ریکویسٹ کرتے ہیں کہ آئی ایس جیج کے حوالے سے اس وقت بہت اچھی ٹیم ہے ان کو جو بھی ہیلپ چاہیے ریان سکول کے حوالے سے ان سکول کو ہیلپ کرنا چاہیے کورنگی میں جو سکول تھا اس سکول کے کورنگی کا علاقہ اگر آپ کراچی کو جانتے ہیں تو میرے قیالے موسٹ ویکورڈ ایریا ہے جہاں پہ بہت ہی غریب بچے تھے جن کو کوئی امید نہیں تھی کہ وہ بچے کبھی سکول جا سکیں گے کیونکہ والدین وہاں پہ ایفورڈ ہی نہیں کر سکتے تھے لیکن میں ان بچوں سے ملا ان بچوں نے انٹرڈیوز کیا اور ٹیچر پیچھے تھے وہ بچے آگے انٹرڈکشن کرا رہے تھے اور پاکستان کی جو مایا ناز لوگ تھے ان کی تصویر وہاں لگی ہے بچوں کو پتہ ہے وہ ڈائریکٹلی ان سے ڈائریکٹ کنٹیکٹ کر سکتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ this is the best place اس کلپ کو جائن کریں ان بچوں کے ساتھ کافی پیئیں آپ وہاں کا کراچی میں جا کے وزیت کریں اور پھر اس کو پاکستان میں پھیلائیں یہ صرف کراچی کا مطلب نہیں ہے ہمارے پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ اللہ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے اور اس کو یوز کرنا چاہئے تمام اسپیشلی گلگت بلتستان کا جو ایریا ہے وہاں کی پوری ٹیم آئی تھی یہاں ہیوسٹن ابھی پچھلے مہینے تھے یہاں انہوں نے بتایا کہ وہاں پہ وسائل نہیں ہیں ان کو ضرورت ہے تو وہاں پہ بھی ہم ہیلپ کر سکتے ہیں تو انشاءاللہ ہمارا پورا تعاون رہے گا اور اس علم کو لے کے ہم ہر فیلڈ میں یہ نہیں کہ صرف ایڈوکیشن پانی کے حوالے سے انرجی کے حوالے سے انوائرمنٹ کے حوالے سے ہر بچہ وہاں پہ ایک آپ کو فیوچر کا سکالر نظر آئے گا ان کو ہیلپ کرنا ہمارا کام تو یہ چیز میں کلیئر کر دوں کہ ہم کوئی فنڈنگ نہیں دھونگے کوئی پیسے نہیں مانگے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں سٹوڈنٹس چاہیے اور یہاں پہ جو آپ کے بچے ہیں وہ ہمارے ساتھ انرول کریں اور جن بڑے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ انرول کریں اور پڑھیں اور ہر بچے کے پاس ایک والا والی ہوتا ہے تو وہ ویسے ہی کوئی پانی والا ہے کوئی کلائمٹ والا ہے کوئی انرجی والا ہے وہ کر رہا ہے اور آپ ان بچوں کے ساتھ مل کے ہی سارے کام اپنے کر سکیں گے انشاءاللہ تعالی بہت بہت شکریہ Thank you, thank you Rayan bhai Most welcome